اپوزیشن اتحاد نےحکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرلی

اپوزیشن اتحاد نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے بات چیت کے لیے رضامندی ظاہر کردی۔
اپوزیشن اتحاد کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزائی اور علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔
اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی، حکومتی اقدامات اور اپوزیشن کے جوابی اقدامات کے حوالے سے بات کی گئی۔
اجلاس میں حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر اہم گفتگو ہوئی، اپوزیشن اتحاد حکومت کے ساتھ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے آج کے اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے میٹنگ کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ جو گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی خبر آرہی ہے اس پر بھی غور کیا ہے، ہم نے بانی کی بہنوں کو جیل میں رکھنا اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی بھرپور مذمت کی ہے، ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی گرفتاریاں ہوئی ہیں ان کی بھی مذمت کی ہے، ہم ریاست کے ساتھ کھڑے رہے، پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے مگر آپ آواز دباتے رہے ہمیں نہیں سنا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے چار لوگ اسلام آباد میں تھے، باقیوں کے آپ نے وارنٹ جاری کیے، آپ نے کہا ہم ٹولہ ہیں، انتشاری ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم تو یہ الفاظ بھی دوبارہ دہرانا نہیں چاہتے، ہم نے گورنر راج اور ایمرجنسی پر غور کیا ہے، وفاقی مضبوط ہوتا ہے جب صوبے خود مختار ہوتے ہیں، اگر عوام کی مرضی کے خلاف کچھ کرتے ہیں تو وفاق کمزور ہوگا، ہم یہ بات پیپلز پارٹی کو بھی یاد کروائیں گے، یہ ہمارا ملک ہے، سب سے پہلے پاکستان اور اس کا امن و امان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مشیران کے آگے اپنے تمام تحفظات رکھے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس ہم گئے آرڈر ایمپلیمنٹ نہیں ہوا، جہاں ہم جاتے ہیں ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے، ہم ابھی بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہمارے پاس باضابطہ طور پر حکومت نے رابطہ نہیں کیا اگر ہمارے ساتھ رابطہ ہوتا ہے تو ضرور بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جو خط موصول ہوا تھا اس کا جواب دیں گے، ملاقات کے لئے وزیراعظم آفس یا وزیراعظم ہاؤس نہیں جاؤں گا، کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاؤں گا پر ملاقات کے لیے وزیراعظم آفس نہیں جاؤں گا،
اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ جمہوری حکومت کبھی بھی فاشسٹ نہیں ہوسکتی وہ عوام سے محبت سے بات کرے گی مگر پاکستان کے ساتھ انہونی ہو رہی ہے، ایک شخص جو پاکستان کا وزیراعظم رہا ہے اسے جیل میں بند رکھا گیا ہے، پاکستان کے بڑے مسائل ہیں، امن و امان کی صورتحال خراب ہے، معاشی حالات بھی خراب ہیں،عدلیہ اور دیگر نظام تباہ ہوگیا ہے، گولی کے ذریعے امن نہیں آسکتا، آپ کو حق نہیں کسی چیز کو چھیڑنے کا، ہم سیاسی رویہ اپنائیں گے، لانگ مارچ کریں گے، پر امن مارچ کو ہم سپورٹ کریں گے، انہوں نے پہلے ہی راستے بند کر دییے، سڑکوں پر کیل لگا دئیے، یہ ڈرے ہوئے لوگ پیں۔
