آصفہ بھٹو خاتون اوّل کا درجہ پانے والی پہلی بیٹی کیسے بنیں؟

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی صدر مملکت نے اپنی بیٹی کو خاتون اول کے منصب پر فائز کیا ہے، عام طور پر صدر مملکت کی اہلیہ ہی خاتون اول بنتی ہیں، نومنتخب صدر آصف زرداری نے بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کو خاتون اول بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔’ڈان نیوز‘ کے مطابق آصفہ بھٹو زرداری کو خاتون اول کا درجہ دیا جائے گا،صدر آصف علی زرداری بی بی آصفہ بھٹو کو خاتون اول ڈکلیئر کریں گے، آصفہ بھٹو زرداری کو خاتون اول کا پروٹوکول دیا جائے گا، واضح رہے کہ آصفہ بھٹو زرداری پہلی خاتون اول ہوں گی جو صدر کی بیٹی ہیں، عام طور خاتون اول کا درجہ اہلیہ کو جاتا ہے، اگرچہ سابق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو حیات ہوتیں تو یہ اعزاز انہیں حاصل ہوتا لیکن صدرِ مملکت کی اہلیہ نہ ہونے کے سبب انہوں نے اپنی بیٹی آصفہ کو اس اعزاز سے نوازنے کا فیصلہ لیا ہے۔9 مارچ کو صدارتی انتخابات میں آصف علی زرداری نے 411 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدِمقابل سنی اتحاد کونسل کے نامزد کردہ امیدوار محمود خان اچکزئی کو 180 الیکٹورل ووٹ ملے، 231 ووٹس کی واضح برتری کے نتیجے میں آصف علی زرداری صدر کے منصب پر فائز ہونے کے اہل قرار پائے جس کی حلف برداری کی تقریب کا انعقاد اگلے روز کیا گیا۔10 مارچ کو حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم شہباز شریف، سابق صدر عارف علوی، قائد ن لیگ نواز شریف، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، بلاول بھٹو، بختاور بھٹو، آصفہ بھٹو زرداری شریک ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے نو منتخب صدر آصف علی زرداری سے انگریزی زبان میں حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب میں بھی آصفہ نے اپنے والد کے ہمراہ شرکت کی اور ان کے بازو میں اپنا بازو ڈال کر چلتی ہوئی نظر آئیں۔آصفہ بھٹو اپنے والد کے بے حد قریب ہیں اور اس کا ثبوت آصف علی زرداری نے حلف برداری کی تقریب میں ان کے ہمراہ شرکت کر کے دیا جبکہ خاتونِ اول جیسے خاص منصب کیلئے بھی آصفہ کا ہی انتخاب کیا۔آصفہ بھٹو زرداری 3 فروری 1993 کو پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئیں، وہ پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید اور پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔ بے نظیر سے محبت کرنے والے ان کے جیالے آصفہ میں والدہ کی جھلک دیکھتے ہیں اور اسی سبب ان کو لوگوں کی محبت پہلے سے ہی حاصل ہے، اگرچہ آصفہ گزشتہ چند سالوں سے سیاسی مہموں کا حصہ بنتی رہی ہیں لیکن وہ خود بطور لیڈر سامنے آنے کے بجائے بڑے بھائی بلاول بھٹو کو سپورٹ کرتی نظر آ رہی ہیں۔
