افغان امن عمل کے سہولتکار لیکن معاہدے کے مسودہ سے آگاہ نہیں،پاکستان

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے جس میں جنگ بندی، افغانستان کے مستقبل سمیت کئی مسائل پر بات چیت ہو گی. اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے امن معاہدے سے متعلق مسودہ پاکستان کو نہیں دکھایا گیا۔
27 فروری کے روزاسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان عائشہ فاروق کا کہنا تھا کہ یہ امن معاہدہ ‘طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں پاکستان سے بڑھ کر کوئی دوسرا ملک نہیں ہو سکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا ’ہم کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے امن عمل میں سہولت کاری کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمارا موقف ہے کہ افغانستان کی حکومت کی سرپرستی اور قیادت میں یہ امن عمل اپنی تکمیل کو پہنچے’۔ عائشہ فاروق کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی رواں ماہ کی 29 تاریخ کو افغان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کی اس مفاہمت پر عملدرآمد جاری ہے جو امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط سے قبل طے پائی ہے۔ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق امریکہ سے معاہدے کے تحت طالبان یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ ان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے رواں ماہ ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ تشدد میں کمی کے حوالے سے ہونے والی مفاہمت پر کامیابی سے عمل درآمد کی صورت میں امریکہ اور طالبان کے مابین 29 فروری کو معاہدہ ہو سکتا ہے۔امریکی مذاکرات کاروں اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایک ہفتے کے لیے ‘تشدد میں کمی’ کی جس مفاہمت پر اتفاق کیا گیا تھا اس کا آغاز 22 فروری کو ہوا تھا۔ اٹھارہ برسوں سے جاری جھگڑے کے حوالے سے یہ پہلی ایسی مفاہمت ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے اور یہ کہ امن معاہدے سے ‘انٹرا افغان مذاکرات کے راستے کھلیں گے’۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان کے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو امن کی جانب لے کر جائیں، جبکہ پاکستان دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات میں نئی مضبوطی کے لیے تیار ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس تاریخی موقع سے افغانستان کی تمام جماعتوں کے لیے افغانستان میں امن و استحکام لانے کے مواقع کھلیں گے۔
دوسری جانب پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے عہدہ سنبھالنے کے بعد 27 فروری کو پہلی میڈیا بریفنگ کے دوران افغان امن مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ‘پاکستان افغانستان کو امن عمل میں مکمل تعاون کے لیے ہر طرح سے تیار ہے۔’ انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں دیرپا امن کی خواہش رکھنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
اس سے قبل طالبان کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے مابین معاہدہ بین الااقوامی مبصرین کی موجودگی میں ہو گا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات 29 فروری کو معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد شروع ہوں گے۔
واضح رہے کہ سنہ 2001 میں امریکی سربراہی میں ایک بین الاقوامی اتحاد نے طالبان کی حکومت کو 9/11 کی ذمہ دار تنظیم القاعدہ کو پناہ دینے کے الزام میں ہٹا دیا تھا۔ گذشتہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ امریکی حکام اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی بات ہوچکی ہے۔ ان کا مقصد امریکی فوج کے انخلا کے بدلے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ افغان سر زمین پر غیر ملکی انتہا پسندوں کو رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مبصرین کے مطابق اس معاہدے سے ممکنہ طور پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز ہوگا جبکہ امریکہ کے افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا کی راہ ہموار ہو گی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی اس بارے میں حتمی رائے نہیں دی جا سکتی کہ آیا یہ افغانستان کے لیے ایک جامع امن معاہدہ ہو گا یا یہ صرف ایک ایسا معاہدہ ہے جو امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کا موقع فراہم کرے گا۔
