اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے، عدالت نے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو درست قرار دے دیا، عدالت نے شوگر ملز مالکان کی انٹراکورٹ اپیلیں مسترد کردی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو درست قرار دے دیا ہے، جب کہ عدالت نے شوگر ملز مالکان کی انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کردی ہیں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز نے انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کی تھی۔ اب دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ اسلام آبا د ہائی کورٹ نے شوگر ملز مالکان کی انٹرا کورٹ اپیل پر 24جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
واضح رہے اسلام آباد ہائکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے24 جولائی کو چینی انکوائری کے خلاف شوگر ملز کی انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے شوگر ملزکے وکیل مخدوم علی خان کو بدھ تک تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
سماعت شروع ہونے پر شوگر ملز کے وکیل مخدوم علی خان نے جواب الجواب دلائل میں کمیشن تشکیل میں بے ضابطگیوں پر کہا کہ کسی بھی معاملے پر سمری کابینہ ڈویڑن سے ہی بھیجی جاتی ہے، مخدوم علی خان کی جانب سے 1991 کے سپریم کورٹ فیصلے کا حوالہ دیا جس پر جواب میں اٹارنی جنرل نے جواب میں 2017 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس شعبے میں بحران پیدا ہوا اس سے متعلقہ وزارت انکوائری کی سمری بھیجتی ہے، ایسا تب ہوتا ہے جب تحقیقات کا فیصلہ متعلقہ وزارت نے کیا ہو، اس بار چینی اسکینڈل کی تحقیقات کا فیصلہ وزیراعظم کا تھا، وزیراعظم تحقیقات کے احکامات جاری کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، یہ اعتراض درست نہیں کہ پہلے کوئی سمری بھیجی جانا ہی ضروری تھی، فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے مخدوم علی خان کو بدھ تک قانونی نکات پر تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
