امریکی سیکرٹری دفاع کا آرمی چیف کو فون، مشرق وسطیٰ کی صورتحال بارے گفتگو

امریکی سیکرٹری دفاع ڈاکٹر مارک اسپر نے پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹیلی فون کرکے مشرق وسطیٰ کی حالیہ سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سیکرٹری دفاع مارک اسپر نے آرمی چیف سے کہا کہ امریکا لڑائی نہیں چاہتا لیکن ضرورت پڑی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی سیکریٹری دفاع سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان خطے کی موجودہ کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہےاور خطے میں قیام امن کے لیے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی مکمل حمایت کریں گے۔’


آرمی چیف نے متعلقہ فریقین پر جذباتی فیصلوں کے بجائے سفارتی طریقہ کار اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف لڑ کر خطے میں امن کے لیے بہت کام کیا ہے۔بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے تاکہ یہ پٹڑی سے نہ اترے اور خطہ نئے تنازعات کے بجائے موجودہ تنازع کے حل کی طرف جائے۔’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی سیکرٹری دفاع ڈاکٹر مارک اسپر پر زور دیا کہ فریقین بیان بازی سے گریز کریں اور سفارتی حل کی طرف آئیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔اسی روز امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔امریکی سیکریٹری خارجہ نے آرمی چیف سے ہونے والی گفتگو سے متعلق ٹویٹ میں کہا کہ ‘میں نے آج قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر امریکی دفاعی کارروائی کے بارے میں بات کی’۔مائیک پومپیو نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو بتایا کہ ‘ایران حکومت کے اقدامات سے خطے میں صورتحال غیر مستحکم ہو رہی ہے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button