مشرف کے ہاتھوں بگٹی کے قتل کی کہانی، چوہدری شجاعت کی زبانی

سینیر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ جس زمانے میں جنرل پرویز مشرف اور نواب اکبر بگتی کہ مابین اختلافات عروج پر پہنچ چکے تھے تب قاف لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے نے دونوں کے درمیان براہ راست ایک ملاقات کا بندوبست کیا تاکہ غلط فہمیاں دور ہو سکیں۔ یہ میٹنگ اسلام آباد میں رکھی گئی تھی لیکن طے شدہ وقت سے کچھ دیر پہلے یہ میٹنگ اچانک منسوخ ہو گئی۔ نواب اکبر بگٹی نے بعد میں چوہدری شجاعت کو بتایا کہ صدر مشرف کے آفس سے فون آیا کہ ان کو لانے والا جہاز ڈیرہ بگٹی پہنچنے کے بعد خراب ہوگیا ہے لہٰذا میٹنگ منسوخ کی جاتی ہے۔ لیکن اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ اس فون کے آدھ گھنٹہ بعد صدر مشرف کا جہاز انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے فضا میں اڑتے دیکھا ۔ یہ جہاز ڈیرہ بگٹی ایئربیس سے واپس جا رہا تھا۔

سلیم صافی نے اپنی تازہ تحریر میں چوہدری شجاعت حسین کی کتاب ”سچ تو یہ ہے“ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ :’’نواب اکبر بگٹی کے بارے میں ہمارے دل میں ہمیشہ احترام رہا۔ وہ نہ صرف گورنر بلوچستان کے طور پر وفاق کی نمائندگی کر چکے تھے بلکہ بطور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی ان کی بڑی خدمات ہیں۔وہ بلوچستان کے ان نمایاں سیاستدانوں میں سے تھے جن کا فیڈریشن پر پختہ یقین تھالیکن پھر ایک ایسا وقت آیا کہ ان کے اور فیڈریشن کے تعلقات میں تنائو آ گیا۔ اس کی وجوہات میں، ان کا سوئی گیس کی رائلٹی کا مطالبہ ، اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنے کی اجازت، فوجی چوکیوں خاص طور پر جو ان کے گھر کے قریب تھیں کا خاتمہ شامل تھا۔

لاہور ہائی کورٹ: محسن نقوی کی سینیٹ کی نشست سے نااہل قرار دینے کی درخواست پر سماعت ملتوی

سلیم صافی چوہدری شجاعت کی کتاب کا حوالہ دے کر مزید لکھتے ہیں جن دِنوں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے، ایک بار ہم ان کے گھر گئے۔ میرے ساتھ مشاہدحسین سید، اور خاتون صحافی نسیم زہرہ بھی تھے۔ ہم نے ان کے گھر میں ایک بڑا سا گڑھا دیکھا جس کے بارے میں نواب اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ یہ فوجی بمباری کی وجہ سے بنا ہے اور اس بمباری کے نتیجے میں ان کی پوتی زخمی ہوگئی تھی۔ بقول ان کے یہ بات انہوں نے عوام کو اس لئے نہیں بتائی کہ اشتعال پھیلنے کا اندیشہ تھا۔ پھر انہوں نے گھر کے قریب فوجی چوکی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ان کے گھر کی بے پردگی ہوتی ہے۔ اسلام آباد واپسی پر ہم نے پرویز مشرف سے بات کی۔ انہوں نے ہمارے کہنے پر چوکی کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے دیا۔
یہاں مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آرہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی کا ایک بیٹا قتل ہو گیا۔ چونکہ ان دنوں میر ظفراللہ جمالی بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تھے لہٰذا اکبر بگٹی ان کو بھی اپنے بیٹے کے قتل کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ اکبر بگٹی نے اپنے بیٹے کے قتل کی ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کردیا اور عہد کیا کہ اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ خود لیں گے۔ اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد میر ظفراللہ جمالی مجھے بھی اپنے ساتھ ڈیرہ بگٹی لے گئے تاکہ نواب بگٹی کو بتا سکیں کہ ان کا اس قتل میں کوئی ہاتھ نہیں لہٰذا ان کو معاف کردیں ۔ وہاں پہنچے تو مجھے بگٹی دوسرے کمرے میں لے گئے۔ پوچھا جمالی کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ میں نے کہا ان کا کوئی قصور نہیں۔ ان کو معاف کر دیں۔ کہنے لگے ٹھیک ہے میں ان کو معاف کردیتا ہوں لیکن میری ایک شرط ہے۔ جمالی سچے ہیں تو دہکتے انگاروں پر ننگے پائوں چل کر دکھائیں۔ جب یہ بات ظفراللہ جمالی کے علم میں آئی تو انہوں نے دہکتے انگاروں پر ننگے پائوں چلنے سے معذرت کر لی۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب اکبر بگٹی اور حکومت کے درمیان معاملات خاصے خراب ہوچکے تھے ۔ وہ چوہدری شجاعت کی کتاب کا مزید حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک روز ہم صدر پرویز مشرف کے ساتھ معمول کی ایک میٹنگ میں بیٹھے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس جنرل ندیم اعجاز نے اکبر بگٹی کے بارے میں بتانا شروع کیا کہ وہ پہاڑوں میں روپوش ہوچکے ہیں لیکن جلد ہی ہم ان کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ میں نے محسوس کیاکہ جنرل اعجاز جب بھی اکبر بگٹی کے بارے میں بات کرتے ان کا لہجہ بہت سخت ہو جاتا تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ میں اور مشاہد حسین جنرل ندیم اعجاز کے گھر جائیں گے اور ان کی نواب اکبر بگٹی کی بابت غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم جنرل ندیم اعجاز کے گھر گئےاور ان سے کہا کہ اکبر بگٹی کے ساتھ ان دنوں حکومت کی محاذ آرائی ہے مگر ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ اکبر بگٹی بلوچستان کے ان رہنمائوں میں سے ہیں جو وفاق کے حامی رہے ہیں اور قوم پرستوں کے مقابلے میں انہوں نے ہمیشہ وفاق کا ساتھ دیا ہے۔ بقول شجاعت حسین ہم نے جنرل ندیم سے کہا کہ ہماری درخواست صرف یہ ہے کہ اکبر بگٹی کو ماریں نہیں بلکہ ان کو گرفتار کر لیں۔ یہ کہہ کر ہم واپس آگئے مگر اگلے روز ہی اکبر بگٹی کی موت کی خبر آگئی۔ قدرتی طور پر مجھے اس کا بہت دکھ ہوا۔

بقول شجاعت حسین، نواب اکبر بگٹی کے قتل کے اگلے روز صدر پرویز مشرف نے مری میں ایک میٹنگ بلائی جس میں میرے علاوہ جوائنٹ چیف آف اسٹاف، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی آئی بی بھی موجود تھے ۔ جنرل ندیم اعجاز نے تمام شرکا کے سامنے صدر مشرف کو بتایا کہ کوئٹہ میں لوگ نواب اکبر بگٹی کے قتل پر بہت خوش ہیں اور مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے جنازے پر بھی لوگ نہیں آئیں گے۔ اس کے بعد بحث شروع ہو گئی کہ نواب اکبر بگٹی کے جنازے میں کسی حکومتی عہدیدار کو بھیجنا چاہئے تو کون جائے گا۔ اس پر صدر مشرف نے کہا کہ ایک نمائندہ بھجوا دیتے ہیں۔ پھر انہوں نے میرا نام تجویز کیا کہ چوہدری شجاعت نواب اکبر بگٹی کے جنازے میں شرکت کریں گے جس پر میٹنگ میں موجود کسی نے کہا کہ صدر صاحب! چوہدری صاحب کی جان کیوں خطرے میں ڈالتے ہیں۔ چنانچہ حکومت کے کسی نمائندے نے نواب اکبر بگٹی کے جنازے میں شرکت نہیں کی سوائے وہاں موجود سیکورٹی اہلکاروں کے۔“

Back to top button