پاکستانی عوام اشرافیہ کے خلاف کیوں اٹھ کھڑی ہوئی؟

کسی بھی ملک میں اشرافیہ کی مخالفت، ترقی پسند بائیں بازو، لبرل ماہرین تعلیم اور دنیا کی ہر سماجی تحریک کا فکری حصہ رہی ہے اور پاکستان میں بھی اس کی گہری جڑیں موجود ہیں۔ پاکستان بنیادی طور پر جاگیردارانہ اور قبائلی ملک ہے۔ سماجی درجہ بندی میں نچلے درجے کے سمجھے جانے والے لوگ عام طور پر نرم مزاج اور غیر فعال ہوتے ہیں اور اپنی حالت زار کو اپنی قسمت سمجھتے ہیں۔جاگیرداروں اور کسانوں، عام عوام اور حکمرانوں، بادشاہوں اور رعایا اور سیاسی طبقے اور عام آدمی کے درمیان تعلقات اس وقت تک مستحکم رہتے ہیں جب تک انصاف، قانونیت اور عام قبولیت کا کچھ احساس رہتا ہے۔ تاہم اشرافیہ مخالف تمام بغاوتوں اور انقلابات کو بالآخر بنیادی سچائی یعنی حکمرانی کے حق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جیسا کہ آج ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں، سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کا قانونی جواز ختم ہو گیا ہے۔اب گلی کے کونے میں کھڑا کوئی دانشور نہیں ہے جو دولت کے ارتکاز، مراعات یافتہ افراد کی زندگی یا طاقتوروں کی طاقت پر سوال اٹھا رہا ہے۔ بلکہ یہ عام آدمی ہے جو سڑکوں پر بجلی کے بل پھاڑ رہا ہے، سبز نمبر پلیٹ والی سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا رہا ہے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے دفاتر کا گھیراؤ کر رہا ہے۔یہ احتجاج محض بجلی کے بلوں کے خلاف نہیں ہے۔ یہ پاکستان میں حکمران طبقے یا اشرافیہ کے خلاف گہرے غصے، مایوسی اور ناراضگی کی عکاسی ہے۔ یہ احتجاج جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے، اور یہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ کسی رہنما یا سیاسی جماعت کے بغیر خود بخود ہو رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار سینئر تجزیہ رسول بخش رئیس نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ رسول بخش روئیس کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان جن مشکلات سے گزر رہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے، کہ بجلی بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ شرائط و ضوابط کے تحت کئے گئے بجلی کی خریداری کے معاہدوں میں کچھ خاموش شراکت دار شامل ہیں، جنہیں غیر منصفانہ طور پر فوائد دیے گئے ہیں۔ جن کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ مین سٹریم میڈیا مشہور شخصیات کے سیاسی ٹاک شوز کا اہتمام تو کرتا ہے، مگر تنقیدی آوازوں کو شامل نہیں کرتا۔دریں اثنا، متبادل ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر، سرکاری اور اشرافیہ کے زیر کنٹرول سچائی ایک طویل عرصے سے مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور اس کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔حکمران طبقے عوام کے پیسوں پر مزید مراعات اور فوائد حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا رہے ہیں، اور بیوروکریسی، فوج اور سیاست دانوں نے عام لوگوں اور اپنے درمیان ایک خلیج پیدا کر لی ہے۔آپس میں ملی ہوئی اشرافیہ کے اس نظام نے دو پاکستان بنا دیے ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو اس سے جڑ کر مستفید ہو رہا ہے اور دوسرا عام لوگ ہیں جن کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔حکمران طبقہ شہر کے بہترین حصے میں رہتا ہے، انہیں بڑے مالی فوائد حاصل ہیں، انہیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں جائیدادیں، مفت رہائش، مفت مہنگی گاڑیاں، مفت تیل، مفت بجلی اور بیرونی ممالک میں مفت علاج میسر ہے۔پارلیمانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی کہ جب ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اس کے ارکان کو بھاری پنشن اور اہل خانہ کو بیرون ملک سفر میسر ہے۔

رسول بخش رئیس کے مطابق متبادل میڈیا کے ساتھ، اشرافیہ اور معاشرے میں ان کے مراعات یافتہ عہدوں کو نشانہ بنانے والے بیانیے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ روزمرہ کی عام بات چیت میں بھی حکمران طبقوں کو مورد الزام ٹھہرایا جارہاہے اور یہ مزید جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس بار، وہ کسی کے منتظر نہیں ہیں، اور اگر انہوں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے، تو بہت افراتفری، آگ، دھواں اور تباہی ہوگی۔

Back to top button