احسان فراموش کپتان نے ایک اور دوست فارغ کر دیا

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک پرانے رازداں اور ساتھی عون چوہدری کو جہانگیر خان ترین کا ساتھ دینے کی پاداش میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر کے عہدے سے فارغ کروا دیا ہے جسے ناقدین کی جانب سے کپتان کی محسن کشی کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ عون چوہدری کی عمران خان سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ریحام خان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ عمران خان کی دوسری اور تیسری شادیوں کے وقت دولہا کی جانب سے گواہ کے طور پر دستخط کیے تھے۔ عون چودھری معروف پاکستانی اداکارہ نور کے شوہر بھی ہیں جو فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد خاتون اول بشری بی بی کی عقیدت مند بن گئی تھیں۔
جہانگیر ترین گروپ کے سرگرم رہنما عون چوہدری کے مطابق انہیں 6 اگست کو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے چیف منسٹر ہاؤس طلب کیا گیا تھا اور یہ آپشن دی گئی تھی کہ یا تو وہ جہانگیرترین گروپ سے اعلان لا تعلقی کریں یا پھر استعفی دے دیں۔ چنانچہ انہوں نے جہانگیر ترین کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھنے کی خاطر 6 اگست کو بطور کوآرڈی نیٹر وزیر اعلی پنجاب اپنا تحریری استعفیٰ پیش کر دیا۔ عون چودھری پر اراکین اسمبلی کو ترین گروپ میں لانے کے لیے لابنگ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
لیکن ناقدین عون چوہدری سے استعفی لیے جانے کو وزیراعظم عمران خان کی احسان فراموشی کی ایک اور مثال قررا دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ عون چوہدری نہ صرف سیاسی میدان میں اپنے کپتان کے شانہ بشانہ نظر آئے بلکہ ریحام خان اور عمران خان کے نکاح میں گواہ بھی بنے۔ عون چوہدری وزیر اعظم کے اس قریبی حلقے میں تھے جو جنوری 2018 میں بشریٰ بی بی سے عمران خان کی تیسری شادی کا راز داں تھا۔ 2019 میں دوسری بار عون چوہدری کے عقد میں آنے والی سابق فلم سٹار نور بخاری بھی بشریٰ بی بی کی معتقد ہیں اور بی کہا جاتا ہے کہ نور کی چوتھی شادی ناکام ہونے پر بشریٰ بی بی کے مشورے پر ہی نور اور عون چوہدری ایک بار پھر جیون ساتھی بنے۔ اگست 2018 میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد عون چوہدری اس مختصر وفد کا بھی حصہ تھے جو نو منتخب وزیر اعظم کے ساتھ عمرہ کرنے سعودی عرب گیا۔
یاد رہے کہ عون چوہدری کو اگست 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا مشیر مقرر کیا گیا تھا، تاہم ستمبر 2019 میں ایم ایم عالم روڈ پر واقع ایک ہوٹل میں شراب نوشی کی محفل میں شرکت اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کے چھاپے کے دوران دادا گیری کے بعد الٹا اسی افسر کا تبادلہ کروانے کی پاداش میں عون کو فارغ کردیا گیا تھا۔ عون چوہدری پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ اپنے بھائی امین گجر کو صوبائی وزیر بنوانے کے لئے عمران کو اپروچ کرتے رہے۔ تاہم رواں برس جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ کھل کر کھڑے ہونے کے بعد عون نے کپتان سے ملاقات میں انہیں جہانگیر ترین کی بیگناہی کا یقین دلوانے کی کوشش کی تھی لیکن کی سزا کے طور اب دوسری بار عون کی چھٹی کروا دی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کا بھی یہی کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور عون سے کہا گیا تھا کہ وہ جہانگیر ترین گروپ کو باقاعدہ چھوڑ دیں۔ تاہم انکے انکار پر ان سے استعفیٰ طلب کیا گیا جس پر وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عون چودھری کو وزیراعلیٰ ہاؤس طلب کیا گیا جہاں ان سے استعفیٰ لیا گیا۔
اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے عون چودھری کا کہنا ہے کہ مجھے آج وزیراعلیٰ آفس بلوا کر ترین گروپ سے علیحدگی کا کہا گیا، جہانگیر ترین کے گروپ سے علیحدگی سے انکار پر مجھے استعفٰی دینے کا کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کی پارٹی کے لیے خدمات سب جانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں استعفیٰ دیتا ہوں لیکن ترین گروپ کو نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ میرا ضمیر مجھے اس کام کی اجازت نہیں دیتا ۔ انہوں نے پارٹی اور حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سیاسی خدمات کا یہ صلہ دیا گیا۔ واضح رہے کہ عون چوہدری وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور پولیٹیکل سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔ عون چوہدری کے بھائی چوہدری امین ذوالقرنین گجر اس وقت لاہور کے حلقہ پی پی 170 سے پنجاب اسمبلی کے رکن اور پارلیمانی سیکرٹری کو آپریٹو بھی ہیں۔ امکان ہے کہ عون چوہدری کے بعد ان کے بھائی امین گجر کو پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے فارغ کر دیا جائے گا کیونکہ امین گجر بھی جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے تمام اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ تاہم عون چوہدری عمران کے وہ پہلے قریبی شخص نہیں ہیں جن کی یون چھٹی کروائی گئی ہے۔ اس سے پہلے عمران خان کو وزیراعظم بنوانے والے جہانگیر خان ترین بھی کپتان کے اتنا ہی قریب تھے لیکن پھر انہیں نہ صرف دور کردیا بلکہ پارٹی سے بھی فارغ کر دیا گیا۔
