’ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی‘ اچکزئی کیخلاف مقدمہ درج

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے خلاف ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیزی اور عوام کو اکسانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ چمن کے سٹی تھانے میں عبدالولی خان غیبزئی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے عیدالاضحیٰ کے تیسرے روز چمن میں منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے اور عوام کو اکسانے کی کوشش کی۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق اپنے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے بلوچستان میں گاڑیوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام قرار دیا۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو ’’فارم 47 کی جعلی حکومت‘‘ بھی کہا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جلسے کے شرکا نے بعد ازاں مرکزی شاہراہ بند کر کے ٹریفک کی روانی متاثر کی، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس نے محمود خان اچکزئی کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 153 اے، 505، 131، 341، 147 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ سٹی تھانہ چمن کے ایس ایچ او نے اے ایس آئی غلام محمد کو اس مقدمے کا تفتیشی افسر مقرر کر دیا ہے۔
دوسری جانب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے مقدمے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اور ترجمان کبیر افغان نے کہا کہ یہ مقدمہ ’’جعلی، بوگس اور بے بنیاد‘‘ ہے اور اس کا مقصد سیاسی مخالفین کی آواز دبانا ہے۔کبیر افغان کے مطابق محمود خان اچکزئی ہمیشہ آئین کی بالادستی، جمہوریت، پشتون عوام کے حقوق، امن، روزگار اور وسائل پر مقامی آبادی کے اختیار کی بات کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی اچکزئی عوامی مسائل اور آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو ان کے خلاف جھوٹے مقدمات اور منفی پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے۔پارٹی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ مقدمہ فوری طور پر ختم کیا جائے اور سیاسی اختلافات کو قانونی کارروائیوں کے ذریعے دبانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں اور ایسے اقدامات سے سیاسی جدوجہد کو روکا نہیں جا سکتا۔
