پاکستان کی جنریشن زی انقلاب لانے کے قابل کیوں نہیں؟

سوشل میڈیا انقلابیوں کا ماننا ہے کہ پاکستان میں اقتدار پر براجمان عمر رسیدہ ٹولے کا دور ختم ہو چکا ہے، بنگلہ دیش اور نیپال کی طرح پاکستانی نوجوان نسل بھی جلد بومرز،(Boomers) ریاست اور اقتدار کے مراکز کے بنائے ہوئے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے قابض حکمرانوں کو گھر بھجوانے والی ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور گلوبلائزیشن کے زمانے میں آنکھ کھولنے والی پاکستانی جنریشن زی پی ٹی آئی کیلئے نفرت، جذباتیت اور کلٹ کا آسان اور سستا ایندھن بن چکی ہے۔ جنریشن زی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کسی واضح نظریے، سیاسی بصیرت اور عملی منصوبہ بندی کے بغیر معاشرے میں کوئی مثبت اور دیرپا تبدیلی لے آئے گی، ایک رومانوی خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ نسل اس وقت معلومات کے ایک ایسے سیلاب میں بہہ رہی ہے جس میں شعور اور فہم کے بجائے ردِعمل، غصہ اور فوری جذباتی تسکین کو فوقیت حاصل ہے۔ سوشل میڈیا پر دستیاب لامتناہی مواد نے انہیں ایک ”موب“ میں تبدیل کر دیا ہے جس سے خیر کی توقع رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔
اس حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار بلال غوری کا اپنے ایک تازہ سیاسی تجزیے میں کہنا ہے کہ آج کل سوشل میڈیا پر پاکستانی سپر سٹار فضیلہ قیصر کے فرزند کے انگریزی زبان میں لکھے گئے ایک مضمون کے بہت چرچے ہیں۔ انکا استدلال یا یوں کہیں خیال ہے کہ ’’اقتدار میں بیٹھے ہوئے عمر رسیدہ ٹولے کیلئے اب سب ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل وہ سب کچھ خریدنے کو تیار نہیں جو آپ انہیں بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ آگے چل کر یہ نوجوان لکھتے ہیں ’’نوجوان ذہن، یعنی جنریشن زی اور الفا، بخوبی جانتے ہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے وہ سب کچھ جانتی ہے، سب کچھ دیکھ رہی ہے اور اب فیصلہ کر چکی ہے کہ وہ بومرز، ریاست اور اقتدار کے مراکز کے بنائے ہوئے بیانیے کو مسترد کر دے گی۔ پاکستانی سیاست میں عمر رسیدہ لوگوں یعنی بومرز (Boomers) کیلئے اب سب ختم ہو چکا ہے۔ انکا کوئی مستقبل نہیں۔ بلال غوری کے مطابق نوآموز لکھاری کی بات سے پی ٹی آئی کے طفلان انقلاب نے یہ تاثر لیا کہ شاید مضمون میں میاں نواز شریف، شہباز شریف ،آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور اس عمر کے دیگر پی ٹی آئی مخالف سیاستدانوں کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ خود 73سالہ مرشد یعنی قیدی نمبر 804بھی بومر ہیں اور وہ بھی انہی ریٹائرڈ بابوں میں شمار ہوتے ہیں جن کا دور ختم ہوچکا ہے۔
بلال غوری کے مطابق فضیلہ قاضی کے بیٹے کا سامنے آنے والا مضمون پاکستانی جنریشن زی کے لوگوں کی سوچ اور فکر کا حقیقی آئینہ دار ہے۔ مضمون میں لکھاری نے خود اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس لائبریریاں نہیں ہیں، وہ کتابیں نہیں پڑھتے، سوشل میڈیا پر ہو رہے پروپیگنڈے کو حرف آخر سمجھتے ہیں، چونکہ انہیں تاریخ اور ماضی سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں، اسلئے جب کوئی انہونی ہوتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ موضوع کتنا ہی سنجیدہ کیوں نہ ہو، یہ اسے میمز بنا کر ہنسی مذاق میں اُڑانا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ جنریشن زی سے مراد وہ نوجوان لیے جا رہے ہیں جو تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور بومر وہ بڑی عمر کے لوگ ہیں جو دوسری جماعتوں کا حصہ ہیں ’’جین زی‘‘ یا جنریشن زیڈ جنہیں زومرز (Zoomers) بھی کہا جاتا ہے، یہ وہ بچے ہیں جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں پیدا ہوئے ہیں۔ بعض ماہرین عمرانیات کے مطابق 1997ء سے 2012ء کے دوران جنم لینے والے بچے اس جنریشن میں شمار ہوتے ہیں جبکہ کچھ ماہرین 1990ء میں پیدا ہونے والوں کو بھی جنریشن زی میں شمار کرتے ہیں۔ یہ ہمارے عہد کے وہ چالاک بچے ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور گلوبلائزیشن کے زمانے میں آنکھ کھولی، ہاتھوں میں موبائل فون اور ٹیبلٹ لیکر پیدا ہوئے۔ اس نسل کا المیہ یہ ہے کہ معلومات کے سمندر میں ہچکولے کھاتے پھرتے ہیں مگر علم کی پیاس نہیں بجھتی کیونکہ ان کیلئے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک حقیقت وہی ہے جو سوشل میڈیا پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے ہاں دنیا اس قدر سرعت سے تبدیل ہوئی ہے کہ اب وہ ہر وقت تغیر و تبدل کے منتظر رہتے ہیں۔ بہت جلد اُکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ انتظار کی کوفت سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ایک بٹن دبانے سے، کوئی Reel بنانے سے یا ٹرینڈ چلانے سے سارے مسائل حل ہوجائیں۔ انہیں لگتا ہے کسی ایک مضمون کی اشاعت سے سب کچھ بدل سکتا ہے۔ جنریشن زی کی اس بیزاری اور اُکتاہٹ کو ایک طرف پاپولسٹ لیڈر اپنے ایجنڈے کیلئے استعمال کرتے ہیں تو دوسری طرف غیر ملکی طاقتوں کیلئے ناپسندیدہ حکومتیں گرانا اور دشمن ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا آسان ہوگیا ہے۔ مگر ایک بات پر اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ جین زی اور باقی معاشرے کے درمیان کمیونیکیشن گیپ میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک دشمن قوتیں اسی کمزوری کا فائدہ اُٹھا رہی ہیں۔
تاہم بعض دیگر مبصرین کے مطابق پاکستانی جنریشن زی کا برا المیہ یہ ہے کہ وہ سوال اٹھانے کی صلاحیت ہی کھو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے جنریشن زی کلٹ میں بدلتی جا رہی ہے کیونکہ جب سوال کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ پھر کلٹ ہی دلیل ہوتا ہے اور کلٹ ہی معیار۔ سوال اٹھانے والے کو گالیاں دی جاتی ہیں اور چیزوں کو کسی قاعدے اور اصول پر نہیں پرکھا جاتا، انہیں کلٹ کے مفاد پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ اسی لئے پی ٹی آئی سے وابستہ پاکستانی جنریشن زی میں سے کوئی سوال نہیں اٹھاتا کہ آپ نے تو پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا تھا تو بعد میں آپ نے پارٹی کی صوبائی قیادت انہیں کیسے سونپ دی؟ کیا آپ کو یہی کوالیفیکیشن درکار تھی؟ آپ تب غلط تھے یا اب غلط ہیں؟ آپ نے رائے بدلی ہے یا آپ کا مفاد بدلا ہے؟
جنریشن زی یہ سوال بھی نہیں اٹھاتی کہ ماضی میں آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دینے کے پیچھے کون سی حکمت تھی۔ وہ یہ سوال بھی نہیں اٹھاتی کہ آپ کی جدوجہد آئین کی بالادستی کے لیے ہے یا پارٹی کے خانہ ولدیت میں اسٹیبلشمنٹ کا نام دوبارہ لکھوانے کے لیے ہے۔جنریشن زی کی کمر پر کبھی عثمان بزدار جیسا وزیراعلیٰ بٹھا دیا گیا تو کبھی علی امین گنڈا پور اور سہیل آفریدی جیسا، جنریشن زی نے ایک بار بھی پلٹ کر یہ سوال نہیں پوچھا کہ اس بوجھ کی افادیت کیا ہے۔ کون سا میرٹ ہے جس کی وجہ سے ان نااہلوں کو صوبوں کی قیادت سونپی گئی ہے۔جنریشن زی نے کبھی یہ نکتہ نہیں اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں اتنے سال کے اقتدار کے بعد پارٹی کی کارکردگی کیا ہے، ہم کب تک دوسروں کی خامیوں پر معتبر بنے پھریں گے اور بطور حکمران ہماری جماعت کا اپنا نامہ اعمال کیا ہے۔
جنوبی ایشیائی سیاست میں طوفان برپا کرنے والی4خواتین کون؟
جنریشن زی کبھی کسی یوٹرن سے بد مزہ نہیں ہوئی۔ وہ صرف سنتی ہے اور اطاعت کرتی ہے۔ ہر حال میں اطاعت کرتی ہے، ہر غلطی کو ماسٹر اسٹروک قرار دیتی ہے، اس نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ باقاعدہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجنا اگر غلط ہے تو ایک وزیراعظم کو ایک مشکوک فیصلے کے ذریعے تاحیات نا اہل قرار دے کر گھر بھیجنا کیسے درست تھا۔ مذمت کرنی ہے تو دونوں کی کیوں نہ کی جائے۔ انہوں نے کبھی استفسار نہیں کیاکہ اگر تحریک انصاف کی حکومت امریکا نے ختم کروائی تو پھر امیدیں اسی امریکا کے صدر ٹرمپ سے کیوں باندھی گئیں کہ وہ ایک فون کال کرے گا اور خان صاحب رہا ہو جائیں گے۔ اس جنریشن نے کبھی اپنی قیادت سے اس تضاد پر جواب طلب نہیں کیا کہ دوسروں کو عدالتیں سزا سنائیں تو وہ سرٹیفائیڈ چور ہوتے ہیں لیکن آپ کو سزا سنائی جائے تو آپ کو چور کیوں نہ کہا جائے۔ ناقدین کے مطابق یہ شعور نہیں ہے۔ یہ بدترین فکری اور شعوری استحصال ہے۔ جنریشن زی اس استحصال کا شکار اس لیے ہوئی کہ وہ سوال نہیں اٹھاتی، اس کا مطالعہ محدود ہے۔ وہ کتابوں کی نہیں، سوشل میڈیا کے تھمب نیل کی قتیل ہے۔ وہ کسی بھی سنجیدہ موضوع پر مکالمے اور مطالعے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ وہ دو فقروں کے بعد ہانپ جاتی ہے اور چھلانگ لگا کر نتیجے پر پہنچ جاتی ہے اور نتیجہ بڑا سادہ ہے: ہمارا کپتان ایماندار ہے باقی سب چور اچکے اور بے ایمان ہیں۔
