اگر تلخ فیصلے نہ کیے تو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا: وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے قرضوں نے ہماری نسلوں کو بھی گروی رکھ دیا ہے، تلخ فیصلے نہ کیے تو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا کوئٹہ میں کسان پیکیج کے دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری تھی، قرضوں نے ہماری نسلوں کو بھی گروی رکھ دیا ہے، قرضوں سے جان چھڑانے کےلیے وفاق، صوبے اور متعلقہ ادارے کام کریں گے تو آنے والی نسلیں دعائیں دیں گی،اگر تین سال بعد دوبارہ آئی ایم ایف کےپاس جانا پڑا تو ہمارےلیے ڈوب مرنےکا مقام ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سب مل کر چیزوں کو بہتر کریں گے،ہم نے اسی ماہ آئی ایم ایف کاپروگرام مکمل کرنا ہے،تلخ فیصلہ نہ کیےتو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑےگا۔

وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا تھا وفاق بلوچستان سےمل کرصوبےکے 28 ہزار ٹیوب ویلز کوشمسی توانائی پر منتقل کرےگا، بلوچستان میں بجلی پرچلنے والے 28 ہزار ٹیب ویلوں کوشمسی توانائی پر منتقل کیاجارہا ہے، منصوبے پر 55 ارب روپے کی لاگت آئے گی جس میں 70 فیصد وفاق اور 30 بلوچستان حکومت ادا کرے گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا بلوچستان ترقی کی دوڑمیں پیچھےہے جس کی کئی وجوہات ہیں،اگر 500 ارب سبسڈی کا پیسہ بلوچستان کی ترقی خوشحالی پر لگاہوتا تو یہاں ترقی ہوتی۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا وفاق نےبلوچستان میں دانش اسکولوں کےلیےبجٹ میں فنڈزرکھے ہیں، چاروں صوبوں کے ایک ہزارگریجوئٹس کوزرعی تربیت کے لیے چین بھیجیں گے، بلوچستان کا کوٹہ دیگر صوبوں سے 10 فیصد زیادہ رکھا ہے۔

Back to top button