افغانستان سے بلا مشروط امریکی انخلاء پر پاکستان مشکل میں

امریکہ کی جانب سے افغانستان سے غیر مشروط انخلا کے اعلان کے بعد پاکستان کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ ایک طرف کابل کی حکومت پاکستان پر اعتماد نہیں کرتی اور طالبان کو سنبھالنے میں اپنی ناکامی کا ذمہ دار اسلام آباد کو قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن موجودہ امن عمل میں پاکستان کے کردار کو تسلیم تو کرتا ہے مگر اس کے باوجود مکمل طور پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر اعتماد نہیں کرتا۔ تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افغان طالبان کا پاکستان سے اتنا قریبی تعلق نہیں رہا جتنا ماضی میں ہوا کرتا تھا اسلیے اب وہ اپنی من مانی کرتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان اس خدشے کا شکار ہے کہ بیرونی قوتوں کے انخلا پر بین الافغان مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں یہاں پُرتشدد واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا پاکستان ہر جانب سے مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ وہ رواں سال 11 ستمبر تک تمام امریکی فوجی دستوں کو افغانستان سے واپس بلالے گا۔ دوسری جانب پاکستان اس پیش رفت کی باریکی سے نگرانی کر رہا ہے۔ اس فیصلے سے جن ممالک پر سب سے زیادہ اثر پڑ سکتا ہے، ان میں پاکستان شامل ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کو امن عمل سے جوڑنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان امن عمل میں سہولت فراہم کرکے اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستان نے امریکی اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس صورت میں اصولی فیصلے کی حمایت کرتا ہے جس میں ’افغانستان میں موجود اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کے ساتھ فوجی انخلا ذمہ داری سے کیا جائے گا۔‘ پاکستان کو امید ہے کہ امریکہ افغان رہنماؤں کو باور کرائے گا کہ ملک میں سیاسی حل کیسے ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی مکمل حمایت کے بغیر بین الافغان مذاکرات ممکن نہ ہو پاتے۔ دسمبر 2018 میں پاکستان نے واشنگٹن اور طالبان کے درمیان براہ راست بات چیت کا راستہ کھولنے میں مدد کی اور پھر دوحہ میں دونوں فریقین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا۔
پاکستان کی مدد سے جولائی 2015 میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین پہلی بار براہ راست مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے۔ پھر یہ امن عمل بیچ راستے اس وقت رک گیا جب طالبان نے اپنے رہنما ملا عمر کی موت کا اعلان کیا۔ اس سے طالبان میں اندرونی طور پر طاقت کی رسہ کشی شروع ہوگئی۔ کئی موقعوں پر امریکی حکام نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اب جب واشنگٹن اور اس کے اتحادی افغانستان سے نکل رہے ہیں تو پاکستان 20 سالہ جنگ کے اثرات کو برقرار رکھنے کےلیے اہم رہے گا۔ اس جنگ میں قریب 10 کھرب امریکی ڈالرز اور 2300 سے زیادہ امریکی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس نقصان کا ازالہ کسی صورت ممکن نہیں۔
اپنے انخلا کے اعلان کے ساتھ صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں کا افغانستان میں قیام روکنے کے وعدے پر ’طالبان کا احتساب‘ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے خطے میں دوسرے ملکوں، خاص کر پاکستان، سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی مدد کے لیے مزید کوششیں یعنی ’ڈو مور‘ کرے۔ تاہم یہ ’ڈو مور‘ کی اصطلاح پاکستان کے لوگوں اور اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ پسند نہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انکے ملک نے دہشت گردی کے خلاف اس عالمی لڑائی میں پہلے ہی 73000 جانیں گنوا دی ہیں۔
اس وقت پاکستان کی کوشش ہے کہ امن کے لیے جاری کوششوں کو برقرار رکھا جائے اور مزید کامیابیاں حاصل کی جائیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہمارے مفاد میں ہے۔ ہم افغانستان میں امن اور استحکام قائم کرنے کےلیے بین الاقوامی برداری کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔‘
افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق امریکہ نے طالبان کے ساتھ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی اور فوجیوں کے انخلا میں چار ماہ کی تاخیر کی ہے۔ اس بار ’ڈو مور‘ سے مراد ہے کہ پاکستان ترکی کی میزبانی میں ہونے والے افغانستان امن اجلاس میں طالبان کی شرکت یقینی بنائے۔
ترک حکام کے مطابق اس اجلاس کا مقصد جنگ کے بعد بحالی کی کوششوں کو فوراً شروع کرنا ہے تاکہ ممکنہ طور پر ایک سیاسی حل نکالا جا سکے۔ طالبان اس وقت امریکہ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر ناخوش ہیں اور انہوں نے سمٹ میں شرکت کا اعلان نہیں کیا۔ صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ وہ امریکی انخلا کی نئی تاریخ پر رضامندی ظاہر کریں اور اس طرح یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بین الافغان مذاکرات ناکام نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب طالبان ترکی میں انٹرا افغان مذاکرات کے سمٹ میں شمولیت کےلیے اپنی شرائط رکھ سکتے ہیں۔ وہ قیدیوں کی رہائی اور اپنے رہنماؤں کے نام بلیک لسٹ سے ہٹانے کےلیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ حالانکہ اب پاکستان کا افغان طالبان پر پہلے جیسا اثر رسوخ نہیں ہے لیکن پھر بھی
امریکہ سمجھتا ہے کہ اسلام آباد انہیں مذاکرات کی میز پر واپس لاسکتا ہے۔
رحیم اللہ یوسفزئی کے خیال میں پاکستان تنہا اسے یقینی نہیں بنا سکتا۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے اور اس میں ملوث تمام ملکوں کو ایک کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ماضی کی طرح پاکستان اب طالبان پر اتنا اثر و رسوخ نہیں رکھتا۔ طالبان نے بھی اپنی حکمت عملی بدل لی ہے۔ وہ سفارتی طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں، انہوں نے کئی ملکوں سے رابطے قائم کیے ہیں اور اب قطر میں ان کا سیاسی دفتر بھی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب پاکستان سے متعلق یہ سمجھنا درست نہیں کہ وہ واحد ملک ہے جو طالبان پر دباؤ ڈالنے کی ذمہ داری رکھتا ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورت حال پر پاکستان کے بھی کچھ خدشات ہیں اور اسلام آباد چاہتا ہے کہ امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری ان خدشات پر غور کرے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ انڈیا کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ضرورت ہے اور ملک میں موجود افغان پناہ گزین کی واپسی کے مسئلے کو بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
جب سے امریکہ نے افغانستان سے بلا شرط انخلا کی بات کی ہے، تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس صورت حال میں بین الافغان مذاکرات کے بہت کم فوائد ہو سکتے ہیں۔ کئی لوگوں کو ڈر ہے کہ ملک میں دوبارہ خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے اور طالبان ان علاقوں پر بھی قبضہ کرسکتے ہیں جہاں فی الحال ان کی قوت کم ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ طالبان دوبارہ افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر سکتے ہیں۔
سنہ 1996 میں جب طالبان نے افغانستان میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت پاکستان ان تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔ پاکستان نے کھل کر یہ اظہار کیا ہے کہ وہ اس خیال کی حمایت نہیں کرتا کہ طالبان کابل میں دوبارہ اقتدار پر قابض ہو جائیں۔ اس بیان نے طالبان کو ناراض کیا ہے۔ لہٰذا امریکہ کی جانب سے افغانستان سے غیر مشروط انخلا کے اعلان کے بعد پاکستان مشکل گھڑی سے گزر رہا ہے اور اس خدشے کا شکار ہے کہ بیرونی قوتوں کے انخلا پر بین الافغان مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ملک میں پُرتشدد واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
