ایاز صادق کے بیان کی بات پس منظر میں نہیں جائے گی

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت یہ نہ سمجھے کہ ایاز صادق کے بیان کی بات پس منظر میں چلی جائے گی۔
ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام گوجرانوالہ، کوئٹہ جلسوں کے ملک دْشمن بیانیے اور مزار قائد کی بے حرمتی کا حساب چاہتے ہیں، ان کی قومی اداروں کےخلاف زہر پھیلا کردشمن کو خوش کرنے کی مذموم کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، اس بناء پر اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت یہ نہ سمجھے کہ ایاز صادق کے بیان کی بات پس منظر میں چلی جائے گی۔
دوسری طرف سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے بیان کے بعد مسلم لیگ ن کے اندر سے فوج مخالف فوج مخالف بیانات کی بناء پر سیاسی جماعتوں پر پابندی کا مطالبہ کردیا گیا، ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی مولانا غیاث الدین کہتے ہیں کہ ایاز صادق کی طرف سے قومی اسمبلی کے فلور پر ملک دشمن زبان بولی گئی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے بیرونی قوتوں کی خواہش پر ملک دشمن بیان دیا ، اس لیے ضروری ہے کہ فوج مخالف بیان بازی پر سیاسی جماعتوں پر پابندی لگنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر باہر چلے گئے اب وہاں بیٹھ کر فوج مخالف بیانات دے رہے ہیں، جن کے ذریعے دنیا کی طاقتور ترین فوج کے طور پر جانی جانے والی پاک فوج کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، ن لیگ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع پر حمایت کی، تاہم بعد ازاں ڈیل نہ ہونے پر قومی ادارے کو بدنام کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں مسلم لیگ ن اور چند دیگر سیاسی جماعتیں مفادات کی خاطر قومی ادارے کے خلاف زہراگل رہی ہیں، فوج مخالف بیان بازی پر سیاسی جماعتوں پر پابندی لگنی چاہئے، اس کے ساتھ ساتھ ایاز صادق کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کرتا ہوں، جس کےلیے حکومت فوج کے ایکشن کا انتظار کئے بغیر کارروائی کرے، کیوں کہ ملک دشمن بیان پر بھارت میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں، ایاز صادق اور نواز شریف کے بیان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، مسلم لیگ ن فوج کے خلاف نفرتیں پیدا نہ کرے۔
