آرمی چیف نے اپنے عوامی خطاب میں کس کو کیا پیغام دیا؟

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر جنرل عاصم منیر نے بطور آرمی چیف تعیناتی کے بعد پہلا خطاب کیا جو کہ عوام نے براہِ راست سنا۔اپنے خطاب میں آرمی چیف نے فوج سے غیر آئینی توقعات رکھنے والوں کو واضح پیغام دیا کہ افواج پاکستان عوام کے ساتھ ہیں اور پاکستان کی اصل طاقت عوام کی طاقت ہے، پاک فوج کے لیے عوام کی حفاظت و سلامتی سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے۔
آرمی چیف کے خطاب کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ آخر آرمی چیف کا خطاب کس کس کے لیے تھا اور اس میں کیا پیغام تھا؟ آرمی چیف کے خطاب بارے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی نے کہا کہ آرمی چیف نے عوام اور آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ آرمی آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا ساتھ نہیں دے گی۔نعیم خالد لودھی کا کہنا تھا کہ پاک فوج عوامی رائے سے بخوبی آگاہ ہے اور فوج عوام کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی نے کہا کہ آرمی چیف نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا پاکستان اور بھارت کے علاوہ ایک فریق چین بھی ہے، ایسے میں آرمی چیف نے پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے پالیسی تبدیل ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت پہلے کی طرح جاری رکھے گا اور حق خودارادیت کے لیے ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
آرمی چیف کے خطاب میں کی جانے والی باتیں کس کے لیے تھیں، اس حوالے سے ماہر امور قومی سلامتی سید محمد علی نے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے فوج سے غیر آئینی توقعات رکھنے والوں کو پیغام دیا ہے کہ فوج عوام اور آئین کی بالادستی کے ساتھ ہے، فوج کی ذمّہ داریوں کا تعین آئین نے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے مستقبل کی فوجی قیادت کو مخاطب کیا اور بتایا کہ پاکستان آرمی کی مستقبل کی سوچ کیا ہوگی، انہوں پیغام دیا کہ عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں، عوامی خواہشات کی ترجمانی آئین پاکستان کرتا ہے، مستقبل کے فوجی افسران نے اہمیت اور ترجیح صرف عوام اور آئین کو دینی ہے ۔ آرمی چیف نے اپنے خطاب میں دنیا کو بتایا کہ مستقبل کے اعلیٰ فوجی افسران کی strategic thoughts کیا ہیں۔
ماہر امور قومی سلامتی سید محمد علی نے کہا کہ آرمی چیف نے اپنے پیغام میں امریکا اور روس سمیت عالمی طاقتوں کو جواب دیا ہے کہ پاکستان تمام دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور تمام ممالک کے ساتھ مشترکہ تعاون پر یقین رکھتا ہے لیکن پاکستان کسی بھی ایک ملک کی لابی نہیں بنے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ظاہری دشمنوں کو تو آرمی چیف نے پیغام دیا کہ فوج کی تعداد سے زیادہ اہم فوج کی قابلیت اور جذبہ ہے، انہوں نے کہا کہ فوج نے کئی دہائیوں سے تیاری کر رکھی ہے، ایک دو سال کے خراب معاشی حالات سے فوج کی قابلیت، طاقت ختم نہیں ہو سکتی، فوج کے پاس ہر قسم کے دشمن کے ساتھ لڑنے کے لیے ہتھیار موجود ہیں اور دنیا کو یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کا ساتھ دینے والے پاکستان کے خفیہ دشمن ہیں، ان خفیہ دشمنوں کے لیے آرمی چیف نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ فوج ہر قسم کے مقابلے کے لیے تیار ہے۔
تاہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ماضی کے آرمی چیف اور جنرل عاصم منیر میں کیا فرق ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف اور سابق فوجی سربراہ میں ایک واضح فرق ہے کہ جنرل عاصم منیر کا پہلے دن سے clear concept ہے آرمی اب سیاست میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی، سابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا جس پر آرمی چیف نے جواب دیا کہ ان کا سیاست سے یا سیاست دانوں سے تعلق نہیں ، اس لیے ملنا نہیں چاہتے ، آرمی چیف صرف وزیراعظم سے ملاقات کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی سوچ ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہونے پر سیاست دانوں سے گفتگو کریں گے۔
