پاکستان کو سفارتی محاذ پر بہت احتیاط سے کیوں چلنا ہوگا

معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد پاکستان کو دوسرے ممالک خصوصی خلیجی دنیا سے تعلقات میں بہت احتیاط برتنا ہو گی کیونکہ ذرا سی بے احتیاطی سے دونوں میں سے کوئی بھی ملک ناراض ہو سکتا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ دسمبر 2025ء میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جو بتا گئے کہ آنیوالا وقت صرف پاکستانیوں کیلئے نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرناک ہے ۔ مئی 2025 ء میں پاکستان نے جنگ میں بھارت کو شکست دیگر پوری دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کیا اور امریکی صدر ٹرمپ اچانک پاکستان کے بہت بڑے پرستار بن گئے۔ پھر اسرائیل نے ایران اور قطر پر حملہ کر دیا۔ ان دو حملوں کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کر لیا جس پر پاکستانیوں نے بڑا جشن منایا۔ اس معاہدے کے کچھ ہی دنوں بعد مصر کے شہر شرم الشیخ میں صدر ٹرمپ نے پاکستان سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کے قائدین کے ہمراہ غزه امن پلان کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر حماس اور اسرائیل میں سیز فائر کا ایک معاہدہ بھی ہوگیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ یوں ایک مرتبہ پھر بڑا جشن منایا گیا کہ اب فلسطینیوں کا قتل عام بند ہو جائیگا لیکن افسوس کہ یہ قتل عام بند نہ ہوا ۔ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری رہا اور آہستہ آہستہ ٹرمپ کا امن پلان دراصل غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کر کے دیگر ممالک میں بسانے کا منصوبہ بن کر سامنے آیا۔ اس ناچیز نے ٹرمپ کو غزہ کی ملت ِمظلوم کا نیا خریدار قرار دیکر گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر تنقید کی تو دائیں بائیں سے کچھ مہر بانوں نے لفظی گولہ باری شروع کردی اور امن پسندی کا لبادہ اوڑھ کر کہا کہ آپ تو چاہتے ہیں کہ فلسطینی مرتے رہیں اور انکی لاشوں پر آنسو بہانے کا کام جاری رکھیں۔ مجھ پر اس تنقید میں اُسوقت مزید اضافہ ہوا جب میں نے پاکستانی فوج کو غزہ بھیجنے کی مخالفت کی اور گزارش کی کہ اپنی فوج کو فلسطینیوں کے مقابل نہ لائیں۔ پھر دسمبر 2025 ء آ گیا۔ پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ پاکستانی فوج حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے غزہ نہیں جائیگی۔ پاکستان نے یہ فیصلہ اکیلے نہیں کیا تھا۔ سعودی عرب اور ترکی سمیت کئی اہم مسلم ممالک نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان غزہ میں اسرائیل کے فوجی اہداف کے حصول میں مددگار نہیں بنے گا۔ پاکستان کا یہ درست فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے بہت بُری خبر تھی کیونکہ ٹرمپ غزہ امن پلان کو کامیاب کرنے کے بعد پاکستان سمیت بہت سے مسلم ممالک کو معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنانا چاہتے تھے ۔ انکا خیال تھا کہ جلد ہی پاکستان اور سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔
حامد میر کے بقول پاکستان کی طرف سے غزہ فوج نہ بھیجنے کے فیصلے کے فوری بعد اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا متنازعہ اعلان کر دیا ۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ وہاں غزہ کے فلسطینیوں کو بسایا جائے ۔ صومالی لینڈ سے قبل صرف انڈونیشا نے غزہ کے فلسطینیوں کو اپنے ملک میں بسانے پر آمادگی ظاہر کی تھی اب ایک اور ملک اسرائیل کا مددگار بن گیا تھا۔ اسرائیل کی طرف سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے نے ٹرمپ کے نام نہاد امن پلان کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ۔ پاکستان سمیت او آئی سی کے دیگر رکن ممالک نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ صومالیہ کی سالمیت پر حملہ قرار دیدیا ۔پاکستان نے اقوام متحدہ میں واضح کر دیا کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر صومالی لینڈ میں بسانے کا منصوبہ ناقابل قبول ہے ۔
ابھی ہم اس خوفناک منصوبے کی مذمت میں مصروف تھے کہ دسمبر 2025 ء ایک اور بُری خبر لیکر آیا ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات آمنے سامنے کھڑے ہو گئے ۔ سعودی عرب نے الزام لگایا کہ امارات کی طرف سے یمن کے علیحدگی پسندوں کی مدد کی جا رہی ہے جو سعودی عرب کی سالمیت کیلئے بھی خطرہ ہیں ۔ پوری دنیا کی توجہ صومالی لینڈ سے یمن کی طرف چلی گئی جہاں سعودی فورسز نے یمنی علیحدگی پسندوں کیلئے ہتھیار لیجانے والے ایک بحری جہاز پر حملہ کر دیا۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں پیدا ہونے والی اس کشیدگی کو کم کرانے کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف اورڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی سرگرم ہو گئے ۔ پاکستان اور کچھ دیگر ممالک کی کوششوں سے امارات نے یمن سے اپنی فورسز کو واپس بلانے پر آمادگی ظاہر کردی ہے لیکن یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا ۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں تنازعات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ امارات اور سعودی عرب میں البریمی اور العین کے علاقوں کے کنٹرول پر تنازعے کو شیخ زاید بن سلطان اور شاہ فیصل نے جدہ معاہدہ کے ذریعہ حل کرنے کی کو شش کی تھی۔ شیخ زاید اور شاہ فیصل دونوں ہی پاکستان کے دوست تھے۔ یہ معاہدہ 1974 ء میں ہوا اور اس معاہدے کے پیچھے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک خاموش کردار ادا کیا جس کی تفصیل ہمارے دفتر خارجہ کی فائلوں میں بند ہے ۔ اس معاہدے کے بعد ہی سعودی عرب اور امارات کے سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے ۔ پھر دونوں ممالک طویل عرصہ تک ایک دوسرے کے اتحادی بنے رہے ۔
دونوں نے 2015 ء میں ملکر یمن میں فوجی مداخلت کی کیونکہ یمن سے ان دونوں کو شکایت تھی۔ دونوں نے2017ء میں ملکر قطر پر دباؤ ڈالا کہ وہ انکے مخالفین کو پناہ نہ دیا کرے ۔ 2020ء میں امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا اور یوں امارات کے سعودی عرب سے راستے جدا ہونےلگے۔ یمن سے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے اندر مداخلت کو بڑھا دیا۔ ان باغیوں کو امارات کی حمایت حاصل تھی۔ دوسری طرف سوڈان میں بھی سعودی عرب اور امارات ایک دوسرے کے سامنے آگئے ۔ سعودی عرب کا الزام ہے کہ امارات وہاں بھی سوڈان کی حکومت کے باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ امارات اس الزام کی تردید کرتا ہے ۔ امارات کا دعویٰ ہے کہ سعودی حکومت بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر انکے علاقائی دفاتر امارات سے سعودی عرب منتقل کروا رہی ہے۔ ان دونوں برادر ممالک کے اختلافات کافی عرصہ تک چھپے رہے لیکن اب دنیا کے سامنے آگئے ہیں ۔
حامد میر کے بقول پاکستان کو چاہیے کہ او آئی سی کے ذریعہ ان اختلافات کو طے کروائے کیونکہ فی الحال ان اختلافات کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل اُٹھائے گا۔ انکا کہنا یے کہ دنیا ایک تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس جنگ کی بڑی وجہ نیتن یاہو بنے گا۔ اس جنگ سے بچنا ہے تو 2026 میں سب کو مل کر نتین یاہو کو روکنا ہے۔ نیتن یاہو اور اسکے اتحادی وزیر اعظم مودی کے خلاف پاکستان کی آواز پر دنیا تب توجہ دےگی جب پاکستان کے اندر بھی سیاسی استحکام نظر آئیگا۔ آج پاکستان برادر مسلم ممالک میں مفاہمت کیلئے جو اہم کردار ادا کر رہا ہے وہی کردار پاکستان کے اندر بھی نظر آنا چاہیے۔
