احتساب عدالت کا سپیکر سندھ اسمبلی کے اہل خانہ کی گرفتاری کا حکم

احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے اہل خانہ سمیت دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے نیب کو حتمی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مفرور ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو تفتیشی افسر کو جیل بھیج دیں گے۔سپیکر سندھ اسمبلی آغاز سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کراچی کی احتساب عدالت ہوئی ، آغا سراج درانی و دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ مفرورملزمان کی گرفتاری میں کیا پیش رفت ہے؟ تفتیشی افسر ملزمان کے پتہ پر کیوں نہیں جاتا؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سکھر پولیس کو اس حوالے سے کہیں گے۔نیب پراسیکیوٹر کے رویے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی نہیں تفتیشی افسر کی رپورٹ چاہئے ، مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے حتمی مہلت دے رہے ہیں اگر مفرور ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو تفتیشی افسر کو جیل بھیج دیں گے اور آئندہ سماعت تک مفرور ملزمان گرفتار نہ ہوئےتو کیس الگ کیاجائے گا۔
عدالت نے مفرور ملزمان کے ایک بار پھر وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے سماعت 5 نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے ، مفرور ملزمان میں آغا سراج کے بیٹے ، اہلیہ ، بیٹیوں سمیت 12ملزمان شامل ہیں۔
قبل ازیں پیشی کے موقع پر صحافی نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سے لاڑکانہ میں حالیہ صوبائی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کی شکست پر سوال کیا جس پر آغا سراج نے کہا کہ میں تو لاڑکانہ میں تھا ہی نہیں مجھے نہیں پتا کیا ہوا ، میں جیل میں ہوں مجھے کچھ نہیں پتا جب جیل سےباہر آ گیاتو اچھی اچھی خبریں دوں گا۔
خیال رہے آغا سراج درانی آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں ، نیب حکام نے سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس دائر کیا تھا ۔
واضح رہے نیب نے سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو بیس فروری کو اسلام آباد کے ہوٹل سے حراست میں لیا تھا جبکہ ان کی درخواست ضمانت سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button