"کیا لکھنا؟”

حریر: نصرت جاوید

بہت کوشش کے باوجود اس کالم نگار کا نام یاد نہیں کرپارہا۔ کاہلی کی نحوست مسلط نہ ہوچکی ہوتی تو انکل گوگل کو زحمت دے کر نام معلوم کیا جاسکتا تھا۔ یہ سوچ کر مگر کوشش نہ کی کہ نام میں کیا رکھا ہے۔ اصل بات جو بتانا ہے وہ یہ ہے کہ موصوف برطانیہ سے شائع ہونے والے گارجین اخبار کے بہت دھانسو کالم نگار ہوا کرتے تھے۔ 1980ء کی دہائی کے آغاز میں انہیں سرطان کے موذی مرض کا شکار بتاتے ہوئے ڈاکٹروں نے دنیا سے رخصت ہونے کو تیار کیا۔ اپنے کالموں سے طاقتور سیاستدانوں کی بھد اڑانے والے اس کالم نگار نے مگر ہمت نہ ہاری۔ فیصلہ کیا کہ جب تک زندہ ہے لندن رہنے کے بجائے اپنے ملک کے تقریباََ ہر گائوں میں کچھ دن گزارنے کے بعد وہاں کی زندگی کو کالموں میں بیان کرے گا۔ ٹھکانے بدل بدل کو دیہی زندگی کے بارے میں اس کے لکھے کالموں نے لندن کی اشرافیہ کو حیران وپریشان کردیا۔ ذاتی محفلوں میں اعتراف کرنے کو مجبور ہوئے کہ وہ اپنے ہی ملک کے ٹھوس حقائق سے قطعاََ غافل ہیں۔
1980ء کی دہائی شروع ہوتے ہی میں نے بھی لندن میں 16سے زیادہ ماہ گزارے تھے۔ ارادہ تھا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کروں گا۔ کل وقتی صحافت کی مگر لت لگ چکی تھی۔ وطن لوٹنے کو بے قرار رہتا۔ بدھو بالآخر لوٹ کر گھر کو آیا تو اسلام آباد کے روزنامہ ’’دی مسلم‘‘ کا رپورٹر ہوگیا۔ سیاست ان دنوں پابند تھی۔ اخبار چھپنے سے پہلے سنسر کے لئے بھجوایا جاتا۔ میں نے سفارتی وثقافتی تقاریب کے بارے میں کالم لکھنا شروع کردئے۔ ان کی وجہ سے دانشور تصور ہونے کے باوجود بہت چائو سے جرائم کی خبریں ڈھونڈنے کا جنون بھی جاری رکھا۔
ہمارے اخبار کی لائبریری کے لئے برطانوی سفارتخانے کا شعبہ ابلاغ ٹائمز اور گارجین اخبار بھجوایا کرتا تھا۔ شائع ہونے کے تقریباََ ایک یا دو روز بعد ہماری لائبریری میں میسر ہوتے۔ نیوز ایڈیٹر ان سے رجوع کرنا وقت کا زیاں شمار کرتے۔ میں انگریزی زبان پر گرفت کے حصول کے لئے ان اخبارات کا بے تابی سے منتظر رہتا۔ دونوں اخبار ہاتھ لگتے ہی مگر سب سے پہلے گارجین کھول کر اس کالم نگار کی تحریر تلاش کرتا جو لندن کی روشنیاں چھوڑ کر مرنے سے قبل ترکے کے طوپر برطانیہ کے دیہاتوں تک محدود ہوئے عام انسانوں کی داستانیں لکھ رہا تھا۔
ربّ کا لاکھ لاکھ شکر۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے باوجود مجھے ابھی تک صرف فشارِ خون کے مرض میں مبتلا بتایا گیا ہے۔ ڈاکٹر مصر ہیں کہ روزمرہّ زندگی کے معمولات میں تھوڑی تبدیلیاں،دن میں آدھے گھنٹے کی چہل قدمی اور دوائیوں کے باقاعدہ استعمال سے میں جب تک ربّ کو منظور ہے زندہ رہ سکتا ہوں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ نظر بظاہر صحت مند زندگی کے مزید سال میسر ہونے کے باوجود گزشتہ کئی مہینوں سے یہ سوال تنگ کئے چلے جارہا ہے کہ لکھوں تو کیالکھوں مگر اور کس کے لئے لکھوں۔
