کیا اسرائیل پر میزائیل حملوں کے بعد ایران امریکہ پر حملے کرے گا ؟

ایران کی جانب سے اسرائیلی حملوں کے رد عمل میں 300 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد اب یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ایران امریکہ پر بھی حملوں کا آغاز نہ کر دے۔ چنانچہ امریکی انتظامیہ نے ایران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر  کسی امریکی فوجی اڈے یا شہری کو ٹارگٹ کیا گیا تو اس کا خوفناک نتیجہ بھگتنا ہو گا۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے پہلے امریکہ اور ایران کے مابین ایرانی نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کے لیے مذاکرات جاری تھے جو اب ختم کر دیے گئے ہیں۔ امریکہ نے وضاحت کی ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملوں میں واشنگٹن کا کوئی کردار نہیں۔   دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں اسرائیلی حملوں کا پیشگی علم تھا اور اگر ایران اسرائیل پر حملوں سے باز نہ آیا تو امریکہ اسرائیل کا ساتھ دے گا۔ ایسے میں اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران خود پر حملہ آور ہونے والے اسرائیل کے اتحادی امریکہ پر بھی میزائیل حملے کر سکتا ہے۔ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ اپنے دفاع کے لیے ضروری تھا۔ انکا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کا بنیادی مقصد ایران کی نیوکلیئر صلاحیت ختم کرنا تھا تاکہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔

دوسری جانب امریکا نےخبردار کیا کہ  اگر ایران نے امریکی شہریوں، فوجی اڈوں یا دیگر بنیادی ڈھانچے کو حملوں کا نشانہ بنایا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ امریکا نےکہا ہے کہ ایرانی قیادت کا ان حملوں کے بعد مذاکرات شروع کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہو گا، تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔امریکی صدر ٹرمپ  نے ایک مرتبہ پھر ایران کو ایٹمی صلاحیت پر ڈیل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ صدرٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کو تنبیہ کے ساتھ پیغام  میں کہا کہ انہوں نے ایران کو ڈیل کےلیے 60 روز کا الٹی میٹم دیا تھا ، جمعے کو 61 واں دن تھا ، ایرانی حکومت ڈیل کے بہت قریب بھی پہنچی، مگر وہ ڈیل نہ کرسکے۔

اسرائیل ایرانی نیوکلیئر پروگرام تباہ کرنے میں کامیاب ہوا یا نہیں؟

صدر ٹرمپ نےکہا کہ انہوں نے ایران کو بتا دیا تھا کہ اگر اس سے ڈیل نہ ہوئی تو جو ہو گا وہ ان کے تمام اندازوں سےبدتر ہو گا، ایران کو بتا دیا گیا تھا کہ دنیا کا ہول ناک ترین اسلحہ امریکا بناتا اور اسرائیل کو دیتا ہے،اسرائیل کو اس اسلحے کا استعمال بھی معلوم ہے، لہذا بنیادی طور پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار ایرانی قیادت ہے۔ امریکی صدر نےکہا کہ کچھ ایرانی رہنماؤں نے دلیری سے کڑنے کی بات کی، تھی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا ہونے والا ہے، اب وہ سب بغیر کڑے مارے جا چکے ہیں اور معاملات پہلے سے بدتر ہونے والے ہیں۔ ٹرمپ نےتنبیہ کی کہ حملوں کے جس اگلے مرحلے کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے وہ اس سے بھی زیادہ سفاکانہ ہوگا ، لہذا اس سے پہلے کہ کچھ بھی باقی نہ بچے، ایران کو لازمی ڈیل کرنا ہو گی، ورنہ مذید تباہی سے بچنا ممکن نہیں ہو گا۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ ایران اس امریکی وارننگ کے بعد پیچھے ہٹتا ہے یا اسرائیل پر حملوں کے بعد امریکہ کو بھی اپنا نشانہ بنانے کا رسک لیتا یے۔

Back to top button