عدالتی فیصلے کےبعد نواز شریف بند گلی میں چلے گئے

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے کے بعد وہ بند گلی میں چلے گئے ہیں، پہلے ان کے پاس علاج کرانے کا بہانہ تھا لیکن اب ضمانت اور علاج والا آرڈر حتمی فیصلے میں ضم ہوگیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ عدالت کے حتمی فیصلے کے بعد نواز شریف کے خود کو پیش کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک وہ فیصلے کی روشنی میں خود کو پیش نہیں کرتے اس وقت تک عدالت عظمیٰ بھی نہیں جا سکتے، اس لیے کہ وہ جج محمد بشیر کے قیدی ہیں، ایک ریفرنس میں 7 سال اور دوسرے میں 10 سال کے قیدی ہیں۔
بابر اعوان نے عدالتی فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘عدالت نے کہ کہا ہے کہ دوبارہ کیس برآمد کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور ساتھ ہی شرط لگائی ہے کہ اس درخواست کافیصلہ بھی قانون کے مطابق ہوگا۔
مشیر پارلیمانی امور نے واضح کیا کہ پچھلے دو ہفتوں میں دو مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور نواز شریف نے پارلیمان کی بالادستی کو ماننے سے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سودے بازی سے گزیر کرے اور آئین کی بالا دستی پر عملی طور پر طور یقین کرے کیونکہ وہ اپنے طرز عمل سے ظاہر کررہے ہیں کہ وہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔
بابر اعوان نے زور دیا کہ حکومت پارلیمنٹ کو سپریم سمجھتے ہوئے تمام کام پارلیمنٹ کے ذریعے کرنا چاہتی ہے اور اسی مقصد کے لیے اپوزیشن کے ساتھ حکومت پاکستان کے مذاکرات کے دروازے کھلےہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنا وعدہ پورا کریں گے اور اوورسیز پاکستانیوں کو اقتدار میں شریک کریں گے اور دوسری طرف اپوزیشن نے سمندر پار پاکستانیوں کے حوالے سے فراڈ پلان دیا ہے۔
بابر اعوان نے عدالت عظمیٰ کا حوالے دے کر کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق پہلے سے قانون میں موجود ہے جبکہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپوزیشن لیڈر کی تجویز دراصل توہین آمیز طریقہ ہے۔

Back to top button