رشوت خوروں نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو الیکشن کیسے جتوایا ؟

8 فروری کے الیکشن میں جو گند پھیلایا گیا وہ آراوز یا پھر ان کے ہینڈلرز نے پھیلایا۔ الیکشن سے اگلی رات بعض آراوز اور ان کے ہینڈلرز کی طرف سے پیسہ لینے کی شکایت عام ہے ۔
حالیہ انتخاب کے کچھ پہلو ایسے ہیں جو کسی کو سمجھ نہیں آرہے ہیں کیونکہ جیتنے والے بھی خوش نہیں ہیں اور ہارنے والے بھی۔ جے یو آئی کا الزام ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس کی سیٹیں چھین کر اسٹیبلشمنٹ کی زیرعتاب جماعت تحریک انصاف کو دی گئی ہیں لیکن دھاندلی کی ملزم پی ٹی آئی بھی دھاندلی کا الزام لگارہی ہے اور جے یو آئی کو ساتھ لے کر احتجاج کرنا چاہتی ہے ۔ اسی طرح اے این پی کا الزام ہے کہ اس کی سیٹیں چھین کر پی ٹی آئی کو دی گئی ہیں ۔اسی طرح بلوچستان میں بعض قوم پرست جماعتوں کو شکایت ہے کہ ان کی نشستیں جے یو آئی کو دی گئیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار سلیم صافی نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان میں سوائے ایک کے کوئی انتخاب ایسا نہیں گزرا جس میں دھاندلی نہ ہوئی ہو یا ہارنے والے نے دھاندلی کا الزام نہ لگایا ہو۔ جہاں تک قبل از انتخاب یعنی پری پول رگنگ کا تعلق ہے تو وہ گزشتہ دونوں انتخابات میں ہوئی۔ 2018کے انتخاب سے قبل نیب اور دیگر ذرائع کو استعمال کرکے فوجی اسٹیبلشمنٹ الیکٹبلز کو مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے توڑ رہی تھی اور انہیں پی ٹی آئی میں شامل کروارہی تھی لیکن عملاً یہ کام 2011سے شروع ہوا تھا اور سات سال مسلسل ہوتا رہا ۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ 2024کے انتخابات میں نو مئی کی آڑ لے کر پی ٹی آئی سے لوگ توڑے جارہے تھے تاہم انہیں صرف مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا نہیں کہا جارہا تھا بلکہ پیپلز پارٹی، اے این پی ، جے یو آئی ، پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین ، آئی پی پی اور ایم کیوایم بھی جائے پناہ تھیں۔فرق یہ تھا کہ 2018میں تمام پارٹیوں سے جمع کرکے الیکٹیبلز کو صرف پی ٹی آئی میں جمع کیا جارہا تھا جبکہ اس مرتبہ پی ٹی آئی سے نکال کر شمولیت کیلئے آپشن زیادہ دئیے گئے تھے ۔ نو مئی کی وجہ سے اب کی بار سختی زیادہ تھی یا پی ٹی آئی کی فریاد سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ نظر آئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2018کی پری پول دھاندلی بڑی منظم اور موثر تھی ۔ دوسرا فرق دونوں انتخابات میں یہ تھا کہ 2018میں فوج کو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر تعینات کیا گیا تھا جبکہ 2024میں فوج کو براہ راست کردار سے باہر رکھا گیا 2018 کے الیکشن میں جب نتیجہ تیار ہورہا تھا تو ٹارگٹڈ پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا گیا ۔ پھر وہاں پر مرضی کے مطابق مطلوبہ تعداد میں مہریں لگوائی گئیں اور فارم 45تیار کئے گئے۔ پولنگ ایجنٹوں کی عدم موجودگی میں گنتی کی وجہ سے یہ انتخابات بالکل قابل وقعت نہیں رہے تھے اور شاید یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا کہ پولنگ ایجنٹوں کی عدم موجودگی میں گنتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مقامات پر تیسرے نمبر پر آنیوالے امیدوار کامیاب ڈکلیئر کئے گئے۔