ٹرمپ کی جیت سے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کیوں نہیں آئے گی؟

امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑنے والا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب نہ تو ماضی کی طرح پاکستان امریکہ کے لیے اتنی اہمیت کا حامل رہا ہے اور نہ ہی پاکستان کے امریکہ سے کوئی بڑے معاشی یا دفاعی مفادات وابستہ ہیں۔

بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی الیکشن میں جیت کے باوجود امریکہ کی پاکستان بارے پالیسی میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کافی سرد مہری آ چکی ہے۔ ماضی میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ اگر امریکی انتظامیہ کے پاکستانی حکومت سے تعلقات اچھے نہیں بھی تو بھی اسکے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات ضرور ہوتے تھے۔ تاہم جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری کے بعد سے نہ تو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہیں اور نہ ہی پینٹاگون اور پاکستان آرمی کے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عاصم منیر پاکستانی تاریخ کے پہلے جرنیل ہیں جنہوں نے کسی امریکی وار کالج سے کوئی کورس نہیں کیا ہوا۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر عمران خان کے حمایتی یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے تو بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر آ جائیں گے۔

 لیکن ٹرمپ کے صدر بننے سے عمران خان کے اقتدار کی امید لگانے والے یوتھیے بھول گئے کہ ماضی قریب میں وہ ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ لگاتے رہے ہیں اور موصوف نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام بھی امریکہ پر ہی عائد کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپ پاکستان اور امریکہ کے وہ تعلقات نہیں رہے کہ ٹرمپ کے اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالنے سے عمران خان جیل سے باہر آ جائیں۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے نرم گرم تعلقات کی تاریخ صرف افغانستان تک محدود نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں دونوں اکثر ایک دوسرے کو ایک ہی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھنے والے دونوں جانب تبدیل ہوتے رہے ہیں، لیکن عینک وہی رہتی ہے۔ تاہم سابقہ دور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ دور اقتدار میں امریکی کے پاکستان سے تعلقات اچھے نہیں تھے۔

میں کوئی جنگ شروع نہیں کروں گا بلکہ جنگوں کو ختم کروں گا :ڈونلڈ ٹرمپ

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ ہمیشہ سے پاکستان کو سکیورٹی تناظر میں ہی دیکھتا آیا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں سے واشنگٹن میں جب بھی پاکستان کا نام لیا گیا تو عموماً اسے افغانستان کے حوالے سے اہمیت دی گئی ہے۔ تاہم بائیڈن انتظامیہ میں امریکہ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں انڈیا کو کافی زیادہ اہمیت دی گئی جس کے نتیجے میں واشنگٹن اور اسلام آباد میں کافی دوریاں پیدا ہو گئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی بارے کوئی پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ ٹرمپ کو پاکستان کی ضرورت ہے اور نہ پاکستان کو ٹرمپ کی۔ امریکہ کے پاکستان سے نظریں پھیرنے کے بعد اسلام آباد اب بیجنگ کے اور بھی زیادہ قریب ہو چکا ہے اور دنیا میں مزید نئے اتحادی بھی بنا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق  امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں امریکہ کے انڈیا سے اور افغانستان کے پاکستان سے تعلقات کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے انڈیا اور افغانستان دونوں کے ساتھ تعلقات نچلی ترین سطح پر پہنچے ہوئے ہیں۔ ویسے بھی افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد سے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، بلکہ افغان حکومت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کے باوجود امریکہ نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی اسے کسی قسم کی مدد کی پیشکش کی ہے۔ جہاں تک انڈیا کا تعلق ہے تو وہ دنیا کی ایک بڑی معیشت ہے لہٰذا امریکہ بھارت کو یقینا پاکستان پر ترجیح دیتا ہے اور دیتا رہے گا۔

Back to top button