عارف علوی کا شمار پاکستان کے متنازع صدور میں کیوں ہوگا؟

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد عارف علوی کا شمار پاکستان کے متنازع صدور میں ہی کیا جائے گا، ’’اگر ہم اپنے آپ کو گڑھے میں پائیں تو حکمت کا تقاضا ہے کہ اللہ سے مدد مانگیں اور کم از کم مزید کھدائی بند کر دیں‘‘، صدر عارف علوی نے پاکستان کے حالیہ انتخابی نتائج کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر یہ طنزیہ جملہ لکھا تھا۔مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا شمار پاکستان کے متنازع صدور میں ہوگا اور اس کی وجہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے بعد کی صورتحال میں ان کا کردار ہے، ڈاکٹر عارف علوی کی پیدائش کراچی میں ڈاکٹر حبیب الرحمان علوی کے گھرانے میں ہوئی۔ تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل ڈاکٹر علوی کا گھرانہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا تھا، ان کے والد انڈیا میں ڈینٹسٹ تھے جو قیام پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہو گئے تھے۔ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ ان کے والد جواہر لال نہرو کے بھی ڈاکٹر تھے اور ان کی نہرو سے خط و کتابت ان کے پاس موجود ہے جبکہ فاطمہ جناح نے انھیں مھتاپیلس کا ٹرسٹی مقرر کیا تھا۔عارف علوی کے جسم میں ایک گولی آج بھی پیوست ہے، جو ایوب خان کی آمریت کے دنوں میں احتجاج کے دوران انھیں لگی تھی۔یہ 1969 کی بات ہے جب عارف علوی ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف مال روڈ پر احتجاج کر رہے تھے۔ ان دنوں وہ پنجاب یونیورسٹی سے منسلک ڈینٹل کالج میں زیر تعلیم ہونے کے ساتھ طلبہ یونین کے صدر بھی تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں جمہوریت کی بحالی کی اس تحریک میں دو گولیاں لگیں جس میں سے ایک آج بھی ان کے جسم میں موجود ہے۔عارف علوی نوجوانی میں سکواش اور کرکٹ کھیلتے تھے۔ اس وقت کے دیگر کئی لوگوں کی طرح وہ عمران خان سے متاثر تھے، 1996 میں جب تحریک انصاف کی بنیاد رکھی گئی تو عارف علوی بھی اس تنظیم سازی کا حصہ رہے، تحریک انصاف میں ان کا سیاسی سفر صوبائی صدر سے شروع ہوا۔ انھیں 1997 میں سندھ کا صدر بنایا گیا۔ 2001 میں وہ مرکزی نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 2006 میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری بنائے گئے اور 2013 تک اس عہدے پر رہے۔ یہی وہ دور ہے جب تحریک انصاف مینار پاکستان میں جلسہ عام کے بعد تبدیلی کا نعرہ لگا کر پورے ملک میں پھیل گئی۔عمران خان نے جب انتخابات نتائج کو مسترد کرکے سنہ 2014 میں اسلام آباد میں کنٹینر کے ساتھ دھرنا دیا تھا تو حکومت سے مذاکرات کی ٹیم میں عارف علوی بھی شامل تھے۔2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی جانب سے انھیں ایک بار پھر اسی نشست سے میدان میں اتارا گیا، جس پر نئی حلقہ بندیوں کے تحت این اے 247 بنی تھی جس پر انھوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کو شکست دیتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔تحریک انصاف جب سنہ 2018 کے انتخابات میں پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی تو صدارت کا منصب عارف علوی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا، ان سے قبل اس منصب پر کراچی ہی سے تعلق رکھنے والے ممنون حسین فائز تھے، عارف علوی بھی پاکستان کے ان صدور میں سے شامل تھے جنھوں نے اپنی مدت پوری کی۔ناقدین عارف علوی پر آئین کی خلاف ورزی اور 77 آرڈیننس جاری کر کے ایوان صدر کو ’آرڈیننس فیکٹری‘ میں تبدیل کرنے کا الزام لگاتے ہیں، سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کہتے ہیں کہ عارف علوی نے ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری بنادیا تھا، انھوں نے پیکا آرڈیننس جاری کیا، جس پر بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا اور اس کو آئین سے متصادم قرار دیا۔سینیئر صحافی فاروق عادل کہتے ہیں کہ قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس میں عدالت کا جو فیصلہ آیا وہ یہ تھا کہ صدر مملکت نے اپنا دماغ استعمال نہیں کیا؟ حامد میر کہتے ہیں کہ ’عارف علوی نے بغیر سوچے سمجھے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف نااہلی کا ریفرنس بھجوایا اور بعد میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔سینئر تجزیہ نگار مظہر عباس کی رائے میں عارف علوی نے اپنے قائد عمران کو بچانے کی کوشش کی بلکہ اپنی آئینی حدود سے زیادہ کوشش کی، وہ ان سے زیادہ توقع کر رہے تھے انھوں نے دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش کی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتہ کرانے کی بھی کوشش کی۔فاروق عادل جو ایوان صدر میں ڈائریکٹر میڈیا بھی رہے ہیں بتاتے ہیں کہ صدر مملکت کبھی بھی حلف لینے سے گریز نہیں کرتا، صدر ممنون حسین حلف لینے کے حق میں تھے ان کاموقف تھا کہ ہم نے کوئی آئینی بحران پیدا نہیں کرنا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عارف علوی ریٹائرمنٹ کے بعد اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکیں گے؟مظہر عباس کہتے ہیں کہ یقیناً وہ پارٹی میں فعال کردار اد کریں گے، ان کے مطابق ’آخری وقت میں جو چیزیں انھوں نے کیں شاید اس کو نظر انداز کرتے تو ایک اچھے نوٹ پر ان کا دور صدارت ختم ہوتا۔