زندگی کی تین دہائیاں سیاست اور خارجہ امور پر لکھتے ہوئے گزاردیں۔ 1980ء کی دہائی میں ہر دوسرا سیاستدان مجھے دل سے وطن عزیز میں جمہوریت کے قیام واستحکام کے لئے فکر مند نظر آتا۔ جنرل ضیاء کی 1988ء میں رحلت کے بعد یہ ہی سیاستدان مگر اپنا عہد نبھانے میں ناکام رہے۔ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو خلوص سے تسلیم کرنے کے بجائے محلاتی سازشوں سے کسی بھی حکومت کو آئینی مدت پوری نہ کرنے دی۔ اقتدار میں باریاں لینے کو بے تاب سیاستدانوں نے جنرل مشرف کو اقتدار سنبھالنے کی راہ دکھائی۔ موصوف کے دور میں بھی مجھ جیسے بے وقوف ’’اصل جمہوریت‘‘ کے متلاشی رہے۔
دریں اثناء 2007ء میں ان دنوں کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے مستعفی ہونے سے ’’انکار‘‘ کرتے ہوئے آزاد عدلیہ کی تحریک بھڑکائی۔ میرے دیرینہ دوستوں میں سے نمایاں ترین چودھری اعتزاز احسن اس تحریک کے قد آور رہ نمائوں میں شامل تھے۔ عدلیہ کو ’’ماں جیسی‘‘ بنانے کا ترانہ سناتے رہے۔ میرا وہمی دل افتخار چودھری کو مسیحا ماننے سے جبلی طورپر آمادہ نہ ہوا۔ قوم مگر پْرامید تھی۔ دریں اثناء امریکہ کا جی صدر بش کے ’’جگری یار‘‘ مشرف سے بھرگیا۔ واشنگٹن کو گماں تھا کہ افغانستان میں جمہوریت اور روشن خیالی فقط اسی صورت ممکن ہے اگر مشرف کو پیپلز پارٹی جیسی عوام میں مقبول اور روشن خیال جماعت کی حمایت ومعاونت بھی میسر ہوجائے۔ نئے انتخابا ت کے لئے دبائو بڑھاتو سعودی عرب جلاوطن کئے نوازشریف بھی وطن لوٹ آئے۔ ’’میثاق جمہوریت‘‘ نامی دستاویز پر دستخط کے باوجود دونوں جماعتیں مگر جمہوری نظام کے استحکام کے وعدے پر حقیقی معنوں میں عمل نہیں کرپائیں۔ 2008ء کے انتخابات سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی راولپنڈی کے لیاقت باغ کے عین قریب دہشت گردی کی وجہ سے شہید کردیا گیا۔ میں آج بھی اس قتل کے حقیقی ذمہ داروں کے نام نہیں جانتا۔ ان کی جماعت نے بھی ان کے قتل کو ’’پراسرار‘‘ رکھنے سے سمجھوتہ کرلیا ہے۔ عام شہری ہوتے ہوئے مجھے ’’توں کون؟ میں خواہ مخواہ‘‘ بننے کا شوق نہیں۔وقت بہرحال بہتے پانی کی طرح گزرتا چلا گیا۔ 2008ء سے 2013ء تک آصف علی زرداری کی سرپرستی میں بنایا بندوبستِ حکومت ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ کے مستقل تاثر کے باوجود برقرار رہا۔ اسے قائم رکھنے کے لئے فقط یوسف رضا گیلانی کی بطور وزیر اعظم قربانی دینا پڑی۔ اپنے ہی ملک اور جماعت کے صدر اور سربراہ کی مبینہ طورپر ناجائز ذرائع سے کمائی دولت کا سرا غ لگانے کے لئے وہ عوامی تحریک کی بدولت بحال ہوئے چیف جسٹس کے حکم پر سوئس حکومت کو خط نہ لکھ پائے۔ توہین عدالت کے جرم میں فارغ ہوگئے۔ ان ہی دنوں افتخار چوھری کے ہاتھوں آصف علی زرداری بھی نام نہاد ’’میموگیٹ‘‘ کی وجہ سے گھر بھیجے جاسکتے تھے۔ قسمت مگر اچھی تھی۔ بچ رہے اور ایوانِ صدر میں پانچ سال مکمل کرلئے۔
ان کے بعد نواز شریف صاحب کی تیسری حکومت آئی تو سپریم کورٹ نے ایک اور وزیر اعظم کو جھوٹا اور خائن قرار دے کر گھر بھیج دیا۔ اپنی فراغت کے بعد وہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی دہائی مچاتے جیل گئے۔ وہاں سے لندن اور ان دنوں وطن لوٹ کر بھی منیر نیازی کی طرح اْکتائے ہوئے رہتے ہیں جبکہ ان کے بردار خورد وزیر اعظم شہباز شریف کو امریکی صدر اور وزیر جنگ اپنا یار کہتے ہیں اور دْختر ماشاء اللہ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے ہمارے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ آصف علی زرداری بھی ایوان صدر واپس لوٹ آئے ہیں۔ جمہوریت نام تھا جس کا وہ مگر ہائی برڈ ہوچکی ہے۔ سیاست کے بارے میں لہٰذا اب حبیب جالب مرحوم کی وہ غزل ہی یاد کرسکتا ہوں جس کی ردیف ہے ’’کیا لکھنا؟‘‘
سیاست ہائی برڈ ہوجائے تو اس کی اصل بحال کرنے کو چست سیاستدان درکار ہوتے ہیں۔ عددی اعتبار سے اب بھی قومی اسمبلی میں وہ گروہ سب سے توانا ہے جس نے 8فروری 2024ء کے روز عمران خان سے وابستگی کے نام پر ووٹ حاصل کئے تھے۔ جیل میں مقید اپنے قائد کے حکم پر اس گروہ نے مگر محمود خان اچکزئی کو اپنی لگام تھمادی ہے۔ نہایت تجربہ کار ہونے کے باوجود اچکزئی صاحب مگر اس گروہ کو حقیقی معنوں میں متحرک نہیں کرپارہے۔ اپوزیشن بھی گویا ’’ہائی برڈ‘‘ ہوچکی ہے۔ ’’ہائی برڈ‘‘ دور میں حکومت کے دئے ڈیکلریشن کی بدولت چھپے اخبار میں مجھ جیسا قلم گھسیٹ سیاست کو ازخود پررونق دکھانہیں سکتا۔
عمر تمام برجستہ لکھنے کی عادت رہی ہے۔ اب قلم ہاتھ میں لئے ابتدائیہ لکھنے سے قبل کئی بار سوچتا ہوں۔ اسے لکھنے کے بعد جمائیاں لیتے ہوئے نہایت سست روی سے اختتام تک پہنچا ہوں۔ چند ماہ قبل فشارِ خون کا مرض بے قابو ہوا تو سوچا صحافت کو خدا حافظ کہہ دیا جائے۔ اس کے بعد مگر ’’کھائیں گے کیا؟‘‘ کا سوال اٹھا تو پتھرمیں بند کیڑے کو بھی رزق فراہم کرنے والے ربّ کریم نے مارچ کا آغاز ہوتے ہی ایران پر امریکہ اور اسرئیل کی مسلط کردہ جنگ کا سیزن فراہم کردیا۔ گزشتہ تین مہینوں سے اس جنگ پر تبصرہ آرائی کرتے ہوئے ’’ماہر عالمی امور‘‘ بن گیا ہوں۔ ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ مگر اب جمود کی جکڑ میں آچکی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ گارجین کے اس کالم نگار کی طرح جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا اپنی اشرافیہ کے کارناموں سے نگاہیں ہٹاکر نظر انداز کئے لوگوں کی روزمرہّ زندگی پر توجہ دوں۔ عمر کے آخری حصے میں غریب آدمی کی زندگی پر فوکس شاید میری بے شمار خطائوں میں سے چند ایک کا کفارہ ادا کرسکے۔

Check Also
Close
Back to top button