بلاول بھٹو اور مریم نواز کے مابین جنگ چلتی کیوں رہے گی ؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے مابین لفظی جنگ کے بعد سیز فائر ہو بھی جائے تو بھی بلاول بھٹو اور مریم نواز کے مابین باہمی کشمکش جاری رہے گی، بنیادی وجہ یہ ہے کہ دونوں ہی اگلے الیکشن کے وقت وزارت عظمی کے امیدوار ہوں گے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ توقع تو یہی ہے کہ سیز فائر کے بعد وقتی طور پر دونوں جماعتوں کے مابین لفظی جنگ تھم جائے گی، لیکن بلاول بھٹو اور مریم میں مقابلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔ انکا کہنا ہے کہ اصل میں یہ جنگ وقت سے بہت پہلے شروع ہو گئی۔ الیکشن قریب آنے پر اگر یہ لڑائی ہوتی تو سمجھ آتی، فی الحال یہ ناقابل فہم تھی۔ لیکن بظاہر اس لڑائی سے مریم کو سیاسی فائدہ ملتا نظر آتا ہے۔ ان کا پنجاب پرست بیانیہ گو صوبائی تفریق کا باعث بنے گا لیکن نون لیگ کے پاس کوئی سیاسی بیانیہ نہ ہونے سے یہ بیانیہ بہتر ہے۔ پاکستان کی سیاست میں صرف کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن نہیں جیتا جا سکتا، بیانیہ اور کارکردگی دونوں مل کر ہی دیرپا کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔
سہیل وڑائج کا کہنا ہے مستقبل کی وزارتِ عظمیٰ کے دو متوقع اور متحارب امیدواروں مریم نواز اور بلاول بھٹو کے درمیان کشمکش اور کشیدگی کا حد سے بڑھنا فوج اور موجودہ سیٹ اپ دونوں کے مفاد میں نہیں۔ اس لیے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی جنگ کو حد سے ذیادہ بڑھنے سے پہلے ہی روکنے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ چنانچہ ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی جھوٹی امیدوں کے پھول بن کھلے ہی مرجھا جائیں گے۔ وزیرداخلہ اور صدر زرداری کی نواز لیگ کے وفد سے ملاقات کے بعد تاریں کھڑک گئیں اور آئندہ ایک دو روز میں مکمل جنگ بندی ہو جائے گی۔ اس کے بعد تحریک انصاف کے دشمن ٹھکانوں پر پھر سے مشترکہ حملے شروع ہو جائیں گے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی والے ہمیشہ سے نظریاتی حریف رہے ہیں اور اب بھی ہیں مگر مجبوریوں اور مصلحتوں نے انہیں مخلوط طرز حکومت کی طرف دھکیلا ہوا ہے۔ زرداری صاحب تو شاید اگلے انتخابات کے بعد کوئی حکومتی عہدہ نہ لیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ بلاول بھٹو کو اگلا وزیراعظم بنانے کی راہ ہموار ہو جائے۔ بلاول من موجی نوجوان ہیں، وہ اپنی مرضی کی سوچ اور اپنی راہ پر چلتے ہیں۔ انکا فوج سے اختلاف ہو یا اپنے اتحادیوں سے، آصف زرداری ان کی مصالحت کرواتے رہتے ہیں۔ لیکن کئی مرتبہ ان کا بس نہیں چلتا تووہ اپنے اکلوتے بیٹے اور جانشین کی ضد ماننے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف کی جانب سے مریم کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے سیاسی اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ شروع میں مریم کا تحکمانہ انداز پسند نہیں کیا گیا تھا۔ بیوروکریٹس کی میٹنگ ہو یا پارلیمانی محفل، مریم اپنی خودمختاری اور آزادی کا اظہار کرتی تھیں اور اب بھی کرتی ہیں۔ اپنے والد نواز شریف کی طرح مریم نواز بھی سرِ محفل ناقدانہ مشورے سخت ناپسند کرتی ہیں البتہ محفل سے الگ مشورہ وہ غور سے سنتی بھی ہیں اور اکثر مان بھی لیتی ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق مریم نواز اور بلاول دونوں کو باقی نوجوان سیاستدانوں پر یہ برتری حاصل ہے کہ میدان سیاست میں انہیں اپنی وراثت کی وجہ سے کرشماتی حیثیت مل گئی۔ بلاول اور مریم شروع میں اسی وجہ سےچمکے، یہ دونوں جہاں بھی جاتے ہیں ان کے سیاسی پس منظر کی وجہ سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں، کرشماتی حیثیت ہونا کوئی ذاتی کمال نہیں ہوتا، اس کی وجہ آپکا ماضی ہوتا ہے لیکن مریم اور بلاول کے لیے اصل امتحان کرشماتی شخصیت سے خود کو دِلوں میں اتر جانے والی شخصیت بنانا ہوتا ہے۔ بھٹو شہید کرشماتی شخصیت تو شروع سے تھے مگر انہوں نے اپنے بیانیے اور لوگوں کے دل میں اتر جانے کی خوبی کی وجہ سے عوام کو تسخیر کر لیا۔
بینظیر بھٹو کرشماتی شخصیت کے طور پر سیاست میں آئیں، مگر قید و بند کے سخت ترین امتحانوں سے گزر کر وہ کندن بن گئیں۔ ان کے دل میں غریبوں کیلئے جینوئن محبت تھی۔ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے پسینے میں شرابور خواتین کو گلے لگا کیا کرتی تھیں، وہ گلی کوچوں میں کھیلنے والے ننگے پیروں والے، ناک بہتے بچوں کے پاس رک کر ان سے اظہار محبت کیا کرتی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جلسوں میں اپنے ورکرز کے نام لیکر ثابت کیا کرتے تھے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔ جلسوں میں وہ کبھی فرطِ جذبات میں مائیک گراتے اور کبھی اپنے کپڑے غریبوں کی طرف اچھال کر جیالوں کو خوش کر دیتے۔ کھلے بازوئوں والے عوامی سوٹ کا رواج انہوں نے شروع کیا، عوامی زبان اور سیاسی طعنوں سے وہ اپنے مجمع کے جذبات کو عروج تک پہنچا دیتے تھے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سو اختلافات کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ عمران خان بیانیہ بنانے اور پھیلانے میں بازی لے گئے۔ انہیں ان کی وجاہت اور کرکٹ نے کرشمہ تو دیا تھا لیکن فنِ تقریر انہوں سیاست میں آ کر سیکھا اور پھر وہ سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے چھا گئے۔ عمران کا کرشمہ انہیں شروع کے الیکشن تو نہ جتوا سکا لیکن انکا بیانیہ بک گیا اور اسی نے انہیں مقبولیت دلوائی۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی جنگ سے اسٹیبلشمنٹ پریشان
سہیل وڑائچ کے بقول بلاول بین الاقوامی ویژن سے بہتر طور پر مزین ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے زیر سایہ تربیت پانے کی وجہ سے وہ نظریاتی ایشوز پر واضح دسترس رکھتے ہیں، اپنے نانا اور اپنی والدہ کے وارث کی حیثیت سے ان میں غریبوں اور عوام سے محبت کوٹ کوٹ بھری ہے لیکن وہ بھٹو اور بے نظیر کی طرح عوام میں گھلتے ملتے نہیں۔ وہ بھٹو کی طرح جپھیاں نہیں ڈالتے، وہ پسینے میں ڈوبے مزدوروں کے ساتھ محفل نہیں جماتے۔ ویسے بھی بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سے پیپلز پارٹی پنجاب میں کوئی بیانیہ بنانے سے قاصر ہے۔ ادھر جب تک پنجاب میں پیپلز پارٹی 25 سے زائد نشستیں نہیں لیتی تب تک بلاول کا وزیر اعظم بننا ممکن نہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ فوج موجودہ سیٹ اپ چلانا چاہتی ہے اور اس بارے میں کھلےعام عندیہ بھی دیا جاتا ہے۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز کے درمیان مقابلے میں فی الحال مریم نواز فوج کی زیادہ پسندیدہ لگ رہی ہیں۔ ایک بات تو سب پر واضح ہے کہ اصل مقابلہ پنجاب میں ہے۔ سیاست میں عمران خان کے ساتھ اصلی جوڑ پنجاب میں ہی پڑنا ہے اور اگر مریم پنجاب میں ڈیلیور کر جاتی ہیں تو ہی نون اور فوج نئے الیکشن کی طرف جا سکیں گے۔
