’را‘ کی پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا وار میں شدت کیسے آئی؟

جنگ کے میدان میں منہ توڑ جواب ملنے کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان پر سائبر حملے شروع کر دئیے ہیں، ملکی میں اتنشار پھیلانے اور بین الاقوامی تعلقات کو برباد کرنے کیلئے بھارتی سرپرستی میں چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے کا آغاز کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ ڈیجیٹل دور میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ سوشل میڈیا، معلومات اور بیانیوں کے محاذ پر بھی جاری رہتی ہیں۔ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز میں جہاں روایتی خطرات شامل ہیں، وہیں اطلاعاتی اور نفسیاتی جنگ بھی ایک اہم عنصر بن کر سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان کے خلاف ایک نئی مبینہ ڈس انفارمیشن مہم شروع کر رکھی ہے تاکہ پاکستان سیاسی انتشار پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی کو فروغ دیتے ہوئے علاقائی تعلقات کو متاثر کیا جا سکے۔مبصرین کے مطابق جدید دور میں جھوٹی معلومات، گمراہ کن خبروں اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کی کوششیں عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ پاکستان بھی اس صورتحال سے مستثنیٰ نہیں ہے، ملک دشمن مختلف حلقے پاکستان کی قومی سلامتی کے خلاف برسر پیکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے منسلک عناصر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان میں سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔باخبر ذرائع کے مطابق اس مبینہ مہم کے لیے مختلف سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مہم کا مقصد پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا، ریاستی اداروں کے خلاف منفی بیانیے کو فروغ دینا، مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دینا اور پاکستان کے علاقائی تعلقات خصوصاً ایران کے ساتھ روابط کو متاثر کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس مہم کا پہلا مبینہ بیانیہ پاکستان کے اسرائیل سے متعلق مؤقف کے گرد گھمایا جائے گا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تاثر دینے کی کوشش ہوگی کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اندرونی دباؤ کے باعث ایسا نہیں کر پا رہا۔ مبصرین کے مطابق ایسے دعوؤں کا مقصد مذہبی جذبات کو بھڑکانا اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔دوسرے مبینہ بیانیے میں پاکستان اور ایران کے تعلقات کو نشانہ بنانے کی کوشش کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے دعوے پھیلائے جا سکتے ہیں کہ بلوچستان میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے فوجی یا انٹیلی جنس اڈے قائم کیے جا رہے ہیں، جنہیں ایران کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے کسی قسم کے شواہد یا سرکاری تصدیق موجود نہیں۔ دوسری جانب پاکستان کا اسرائیل کے حوالے سے سرکاری مؤقف بدستور واضح ہے۔ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ پاکستانی قیادت متعدد مواقع پر اس مؤقف کا اعادہ کر چکی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تیسرا بیانیہ سول اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کا تاثر پیدا کرنے پر مبنی ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ایک دوسرے سے متضاد دعوے بیک وقت پھیلائے جا سکتے ہیں تاکہ عوامی سطح پر شکوک و شبہات اور اداروں کے بارے میں بداعتمادی پیدا ہو۔ذرائع کے مطابق یوٹیوب، ایکس (سابق ٹوئٹر)، فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز اس مبینہ مہم کے بنیادی ذرائع بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مختلف بوٹ نیٹ ورکس، جعلی اکاؤنٹس اور مخصوص پروپیگنڈا پلیٹ فارمز اس مہم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مخالف عناصر کی جانب سے ایک منظم سوشل میڈیا مہم کی تیاری کی گئی ہے جس کے تحت مختلف پلیٹ فارمز پر مخصوص بیانیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس مہم میں متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس، غیر ملکی پروپیگنڈا نیٹ ورکس اور بعض مقامی عناصر کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید اطلاعاتی جنگ کا بنیادی مقصد براہ راست تصادم کے بجائے عوامی رائے، سیاسی ماحول اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے سوشل میڈیا کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس مبینہ مہم کا ایک اہم ہدف پاکستان کے اندر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات کو فروغ دینا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی مہمات میں عموماً حساس مذہبی، سیاسی اور قومی معاملات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں تقسیم اور اشتعال پیدا کیا جا سکے۔ اس تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، مذہبی جذبات اور علاقائی تعلقات جیسے موضوعات کو استعمال کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مبینہ پروپیگنڈا مہم کا ایک مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچانا بھی ہو سکتا ہے۔پاکستان اور ایران خطے کے دو اہم ہمسایہ ممالک ہیں جن کے درمیان سرحدی سلامتی، تجارت اور علاقائی استحکام کے حوالے سے تعاون موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔اسی لیے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ جھوٹی خبروں اور غیر مصدقہ دعوؤں کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اطلاعاتی جنگ کی ایک نمایاں خصوصیت متضاد بیانیوں کا بیک وقت فروغ ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض اوقات ایک ہی موضوع پر ایک دوسرے کے برعکس دعوے پھیلائے جاتے ہیں تاکہ عوام کنفیوژن کا شکار ہوں اور اصل حقائق پس منظر میں چلے جائیں۔اس حکمت عملی کا مقصد کسی ایک مؤقف کو ثابت کرنا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کو کمزور کرنا اور اداروں کے بارے میں شکوک پیدا کرنا ہوتا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں قومی سلامتی صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں رہی بلکہ اطلاعاتی تحفظ بھی اس کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔جھوٹی خبروں، جعلی اکاؤنٹس اور منظم سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے ریاستی بیانیے کو چیلنج کرنا، عوامی جذبات کو بھڑکانا اور سماجی تقسیم پیدا کرنا اب ہائبرڈ وارفیئر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔اسی لیے دنیا کے مختلف ممالک نے سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل نگرانی اور فیک نیوز کے تدارک کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔
