کیا شاہد خاقان کی سیاسی جماعت کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے؟

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے دست راست سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نون لیگ کی پیٹھ میں چھڑا گھونپتے ہوئے باغیوں پر مشتمل اپنی نئی جماعت عوام پاکستان پارٹی کا اعلان کر دیا ہے تاہم پاکستان میں سیاسی حلقے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سیاسی افق پر ابھرنے والی اس نئی سیاسی جماعت عوام پاکستان پارٹی کے پیچھے اصل میں کون ہے؟اگرچہ اس پارٹی کے کنوینر، سابق وزیراعظم پاکستان اور مسلم لیگ ن کے سابق رہنما شاہد خاقان عباسی اپنی پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق کی بار بار تردید کر چکے ہیں لیکن یہ سوال اب بھی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔
ممتاز تجزیہ کار امتیاز عالم کہتے ہیں کہ عوام پاکستان پارٹی کا ظہور غیب سے ہوا ہے اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آسمان سے گرنے والی یہ جماعت کس کھجور میں اٹکے گی۔ امتیاز عالم کے مطابق پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان، عوام اور استحکام جیسے الفاظ غیر سیاسی لوگوں کے ذہنوں میں رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ عوام پاکستان پارٹی کا تعلق بھی استحکام پاکستان پارٹی اور پاک سرزمین پارٹی کے قبیلے سے ہی ہے۔
خیال رہے کہ شاہد خاقان عباسی کی سیاسی جماعت ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے جب ملک میں کئی جماعتیں مڈ ٹرم الیکشن کی باتیں کر رہی ہیں، اور یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کر سکے گی یا نہیں۔ اس وقت پورا ملک بجٹ کے سخت اقدامات پر پریشان ہے۔ موجودہ حکومت مسلسل اپنی مقبولیت کھو رہی ہے اور عوام ریلیف کے لیے کسی تبدیلی کی امید برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
جسٹس طارق محمود کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ
ایسے میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ عوام پاکستان پارٹی کیوں بنائی گئی؟اس سوال کے جواب میں مختلف تجزیہ کاروں کی رائے مختلف ہے۔ سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کا خیال ہے کہ یہ جماعت قومی سطح پر جاری ڈیبیٹ کا رخ موڑنے کی ایک کوشش ہے: ”اس جماعت کے رہنماؤں کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ روایتی موضوعات کی بجائے تعلیم، معیشت اور گورننس جیسے سنجیدہ ایشوز کی طرف عوام کی توجہ مبذول کروانا چاہ رہے ہیں۔‘‘مجبیب الرحمٰن شامی کے بقول ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر اس پارٹی کو کوئی رول مل جائے لیکن ابھی اس پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق پر شبہات کا ہی اظہار ہو رہا ہے۔
سینئر صحافی نوید چوہدری کے مطابق انہیں لگتا ہے کہ تنظیم سازی کے بغیر یہ عوام پاکستان پارٹی محض ایک تھنک ٹینک ہی ہے اور اسے ابھی حقیقی سیاسی جماعت بنانے کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہوگی۔ تاہم تجزیہ کار جاوید فارووقی کی رائے میں عوام پاکستان پارٹی ایک ایسے پارکنگ سٹینڈ کی طرح بھی بن سکتی ہیں جہاں پر الیکٹیبلز اور ناراض سیاسی رہنماؤں کو پارک کر کے اگلے انتخاب کے بعد پارلیمنٹ میں ایک ایسا گروپ وجود میں لایا جا سکے جو سیاسی حکومت پر ”مقتدر حلقوں‘‘ کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے دباؤ کے لیے استعمال ہو۔تجزیہ کار حسن عسکری سمجھتے ہیں کہ عوام پاکستان پارٹی کا بننا پاکستان میں پاور گیم کی روایتی سیاست کے خلاف رد عمل کا نتیجہ ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو توڑ کر نئی جماعتوں کی تشکیل کا عمل نیا نہیں ہے۔ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ اس عمل سے گزر چکی ہیں۔ امتیاز عالم کے مطابق، ”عوام پاکستان پارٹی کے پاس نہ ہوم ورک ہے، نہ نیا پروگرام، نہ نیا سیاسی نعرہ ہے اور نہ ہی ایسی شخصیت ہے جو عوام میں نمایاں مقبولیت رکھتی ہو۔‘‘ان کے بقول سرمایہ داروں کے منہ سے نظام کی تبدیلی کی بات سننا بڑا عجیب لگتا ہے اور یہ کہ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ جماعت ”کسی‘‘ کے کام آ سکے لیکن فی الوقت اس جماعت کا کوئی کردار دکھائی نہیں دے رہا۔ تاہم تجزیہ کار جاوید فارووقی کے خیال میں عوام پاکستان پارٹی بظاہر نظریے کی بات کر رہی ہے لیکن اس پر ناراضگی کا اثر زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔
ایسے میں یہ سوال بھی سیاسی حلقوں میں زیر گردش ہے کہ عوام پاکستان پارٹی کی تشکیل سے کونسی پارٹی کو نقصان پہنچے گا؟ مبصرین کے مطابق اگرچہ عوام پاکستان پارٹی میں اب تک سامنے آنے والے چہروں میں کئی سیاسی جماعتوں کے ناراض ارکان دکھائی دے رہے ہیں لیکن ان میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مہتاب عباسی اور سابق صوبائی وزیر زعیم قادری سمیت زیادہ تر کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے رہا ہے۔سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کے مطابق، ”پاکستان مسلم لیگ ن بطور ایک سیاسی جماعت اپنی شناخت کھوتی جا رہی ہے۔ اس کے بارے میں لمیٹڈ کمپنی کا سا تاثر ابھرنا شروع ہو گیا ہے۔‘‘ ان کے بقول میاں محمد نواز شریف کو اس سوال کا جواب لازمی ڈھونڈنے کی ضرورت ہے کہ ان کی پارٹی کے لوگ غیر مطمئن کیوں ہیں اور وہ کیوں پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ بعض دیگر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگرچہ نواز شریف کو حکومت سے نکال کر شہباز شریف کو وزیراعظم بنا دینے سے اس تاثر کو تقویت ملی تھی کہ نون میں سے شین نکل گئی، لیکن شاہد خاقان عباسی کے مسلم لیگ ن چھوڑنے سے اب لگتا ہے کہ واقعی ن میں سے شین نکل گئی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی جماعت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہی روز پہلے میاں نواز شریف نے اپنی ایک تقریر میں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ تاہم تجزیہ کار جاوید فارووقی کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کے والد ملٹری ڈکٹیٹر ضیا الحق کے ساتھ تھے: ”شاہد خاقان عباسی جب خود اہم پوزیشنوں پر رہے تو انہوں نے اس مسائل کے حل کے لیے کیا کوشش کی، جن مسائل کی وہ آج بات کر رہے ہیں۔ ان کی اپنی انرجی پالیسی پر سوالات اٹھے۔ ان کا ایل این جی والے کنٹریٹ بھی متنازعہ رہا۔ انہوں نے اپنی اصلاحات کے لیے ن لیگ کے اندر جدوجہد کرنے کی بجائے الگ سیاسی جماعت بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟‘‘ تاہم یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ یہ جماعت ابھی عوام تک نہیں پہنچی، اس لیے اس کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔
