اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا سفید جھوٹ پکڑا گیا


پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کے جانبدار ترین سپیکر کا اعزاز رکھنے والے اسد قیصر نے اب یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کے خطاب کے دوران پریس گیلری کو بند کرنے کا حکم صحافیوں سے مشاورت کے بعد دیا تھا۔ یعنی صحافی حضرات نے پریس گیلری میں اپنے داخلے پر پابندی خود لگوائی تھی۔ دوسری جانب اسلام آباد کی پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے اسپیکر اسد قیصر کے اس دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سپیکر کو کم ازکم کم یہ سفید جھوٹ بولتے ہوئے اپنے عہدے کی تکریم کا ہی خیال کر لینا چاہیے تھا۔
یہ بھونڈا دعوی کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے گیلری پر تالے ڈالنے کا فیصلہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے مشورے سے کیا تھا کیونکہ اس روز پریس گیلری میں صحافیوں کے دو گروہوں کے درمیان جھگڑے کا خدشہ پیدا ہو چکا تھا۔ پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پریس گیلری بند کرنے کے اپنے اقدام کا جھوٹا جواز دیتے ہوئےکہا کہ میں دو گروہوں کو لڑتے ہوئے دیکھنا برداشت نہیں کر سکتا تھا، ایسا ہو جاتا تو صحافیوں اور ایوان دونوں کی توہین ہوتی لہذا اتفاق رائے کے ساتھ پریس گیلری کو تالا لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔
تاہم اسپیکر کے اس سفید جھوٹ کو پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں چیلنج کیا کہ وہ صحافیوں کے دونوں گروہوں کے بارے میں بتائیں کیونکہ ایسی کوئی بات نہیں اور سب صحافی اکٹھے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ سپیکران صحافیوں کے نام بتائیں جنہوں نے پی آر اے کے نمائندے بن کر ان سے ملاقات کی اور پریس گیلری کو تالے لگانے کا مشورہ دیا۔ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات ملک سعید اعوان کے مطابق ‘اس بے تکے دعوے میں کوئی صداقت نہیں کہ اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے پہلے انکے ایک وفد نے اسپیکر اسد سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اسپیکر کے اس لطیفہ نما دعوے کی بھی تردید کی کہ پریس گیلری کو بند کرنے کا فیصلہ ایسوسی ایشن کی مشاورت سے ہوش تھا۔ سپیکر پر غلط بیانی کا الزام لگاتے ہوئے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے انکوائری کا مطالبہ کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس معاملے میں جھوٹ کون بول رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پریس گیلری بند کرنے کا اقدام پی آر اے کی جانب سے صدارتی خطاب کے دوران پریس گیلری سے واک آؤٹ کر کے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج میں شریک ہونے کی کال کے باعث اٹھایا گیا تھا۔ تاہم پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ سپیکر کو ایسی کوئی حرکت نہ کرنے کے حوالے سے یقین دہانی کروائی گئی تھی اور یہ طے تھا کہ صحافیوں پر کوئی بندش نہیں لگائی جائے گی۔
خیال رہے کہ میڈیا اراکین حکومت کی جانب سے متنازع پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کے منصوبے کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کررہے تھے۔ وہ صحافی جنہیں ایوان صدارت سے اس موقع پر شرکت کے لیے خصوصی دعوت نامے جاری کیے گئے تھے وہ جب پارلیمنٹ ہاؤس کی تیسری منزل پر کوریج کے لیے پہنچے تو پریس لاؤنج اور پریس گیلری دونوں کو تالا لگا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ مشتعل صحافیوں نے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر دھرنا دیا اور پھر اسے اسپیکر آفس کے سامنے منتقل کردیا۔چند سینئر رپورٹرز کے ساتھ صحافی صدر کی تقریر کے دوران وہاں موجود رہے اور اسپیکر کے اقدام کے خلاف نعرے لگاتے رہے اور اسے ’غیر آئینی اور غیر قانونی‘ قرار دیا۔

Back to top button