نون لیگ پر لاڈلا پلس ہونے کا الزام کیوں لگا؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد جہاں ایک طرف نواز شریف ان مقدمات میں، جنھیں ان کی جماعت ’سیاسی انتقام‘ قرار دیتی رہی ہے، ریلیف حاصل کر رہے ہیں تو دوسری طرف عمران خان ایسے ہی ’سیاسی بنیادوں پر قائم‘ سمجھے جانے والے مقدمات میں ٹرائل بھگت رہے ہیں اور جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔’پہلے لاڈلہ کوئی اور تھا، اب لاڈلہ کوئی اور بن گیا۔۔۔ جب عمران خان اسٹیبلشمینٹ کے محبوب تھے تو انھیں فیور ملتی تھی۔ اب جب تک نواز شریف محبوب رہیں گے، انھیں بھی فیور ملتی رہے گی۔۔۔‘ اس قسم کے جملے کم و بیش ہر اس شخص سے سننے کو ملتے ہیں جن سے انتخابات اور انتخابی مہم کے بارے میں سوال کیا جائے۔
ان کا اشارہ حال ہی میں نواز شریف سمیت پاکستان مسلم لیگ ن کے متعدد رہنماؤں کو ملنے والا ریلیف ہے لیکن سیاسی تجزیہ کار پاکستان کی اسٹیبلشمینٹ کی حمایت سے جُڑی ’لاڈلے‘ کی یہ اصطلاح ملک میں جمہوریت اور خود مسلم لیگ نون کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کے لیے ’خطرناک‘ سمجھتے ہیں۔
نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو آج اسٹیبلشمینٹ کا ’فیورٹ‘ قرار دینے کی وجہ انھیں عدالتوں سے ملنے والا ریلیف ہے ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ ان کی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ بھی پچھلے کچھ مہینوں سے نرمی برتی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناءاللہ اور حنیف عباسی سمیت مختلف لیگی رہنماؤں کو عدالتوں سے ریلیف ملا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے مقابلے میں دیگر جماعتوں اور خاص طور پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت کو خصوصی رعایت دی جا رہی ہے؟ مبصرین کے مطابق ’لاڈلہ‘ یا ’لاڈلہ پلس‘ ہونے کا تاثر نواز شریف اور ان کے سیاسی بیانیے کے لیے مشکل بھی پیدا کر سکتا ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی سمجھتی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلہ ہونے کے اس تاثر کی بدولت وہ اپنے اس ووٹر کا اعتماد کھو سکتے ہیں جو ان کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کی بنیاد پر ان کے ساتھ کھڑا تھا۔وہ کہتی ہیں کہ ’یہ لیبل ان کی سیاست کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہمیں انتظار کرنا ہے کہ نواز شریف اپنا پرانا بیانیہ مکمل طور پر چھوڑ دیں گے یا واپس آئیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ فی الحال مسلم لیگ نواز کی قیادت خاموش مصلحت سے کام لی رہی ہے۔‘’نون لیگ کمپرومائیزڈ پوزیشن میں نظر آتی ہے لیکن دیکھنا ہے کہ جب الیکشن قریب آئیں گے اور نواز شریف باہر جلسوں کے لیے عوام میں نکلیں گے تو کیا وہ اپنے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیے کو چھوڑ دیں گے؟ اور کیا وہ سویلین بالادستی کے نعرے سے دامن چھڑا پائیں گے؟ میرے خیال میں ایسا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔ ورنہ ان میں اور 2018 کی تحریک انصاف میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔‘
عاصمہ شیرازی کے مطابق آج نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہے مگر اس سے کہیں زیادہ خود اسٹیبلشمنٹ کو نواز شریف کی ضرورت ہے، جس کی وجہ آج ملک میں بڑے پیمانے پر موجود اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ہے۔عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ نواز شریف پر لگا یہ لیبل کہ وہ لاڈلے ہیں، کنگز پارٹی ہے یا ان کی حمایت میں ایک سسٹم کام کر رہا ہے، آئندہ پانچ سال ان کی مشکل میں اضافہ ہی کرے گا۔‘
لیکن پی ٹی آئی کی انتخابی سرگرمیوں میں خاموشی کی وجہ عاصمہ شیرازی کے خیال میں خود پارٹی میں تقسیم اور باقاعدہ حکمت عملی کا موجود نہ ہونا ہے۔’پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خاص طور پر پنجاب میں انتخابی مہم یا سیاسی سرگرمیوں کے لیے کوئی بڑی کوشش بھی نظر نہیں آ رہی۔ ان کے وہ قائدین جو گرفتار نہیں اور پی ٹی آئی کا حصہ ہیں، وہ بھی میدان میں نظر نہیں آ رہے۔ پی ٹی آئی کی اندرونی تقسیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘’پنجاب میں اول رو قیادت ہی موجود نہیں، روپوش ہیں، گرفتار ہیں یا جو بھی۔۔۔ لیکن یہ سٹریٹجی بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت تو تحریک انصاف نے بظاہر کوئی کوشش بھی نہیں کی۔ گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی قیادت بھی جیل میں تھی اور حالات ان کے لیے سازگار نہیں تھے لیکن ان کا سپورٹر اس کے باوجود ہمیں باہر نظر آیا۔‘
دوسری جانب سینیئر صحافی حامد میر کے مطابق اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ’ان نیب افسران کا احتساب ہونا چاہیے جن کے بنائے ہوئے مقدمات اعلی عدالتوں میں جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔‘
دوسری جانب سیاست پر نظر رکھنے والے حلقے سمجھتے ہیں کہ جمہوری نظام میں الیکشنز میں غیر جانبداری اور عوام کی خود مختار چوائس کی ایک اہمیت ہے لیکن پاکستان کی سیاسی صورت حال میں ایسا لگتا ہے کہ عوام کے مینڈیٹ سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ کون کتنا طاقتور ہے، یا کس جماعت کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