آج پی ٹی آئی والے فارم 45کا بہت ذکرکررہے ہیں لیکن گزشتہ الیکشن میں بعض امیدواروں کو فارم 45 نہیں دئیے گئے جبکہ مارکیٹ میں غیردستخط شدہ فارمز بھی گردش کرتے رہے ۔ اب کی بار فوج کا رول صرف امن و امان قائم رکھنے تک محدود تھا لیکن جو گند پھیلایا گیا وہ آراوز یا پھر ان کے ہینڈلرز نے پھیلایا۔ تاہم اب کی بار گنتی امیدواروں کی موجودگی میں کی گئی اور فارم 45بھی اکثر جگہ پر فراہم کئے گئے لیکن کچھ سیٹوں پرفارم 45اور فارم 47کے مابین موافقت نہیں تھی ۔
سلیم صافی کے مطابق اب کی بار الیکشن سے اگلی رات بعض آراوز اور ان کے ہینڈلرز کی طرف سے پیسہ لینے کی شکایت بھی عام ہے ۔ علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے فارم 45اپنی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے میں غیرمعمولی تاخیر کردی جس کی وجہ سے دھاندلی کی شکایت ہوئی۔2018 کے انتخابات کے نتائج کو صرف پی ٹی آئی نے قبول کیا تھا جبکہ اس کے علاوہ باقی تمام جماعتوں نون لیگ، پی پی پی، جماعت اسلامی، جے یو آئی، ایم کیوایم، حتیٰ کہ مصطفی کمال کی پاک سرزمین پارٹی نے مسترد کیا تھا جبکہ 2024کے انتخابات کو تین پارٹیوں یعنی نون لیگ ، پی پی پی اور ایم کیوایم نے تسلیم اور باقیوں نے مسترد کیا ہے لیکن اس مرتبہ جو کچھ ہوا مقامی سطح پر ہوا اور بعض جگہوں پر نہ سمجھ میں آنے والے نتائج اور الزامات سامنے آئے ہیں ۔ مثلا پی ٹی آئی بھی دھاندلی کا الزام لگارہی ہے اور جے یو آئی کو ساتھ لے کر احتجاج کرنا چاہتی ہے لیکن جے یو آئی کا الزام ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس کی سیٹیں چھین کر پی ٹی آئی کو دی گئی ہیں ۔ اسی طرح اے این پی کا الزام ہے کہ اس کی سیٹیں چھین کر پی ٹی آئی کو دی گئی ہیں ۔ اب یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ کس نے اور کیوں ان جماعتوں کی سیٹیں پی ٹی آئی کو دلوادیں کیونکہ بظاہر تو اسٹیبلشمنٹ کی زیرعتاب جماعت پی ٹی آئی تھی۔ اسی طرح محسن داوڑ جس نشست پر انتخاب لڑرہے تھے وہ جے یو آئی نے جیتی ہے لیکن دوسری طرف دھاندلی کی شکایت مولانا فضل الرحمان سب سے زیادہ کررہے ہیں۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے کہ ہمارے انتخابات میں دھاندلی کی لعنت ختم ہو۔ ایک نکتے میں اس کا جواب یہ ہے کہ قانون سازی کرکے الیکشن کمیشن کو بھارتی الیکشن کمیشن کے طرز پر مضبوط کیا جائے ۔ تمام جماعتیں باہمی مشاورت سے مزید قوانین بھی بناسکتی ہیں ۔ 2018کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ انتخابی اصلاحات کرتی لیکن ایسا کرنے کی بجائے وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین جیسے ڈراموں پر وقت ضائع کرتی رہی ۔ وہ اگر انتخابی اصلاحات کرلیتی تو آج اسے یہ دن دیکھنا نہ پڑتے ۔اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پاس موقع ہے کہ وہ ایسی انتخابی اصلاحات کرلیں کہ ہر قسم کی دھاندلی کا راستہ روکا جاسکے ۔ اب اگر ان جماعتوں نے اپنا یہ قومی فرض ادا نہیں کیا تو اگلے انتخابات میں پھر انہیں ایسےہی رونا پڑے گا جس طرح اب پی ٹی آئی رو رہی ہے

Back to top button