کیا سول مارشل لگنے کے بعد عمران کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوگا ؟

معروف تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ چار فوجی مارشل لاز سہنے والا جناح کا پاکستان اب تیزی کے ساتھ ایک سول مارشل لا کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 26ویں ترمیم کے تحت آئینی بینچ تشکیل دیے جانے کے بعد اب فوجی عدالتوں بارے بھی فیصلہ ہونے جا رہا اور عین ممکن ہے کہ 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں عمران خان کا ٹرائل بھی کسی فوجی عدالت میں ہو ۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ آج بدقسمتی سے تحریک انصاف کے بعض رہنما وہی گندا کردار ادا کر رہے ہیں جو 1979 میں پی پی پی اور 1999 میں مسلم لیگ کے بعض رہنماؤں نے ادا کیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ بانی پی پی پی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جنرل ضیا کی جانب سے مارشل لا لگائے جانے کے کچھ عرصہ بعد ضمانت پر رہا ہوئے تو ضیاء کو اندازہ ہو گیا کہ اُن کا باہر رہنا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا شاطر فوجی آمر نے سب سے پہلے بھٹو کے سب سے قریبی لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی چل چلی۔ چنانچہ اُنکی پھانسی تک پی پی پی کی مرکزی قیادت پر مبنی سینٹرل کمیٹی نے احتجاج کی کوئی کال ہی نہ دی۔ دوسری طرف جذباتی کارکن اور مقامی رہنما اپنے تئیں خود سوزی کرتے رہے، کوڑے کھاتے رہے اور پھانسی بھی چڑھ گئے ۔ اب 45سال سے یہ رہنما نعرہ لگاتے ہیں، زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، لیکن سچ یہ یے کہ جب وہ زندہ تھے تو انکی پھانسی کا انتظار ہو رہا تھا جسے بعد میں سپریم کورٹ نے جوڈیشل مرڈر قرار دیا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو پھانسی سے پہلے جنرل ضیا کی چال سمجھ چکے تھے چنانچہ انہوں نے آخری ملاقات میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کو خبردار کر دیا تھا کہ پارٹی میں کن لوگوں پر اعتبار کیا جا سکتا اور کن سے دور رہنا ہے۔ اس سب میں ایک سبق ہے۔
دراصل بھٹو سیاست کے طالب علم تھے اور صرف 32 سال کی عمر میں اقتدار تک پہنچ گئے تھے۔ اُن کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی سیاست کا آغاز ضیا مارشل لا کی مخالفت سے ہوا اور انہوں نے والد کو پھانسی چڑھتے دیکھا، بی بی نے طویل جلا وطنی بھی دیکھی، وہ واپس آئیں تو انکا پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال ہوا، انہیں 1988 کے الیکشن میں کامیابی ملی مگر ان کا اقتدار چند شرائط سے مشروط کر دیا گیا جن میں افغان پالیسی کا تسلسل اور چند وزارتیں پارٹی سے باہر کہ لوگوں کو دینا شامل تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود ان کی دو منتخب حکومتوں کو وقت سے پہلے توڑا گیا اور پھر بالاخر ان کو بھی 2008 میں شہید کر دیا گیا۔
مظہر عباس بتاتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی انٹری سیاست میں بھٹو کی سیاست کے خاتمہ کےلیے کی گئی تھی خاص طور پر پنجاب میں جس میں وہ طرز سیاست بھی اپنایا گیا جس کے بغیر شاید ایک غیر سیاسی بزنس سے تعلق رکھنے والے میاں صاحب کو مقبولیت نہیں مل سکتی تھی۔ چنانچہ ایک لسانی نعرہ ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نو لگ گیا داغ‘‘ لگایا گیا۔ پھر ہم نے میاں صاحب کا عروج بھی دیکھا اور دوتہائی اکثریت کے باوجود اقتدار سے بے دخلی بھی اور پھر عمرقید بھی۔ اس دوران اُن کے رہنماؤں کا طرز عمل بھی کم و بیش وہی رہا جو بھٹو کی پھانسی کے وقت پی پی پی کے رہنماؤں کا تھا۔ چنانچہ میاں صاحب نے مناسب یہی سمجھا کہ فوج کے ساتھ ڈیل کر کے سعودی عرب میں جلا وطنی اختیار کر لیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ ہم ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی دستاویز دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کی راہ میں اصل رکاوٹ کہاں پیدا کی جاتی ہے اور اسکو روکنے کےلیے ہی اس میثاق میں بنیاد فراہم کی گئی۔ 2008 سے 2024 تک اُنہی قوتوں کو مزید طاقت دی گئی اور آج بھی دی جا رہی ہے جن کے خلاف مفاہمت کےلیے ’’میثاق‘‘ کیا گیا تھا۔ ان دونوں جماعتوں کے اسی طرز سیاست اور خراب طرز حکمرانی نے جنم دیا ایک تیسرے آپشن کو جس کا نام ہے عمران خان۔ وہ بھی میاں صاحب کی طرح سیاسی نہیں تھا مگر شاید وہ واحد لیڈر رہا جو سیاست سے پہلے بھی اور بعد میں بھی میڈیا کی فرنٹ پیج سٹوری رہا۔ اُس وقت کے اہم فوجی کردار جنرل حمید گل نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور دیگر نے بھی کیونکہ وہ میاں صاحب اور بی بی کی سیاست اور طرز حکمرانی سے ناراض تھے۔ مگر عمران کی سیاسی اُٹھان میں 1992 ء کے ورلڈ کپ کی جیت، شوکت خانم کینسر ہسپتال کا قیام اور پی پی پی، مسلم لیگ کی آپس کی لڑائی، خراب طرز حکمرانی اور کرپشن کی ان گنت کہانیوں کا بھی بڑا کمال ہے۔
یوتھیے ججز جسٹس امین الدین کا راستہ روکنے میں کیسے ناکام ہوئے؟
مظہر عباس کے بقول عمران نے 2011 ء کے بعد جس تیزی سے مقبولیت حاصل کی اُس کا اندازہ شاید فوج کو بھی نہیں تھا۔ وہ ہماری سیاسی تاریخ کا شاید واحد سیاستدان ہے جس نے تیزی سے جرنیلوں اور ججوں کے گھروں میں جگہ بنائی۔ تاہم نواز شریف اب بھی پنجاب میں مضبوط تھے چنانچہ انہوں نے 2013 میں بھی کامیابی حاصل کی بلکہ 2016 میں پانامہ لیکس میں نااہلی اور سزا کے بعد بھی جب 2018 میں عمران کےلیے راستہ ہموار تھا تب بھی اُسے سادہ اکثریت نہیں ملی۔ تب کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کراچی سے پہلے پی ٹی آئی کی نشستوں میں اضافہ کروایا اور پھر ایم کیو ایم، باپ پارٹی اور جنوبی پنجاب محاذ کے ذریعہ عمران کی حکومت بنائی۔ تاہم اُنکے طرز حکومت میں ناتجربہ کاری اور انتقام بازی حاوی نظر آئی اور وہ جلد ہی مقبولیت کھونے لگے۔ انہوں نے زیادہ توجہ اپنے سیاسی مخالفین کو گرفتار کروانے پر دی اور انکی گورننس فارغ رہی۔ چنانچہ وہ پاکستانی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بنے جنہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فارغ کر دیا گیا۔
ایسے میں جب 8 فروری 2023 کو الیکشن ہوئے تو عمران خان نااہل ہو کر جیل میں تھے۔ حکومت سازی کے بعد 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے عمران خان کے سیاسی تابوت میں کیل ثابت ہوئے۔
