کیاآپریشن عزم استحکام سے دہشت گردی کنٹرول ہوجائے گی؟

پاکستان میں گزشتہ دو برسوں کے دوران عسکریت پسند گروہوں کے مسلح حملوں اور خونریزی میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔رواں سال مختلف عسکریت پسند گروہوں کے حملوں میں اب تک دو آرمی افسروں سمیت کم از کم 62 فوجی اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردانہ کارروائیوں کے خاتمے اور مسلح عسکریت پسند گروہوں اور ان کے سہولت کاروں کو انجام تک پہنچانے کیلئے وفاقی حکومت نے عزم استحکام کے نام سے ایک نئے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا خاتمہ کرتے ہوئے اس مسلح مزاحمت کا قلع قمع کیا جا سکے۔ یہ آپریشن ملکی فوج کی طرف سے دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔تاہم مبصرین کو خدشہ ہے کہ پاکستان کی اس نئی فوجی مہم سے ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان حکمرانوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں میں سے زیادہ تر کی ذمے داری پاکستانی طالبان کی ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی، جو اپنی انتہا پسندانہ مذہبی تشریحات کے مطابق ملک کو ایک اسلامی ریاست میں بدلنا چاہتی ہے اور پچھلے کئی برسوں سے پاکستانی ریاست، حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف مسلح مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔پاکستانی طالبان اور افغان طالبان کی سوچ میں نظریاتی قربت پائی جاتی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے
خیال رہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان اگست 2021ء میں اس وقت دوبارہ اقتدار میں آ گئے تھے، جب امریکہ اور نیٹو کے فوجی دستے وہاں اپنی 20 سالہ جنگی تعیناتی کے آخری دنوں میں ہندوکش کی اس ریاست سے حتمی انخلا کی تیاریاں کر رہے تھے۔کابل میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان کی طرف سے کابل حکومت پر بار بار الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے افغان سرزمین پر پاکستانی طالبان کو محفوظ ٹھکانے مہیا کر رکھے ہیں اور ٹی ٹی پی کے شدت پسند وہاں سے پاکستان میں مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ کابل میں افغان طالبان کی طرف سے ان الزامات کی تردید کی جاتی ہے۔تاہم خیبر پختونخوا طویل عرصے سے مختلف مسلح شدت پسند گروپوں کا سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جن میں ٹی ٹی پی کے ساتھ ساتھ دہشت گرد گروپ ‘اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کی مقامی شاخ بھی شامل ہے۔تحریک طالبان پاکستان نے پاکستانی حکومت کے ساتھ کیا گیا ایک فائر بندی معاہدہ نومبر 2022ء میں یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ اس لیے ملکی فوج کے نئے آپریشن ‘عزمِ استحکام‘ میں زیادہ توجہ ان جنگجوؤں کو روکنے پر دی جائے گی، جو افغانستان کے ساتھ سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوتے اور مسلح حملے کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ابھی حال ہی میں تنبیہ کی تھی کہ عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستانی فوج افغان سرزمین پر کارروائیاں کرنے سے بھی نہیں ہچکچائے گی۔ پاکستان کی خود مختاری سے زیادہ اہم کچھ بھی نہیں۔‘‘اسی طرح پاکستان کے ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر بتایا، ”دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ انتشار پھیلانے والے ملک دشمن عناصر اور مذہبی انتہا پسندوں سب کے خلاف آپریشن کیا جائے گا، اس بات سے قطع نظر کہ کس کا مذہب یا فرقہ کیا ہے۔‘‘
اس تناظر میں دفاعی تجزیہ کار ماریہ سلطان کا کہنا ہے کہ”اس آپریشن کا مقصد پاکستان کے استحکام کو یقینی بنانا ہے، جس دوران اس چیلنج کا سامنا کیا جائے گا، جو بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان کو درپیش ہے۔‘‘ تاہم کئی سکیورٹی ماہرین کی رائے میں یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ ‘عزمِ استحکام‘ اسلام آباد حکومت اور کابل میں حکمران افغان طالبان کے مابین کشیدگی میں اضافے کی وجہ بن سکتا ہے کیونکہ مبصرین کھ مطابق پاکستان کی جانب سے شرپسندوں کیخلاف عزم استحکام آپریشن کے فیصلگ سے لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور افغان طالبان کی ثالثی کا وقت گزر چکا ہے اب حکومت اور فوجی قیادت نے دہشتگردی اور شدت پسندی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا فیصلہ کر لیا ہے اب اس میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔
تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاک فوج نے افغان سرزمین پر کارروائی کی، تو کابل میں طالبان حکومت کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں تجزیہ کاروںکاکہناہےکہ”افغان طالبان ایسی کسی بھی کارروائی کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی سمجھیں گے اور اس سے دوطرفہ کشیدگی میں اضافہ ہو گا، جس سے پاکستان کی مغربی سرحد پر مسائل مزید بڑھیں گے۔‘‘
تاہم کچھ مبصرین کی رائے میں پاکستان کو عسکریت پسندوں کے خلاف یہ نئی فوجی مہم شروع کرنے پر ملک میں چینی شہریوں پر کیے گئے متعدد حملوں نے بھی مجبور کیا ہے کیونکہ چینی شہریوں کو فول۔ہروف سیکیورٹی کی فراہمی کے حوالے سے اسلام آباد پر بیجنگ کی جانب سے سخت دباو ہے۔ اسی لئے وفاقی حکومت اور فوجی قیادت نے ملک میں پھیلتے ہوئے دہشتگردی کے اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ کرنے کیلئے عزم استحکام آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے
خیال رہے کہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں کی تعداد کا تخمینہ تقریباﹰ 29 ہزار لگایا جاتا ہے، جن میں سے 2,500 سے زیادہ چینی شہری چین پاکستان اقتصادی راہداری یا سی پیک کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
