ایلون مسک ٹرمپ، یا بائیڈن میں سے کس کا انتخاب کرینگے؟

دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص ایلون مسک انتخابی مہم میں ٹرمپ کا ساتھ دیں گے یا پھر بائیڈن کو سپورٹ کریں گے، ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی صدارتی انتخابات میں اربوں ڈالرز خرچ کرتی ہیں جس کے لیے امریکا کی بڑی بڑی کاروباری شخصیات فنڈز فراہم کرتی ہیں۔رواں برس ہونے والے انتخابات میں پارٹی فنڈنگ سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں یہی سوال پیدا ہو رہا ہے کہ ٹیسلا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک کسی صدارتی امیدوار کو مالی معاونت فراہم کریں گے۔نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایلون مسک نے حال ہی میں ریپبلکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور انہیں صدارتی انتخابات میں مالی معاونت یقین دہانی کرائی۔تاہم گزشتہ روز ایلون مسک نے اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کو بنیاد بنا کر دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ انہیں انتخابی مہم کے لیے فنڈز فراہم کریں گے، ایلون مسک نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’میں یہ بالکل واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں امریکی صدر کے لیے نامزد کردہ کسی بھی امیدوار کی مالی معاونت نہیں کر رہا۔امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوبارہ صدارتی انتخاب کے لیے ڈونرز کی تلاش میں ہیں اور انہوں نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ایلون مسک اور دیگر امیر ریپبلکن ڈونرز سے ملاقات کی، دوسری جانب ایلون مسک کی ’ایکس‘ پر کی گئی سابقہ پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صدر جو بائیڈن کے بطور صدر دوبارہ انتخاب کے سخت مخالف ہیں۔ایلون مسک کسی بھی صدارتی امیدوار کی مالی معاونت کرنے کی تردید کر چکے ہیں۔ قبل ازیں، مسک نے خود کو سیاسی طور پر غیر جانبدار شخص قرار دیا تھا لیکن 2020 میں جوبائیدن کو اپنا ووٹ دیا تھا تاہم بعد میں انہوں نے بائیڈن انتظامیہ اور ان کے فیصلوں پر تنقید کی تھی۔واضح رہے کہ ایلون مسک کے موجودہ اثاثہ جات کی مالیت تقریباً 200 ارب ڈالر ہے اگر انہوں نے رواں برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مالی معاونت کی تو جو بائیڈن کو انتخابی مہم ہی نہیں بلکہ انتخابی نتائج میں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Back to top button