احسان اللہ احسان نے کرکٹ سیریز کیسے منسوخ کروائی؟


معلوم ہوا ہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین کرکٹ سیریز کو منسوخ کرنے کا فیصلہ نیوزی لینڈ حکام نے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی ایک دھمکی کے بعد کیا جس کی تصدیق نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی حکام نے براہ راست احسان سے خود رابطے کے بعد کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی حراست سے فرار ہو جانے والے احسان اللہ نے کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو درپیش سکیورٹی خطرات کے حوالے سے ایک ٹویٹ پوسٹ کیا تھا جس کی تصدیق کے لئے نیوزی لینڈ حکام نے احسان اللہ احسان سے خود رابطہ کیا اور یہ یقین کر لینے کے بعد کہ ان کے کرکٹرز پاکستان میں محفوظ نہیں ہوں گے، انہوں نے اپنی ٹیم کا دورہ منسوخ کرنے کا فوری فیصلہ کیا۔
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین کرکٹ سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی جس مایوس کن انداز میں ختم ہوئی، اس نے کرکٹ حلقوں اور پاکستانی شائقین میں مایوسی کی ایک لہر دوران دی ہے۔ کرکٹ سیریز کا خاتمہ نہایت عجلت میں کچھ ایسی دھمکیوں پر کیا گیا ہے جو نیوزی لینڈ حکومت کی نظر میں بہت خطرناک تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے اتنی عجلت میں کیے گئے فیصلے کی ایک وجہ آج سے 19 برس پہلے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے دوران کراچی میں ہونے والے شیریٹن ہوٹل بم حملے کی خوفناک یاد بھی بنی جس میں ان کے کرکٹرز بال بال بچے تھے۔ یاد رہے کہ 19 برس کے طویل تعطل کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم مختصر دورے پر پاکستان پہنچی تھی جس کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ حکومت پاکستان نے بھی خصوصی انتظامات کیے تھے۔ مہمان ٹیم کو سربراہ مملکت لیول کی سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور ان حفاظتی اقدامات کا نیوزی لینڈ کے ایک سیکیورٹی وفد نے جائزہ لینے کے بعد تصدیق بھی کی تھی جسکے بعد ہی اس دورے کے لیے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو گرین سگنل دیا گیا تھا۔ لیکن ان سارے اقدامات کے باوجود پہلے میچ کے شروع ہونے سے کچھ دیر قبل ایک نامعلوم دھمکی پر نیوزی لینڈ نے دورہ منسوخ کر دیا اور ایک چارٹرڈ طیارے سے ٹیم کو واپس بلا لیا۔ اس دورے کی اچانک منسوخی نے سیکیورٹی پر مزید سوال اٹھا دیئے ہیں اگر سیکیورٹی اس قدر مضبوط تھی تو ایک نامعلوم دھمکی پر کیا اس قدر شدید ردعمل ہونا چاہئے؟ کیا نیوزی لینڈ حکومت کو پاکستان کے سکیورٹی اقدامات پر تحفظات تھے یا پھر کچھ اور عوامل ہیں جو منسوخی کا سبب بنے؟ ذرائع کہتے ہیں کہ نیوزی لینڈ ٹیم کے دورے کی منسوخی کی فوری وجہ نیوزی لینڈ حکام کا احسان اللہ احسان سے رابطہ بنا جس نے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کرکٹ ٹیم کو نشانہ بنانے کے عزائم کی تصدیق کی۔
خیال رہے کہ دہشت گردی اور امن وامان میں خلل کے باعث یہ کوئی پہلا کرکٹ میچ یا سیریز نہیں ہے جسے منسوخ کیا گیا ہو۔ کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے ایسے میچز ہیں جب دہشت گردانہ کارروائیوں اور توڑ پھوڑ کے باعث میچ ختم کردیئے گئے۔ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے سنگین واقعہ 2009 میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران لاہور میں پیش آیا تھا جب ٹیم کے سٹیڈیم آتے ہوئے دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ ٹیم بس پر فائرنگ کی گئی جس سے اگرچہ کسی کھلاڑی کی ہلاکت تو نہیں ہوئی لیکن 6 سری لنکن کھلاڑی زخمی ہوئے اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ 11 سال کے لیے ختم ہو گئی۔ یہ کرکٹ تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا اس واقعے نے کئی کھلاڑیوں کا تو کیریئر ہی ختم کر دیا جو خوف کے باعث مہینوں سو نہ سکے۔
اس سے قبل 2002 میں نیوزی لینڈ پاکستان کے دورے پر تھی اور آخری ٹیسٹ کے لیے کراچی میں تھی کہ ٹیم کے ہوٹل کے باہر بم دھماکے ہوئے تھے جس میں کھلاڑی تو محفوظ رہے لیکن دورہ وقت سے پہلے ختم کر دیا گیا تھا۔ ان دھماکوں کا ہدف تو شاید فرنچ انجینئرز تھے جو اسی ہوٹل میں مقیم تھے لیکن بم دھماکوں نے کھلاڑیوں کے اوسان اڑا دیئے تھے۔

Back to top button