2026کے عام انتخابات گلگت بلتستان کیلئے اتنے اہم کیوں؟

گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات محض ایک سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ خطے کے مستقبل، آئینی شناخت اور عوامی حقوق کے حوالے سے ایک اہم امتحان بن چکے ہیں۔ مختلف قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اور پہاڑوں کی سرزمین سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور دیگر جماعتیں ووٹرز کو اپنے حق میں متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن انتخابی نعروں اور وعدوں سے بڑھ کر ایک سوال عوام کے ذہنوں میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے: کیا اس بار گلگت بلتستان کو اس کی آئینی شناخت اور مکمل سیاسی حقوق مل سکیں گے؟سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابات صرف 24 نشستوں کا معرکہ نہیں بلکہ مستقبل کی قومی سیاست، وفاقی پالیسیوں اور گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل کا رخ متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں عام انتخابات کی انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین مسلسل علاقے کا رخ کر رہے ہیں۔ سیاسی جلسوں، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور اپنی جماعت کے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت بھی مختلف سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہو چکی ہے جبکہ نواز شریف کی انتخابی مہم میں شرکت نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔
خیال رہے کہ گلگت بلتستان میں جمہوری عمل کا باقاعدہ آغاز 2009 میں ہوا جب گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت پہلی مرتبہ عام انتخابات منعقد کیے گئے۔ اس کے بعد ہر پانچ سال بعد انتخابات کا انعقاد ایک سیاسی روایت بن چکا ہے۔2020 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی تھی اور خالد خورشید وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ان کی نااہلی کے بعد سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو گیا اور مختلف جماعتوں پر مشتمل اتحادی حکومت وجود میں آئی۔
اس مرتبہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 عمومی نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ امیدوار میدان میں اتارے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف اور مجلس وحدت المسلمین کے درمیان انتخابی اتحاد بھی انتخابی معرکے کو مزید دلچسپ بنا رہا ہے۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔دوسری جانب بعض سیاسی تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے الزام لگایا ہے کہ اس کے بعض رہنماؤں کو انتخابی مہم کے دوران گلگت بلتستان میں داخلے سے روکا گیا، جبکہ نگران حکومت کا مؤقف ہے کہ کارروائی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر کی گئی۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق اس بار تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ ان میں مرد ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہے۔تاہم انتخابی عمل کے دوران ووٹر لسٹوں اور پولنگ سٹیشنز کے حوالے سے بعض شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض علاقوں میں ایک ہی خاندان کے افراد کو مختلف اور دور دراز پولنگ سٹیشنز تفویض کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آمدہ الیکشن میں عوام کی سب سے بڑی امید کیا ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس انتخاب میں عوام کی سب سے بڑی امید آئینی اصلاحات اور خطے کی آئینی حیثیت کا تعین ہے۔عوام کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے گلگت بلتستان کو مکمل آئینی شناخت دینے، نمائندگی کے مسائل حل کرنے اور اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے وعدے تو کیے گئے لیکن عملی پیش رفت محدود رہی۔علاقے کے لوگوں کی خواہش ہے کہ نئی منتخب حکومت اور وفاقی قیادت گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل سے متعلق واضح اور پائیدار حل پیش کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہتر طرز حکمرانی، ترقیاتی منصوبے، روزگار کے مواقع، سیاحت کے فروغ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی عوامی ترجیحات میں شامل ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات کو ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ نتائج اس بات کا اشارہ دے سکتے ہیں کہ مختلف جماعتوں کی عوامی مقبولیت کس حد تک برقرار ہے اور آنے والے قومی سیاسی منظرنامے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔یوں 7 جون کا انتخاب صرف حکومت سازی کا مرحلہ نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے سیاسی، آئینی اور ترقیاتی مستقبل کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
