200یونٹ تک کی بلائنڈ سبسڈی کا خاتمہ،اب عوام کو سستی بجلی کیسے ملے گی؟

وفاقی حکومت نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے دی جانے والی سبسڈی کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت کے مطابق سستی بجلی کی سہولت ختم نہیں کی جا رہی بلکہ اسے صرف حقیقی مستحقین تک محدود کرنے کیلئے نیا "ٹارگٹڈ سبسڈی سسٹم” متعارف کرایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کے مطابق ماضی میں 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 60 سے 70 لاکھ کے درمیان تھی، جو اب بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس وقت ملک کے تقریباً 86 فیصد بجلی صارفین پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل ہیں، جس کے باعث حکومت کو سالانہ 527 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دینا پڑتی ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نظام کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال بھی ہو رہا تھا۔ متعدد افراد اضافی میٹرز، سرونٹ کوارٹرز، خالی پلاٹس یا سولر سسٹمز کی مدد سے خود کو 200 یونٹ کی حد میں رکھ کر سبسڈی حاصل کر رہے تھے، حالانکہ وہ اس رعایت کے اصل مستحق نہیں تھے۔

نئے نظام کے تحت اب سبسڈی صرف ان صارفین کو ملے گی جو اپنے بجلی کے میٹر کو شناختی کارڈ اور موبائل نمبر کے ساتھ رجسٹر کریں گے۔ اس مقصد کیلئے بجلی کے بلوں پر کیو آر کوڈ متعارف کرا دیا گیا ہے اور اب تک 20 لاکھ سے زائد صارفین اپنی تفصیلات رجسٹر کرا چکے ہیں۔حکومت کے مطابق صرف وہی صارفین "پروٹیکٹڈ” یا "لائف لائن” کیٹیگری میں شمار ہوں گے جنہوں نے مسلسل گزشتہ 6 ماہ کے دوران کسی بھی مہینے میں 200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال نہ کی ہو۔ اگر کسی صارف کا استعمال ایک ماہ کیلئے بھی 200 یونٹ سے تجاوز کر گیا تو وہ آئندہ 6 ماہ تک رعایتی کیٹیگری سے باہر ہو جائے گا۔اسی طرح ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک میٹر کو سبسڈی کیلئے اہل تصور کیا جائے گا، جبکہ جو صارفین اپنے میٹر کو شناختی کارڈ سے لنک نہیں کریں گے وہ بھی اس رعایت سے محروم ہو سکتے ہیں۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ جنوری 2027 تک اس پورے نظام کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اور نیشنل سوشل اکنامک رجسٹر (NSER) کے ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا جائے تاکہ سبسڈی صرف کم آمدنی والے اور مستحق گھرانوں تک پہنچ سکے۔

توانائی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے سبسڈی کے غلط استعمال میں کمی آسکتی ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیچیدہ ڈیجیٹل نظام، کیو آر کوڈ اور آن لائن تصدیق کے مراحل غریب اور کم پڑھے لکھے صارفین کیلئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس نظام کو شفاف اور آسان بناتی ہے تو سبسڈی کا حقیقی فائدہ مستحق افراد تک پہنچ سکتا ہے، بصورت دیگر ہزاروں مستحق صارفین بھی اس ریلیف سے محروم ہو سکتے ہیں۔

Back to top button