اداکارہ نتاشا بیگ چینی خاتون کہلائے جانے سے اُکتا گئیں

معروف اداکارہ نتاشا بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ہونے کے باوجود لوگوں کی جانب سے چینی پکارے جانے سے اکتا گئی ہوں، ہر ایک کو مجھے اپنے پاکستانی ہونے کا بتانا پڑتا ہے۔گلوکارہ کے مطابق ایک شاپنگ مال میں ایک شخص نے اپنی روتی ہوئی بچی کو ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے چپ کرانے کی کوشش کی اور بیٹی کو بتایا کہ وہ دیکھو چینی خاتون کھڑی ہیں، نتاشا بیگ ماضی میں بھی بتا چکی ہیں کہ انہیں ان کی شکل و صورت کی وجہ سے زیادہ تر لوگ چینی خاتون سمجھتے ہیں اور جب وہ اردو میں بات کرتی ہیں تو لوگ مزید حیران ہو جاتے ہیں کہ چینی خاتون اردو بھی صاف بول لیتی ہیں۔حال ہی میں نتاشا بیگ ہنسنا منع ہے میں شریک ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی شکل و صورت سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی، بچپن میں وہ کرکٹر تھیں اور انہوں نے تقریبا 19 سال کی عمر تک کرکٹ کھیلی، انہوں نے بتایا کہ انہیں کرکٹر بننے کا کوئی شوق نہیں تھا لیکن بچپن میں وہ ہر کام کرنے کی عادی تھیں جو انہیں اچھا لگتا تھا، انہیں کرکٹ بھی اچھی لگی، اس لیے انہوں نے کھیلنا شروع کی، 2010 سے قبل انہوں نے کرکٹ کو خیرباد کہہ کر گلوکاری سمیت ماڈلنگ پر توجہ دی۔نتاشا بیگ نے بتایا کہ انہیں ان کی شکل و صورت کی وجہ سے زیادہ تر لوگ چینی یا کوریائی خاتون سمجھتے ہیں اور انہیں اپنے ہی ملک میں ہر کسی کو بتانا پڑتا ہے کہ وہ پاکستانی ہیں، گلوکارہ کے مطابق ایک بار وہ بیرون ملک سے واپس آ رہی تھیں تو ایئرپورٹ پر ان کے ڈرائیور سے سیکیورٹی گارڈ نے پوچھا کہ خاتون کس ملک سے آئی ہیں؟انہوں نے بتایا کہ ایک بار شاپنگ مال میں ایک شخص نے ان کے پیچھے پیچھے آکر ان سے اردو میں پوچھا کہ آپ چائنیز ہیں؟اسی طرح نتاشا بیگ نے ایک دلچسپ واقعہ بتایا کہ جب وہ کم عمر تھیں تو والدین کے ساتھ شاپنگ مال گئیں، جہاں ایک شخص کی کم سن بیٹی رو رہی تھیں، وہ شاپنگ مال میں بوریت کا شکار ہوکر ایک جگہ پر کھڑی ہوگئیں، جہاں اس شخص نے اپنی روتی بیٹی کو ان کی جانب اشارہ کر کے بتایا کہ وہ دیکھو چینی خاتون کھڑی ہیں۔اس سے قبل انہوں نے ڈان آئیکون کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے والدین اور آباؤ اجداد کا تعلق شمالی علاقہ جات ’ہنزہ‘ سے ہے، تاہم وہ خود صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں، تسلیم کیا کہ ان کی شکل و صورت چینی نژاد لوگوں سے ملتی ہے، اس لیے لوگ انہیں پاکستانی نہیں سمجھتے ہیں
