اسلامی نظریاتی کونسل کو ‘زندگی تماشا’ کی اسکریننگ سے روک دیا گیا

پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کو فلم ‘زندگی تماشا’ کا جائزہ لینے سے روک دیا۔انہوں نے بتایا کہ سینیٹ کمیٹی نے سینٹرل بورڈ آف فلم سنسر کو ہدایت کی کہ وہ پینل کو اسکریننگ کے لیے فلم کی کاپی فراہم کرے۔کمیٹی کے ممبروں کے لیے 16 مارچ کو فلم ‘زندگی تماشا’ کی اسکریننگ کا اہتمام کیا جائے گا جو اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ آیا فلم کو منظوری کے لیے سی آئی آئی کو بھیجنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرپرسن مصطفی نواز کھوکھر نے صحافیوں کو بتایا اگر پینل کو فلم قابل اعتراض نہیں لگی تو اس کی ریلیز کے احکامات ‘فوری طور پر’ دیئے جائیں گے۔یہ فیصلہ انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں مرکزی سنسرشپ بورڈ کے چیئرمین دانیال گیلانی پینل کے سامنے پیش ہوئے۔مصطفی کھوکھر نے بتایا کہ اگر ہمیں [فلم میں] کوئی قابل اعتراض چیز نظر آتی ہے تو ہم اسے سی آئی آئی کے پاس بھیج دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق فلم میں کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے۔ایک ٹوئٹ میں سینیٹر نے کہا کہ کمیٹی کو ‘یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اسے دو بار کلیئر کیا گیا لیکن پھر بھی پابندی عائد ہے’۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کھوکھر نے کہا کہ کمیٹی "کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی” اور یہ کہ "پارلیمنٹ اپنا اختیار استعمال کرے گی”۔انہوں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں ان جماعتوں کے دباؤ میں نہیں آنا چاہئے جنہوں نے دو مرتبہ اسلام آباد کو یرغمال بنایا۔
واضح رہے کہ حکومت نے رواں برس جنوری میں اعلان کیا تھا کہ فلم ‘زندگی تماشا’ کو سی آئی آئی کے پاس بھیجا جائے گا۔اس سے قبل ٹی ایل پی کی جانب سے فلم کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سنسر بورڈ نے دومرتبہ فلم کو ریلیز کرنے کی منظوری دی تھی۔بوسن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پریمیئر کی جانے والی اس فلم کو ٹی ایل پی نے اسے ‘توہین آمیز’ قرار دیا تھا۔بعدازاں فلم ڈائریکٹر سرمد سلطان کھوسٹ نے وزیراعظم عمران خان کو ایک مراسلے میں نام لیے بغیر کہا تھا کہ سنسر بورڈ کی مںظوری کے باوجود ان کی فلم کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
