کیا کرپٹ مظاہر نقوی کو پنشن اور مراعات ملتی رہینگی؟

جب صدر عارف علوی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر چکے ہیں تو کیا وہ اب سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پر عمل کرتے ہوئے ان کو برطرف کر سکتے ہیں؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو سپریم جوڈیشل کونسل کے 7 مارچ کو جاری ہونے والے اعلامیے کے بعد پیدا ہو گیا ہے، جس میں سپریم جوڈیشل کونسل نے رائے دی ہے کہ جسٹس نقوی کو برطرف کیا جانا چاہیے تھا۔
مستعفی جج مظاہر علی اکبر نقوی بارے سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مجموعی طور پر 5 الزامات ثابت ہوئے۔

تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے مستعفی ہونے والے جسٹس نقوی پر کرپشن، بددیانتی اور مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے کے بعد کیا مظاہر نقوی اعلیٰ عدلیہ کے سابق ججز صاحبان کو ملنے والی مراعات وصول کرتے رہیں گے یا سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارس پر صدر انھیں عہدے سے برطرف کر دیں گے اور مطاہر نقوی اعلیٰ عدلیہ کے سابق ججز صاحبان کو دی جانے والی بھاری پنشنز اور مالی مراعات سے محروم ہو جائیں گے۔

سپریم کورٹ بار ایسوی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ کے مطابق سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ پہلے آیا جو صدر پاکستان نے منظور بھی کر لیا تو اب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا وہ استعفیٰ ختم کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ یقینی طور پر عدالت میں جائے گا، کیونکہ سپریم جوڈیشل کونسل کوئی عدالت نہیں۔ اور شاید مظاہر علی اکبر نقوی بھی اس معاملے کو عدالت لے کر جائیں گے کہ جب انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا تو ان کو برطرف کرنے کا اقدام خلاف آئین تھا۔ ویسے بھی صدر مملکت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے یا سفارش پر عمل درآمد کے پابند نہیں اور اب تو صدر بھی تبدیل ہونے جا رہا ہے اور ایسی صورت میں اگر نئے آنے والے صدر آصف علی زرداری اس معاملے پر کوئی کارروائی کرتے ہیں تو صدر کے عہدے کے بارے میں سوال پیدا ہو جائیں گے۔ اس لیے سب سے پہلے اس آئینی سوال کا جواب درکار ہو گا کہ آیا استعفے کو ختم کر کے کسی جج کو برطرف کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

دوسری طرف سابق نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جب سپریم کورٹ نے ریفرنس خارج کیا تو فیصلے میں کہا گیا کہ صدر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرتے ہوئے اپنا ذہن آزادانہ طریقے سے استعمال نہیں کیا۔ جسٹس نقوی کے معاملے میں صدر اپنا اختیار استعمال کر چکے ہیں اور اب نئی صورتحال میں صدر کے سامنے سوالات ہوں گے کہ آیا جس نقوی کے خلاف ٹرائل چلا انہیں اپنے دفاع کا موقع دیا گیا؟ اور کیا وہ کونسل کے سامنے پیش بھی ہوئے یا نہیں؟عمران شفیق کے بقول صدر مملکت اگر جسٹس نقوی کے استعفے کی منظوری سے متعلق اپنے فیصلے کو تبدیل نہیں کریں گے تو جسٹس نقوی کی پنشن اور مراعات جاری رہیں گی۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو نیب کارروائی کر سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سابق چیئرمین حسن رضا پاشا کا کہنا ہے کہ جب جسٹس نقوی کی کرپشن کا معاملہ سامنے آیا تو انہوں نے بطور چیئرمین، پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز کو بلا کر اس بات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا تھا کہ سب سپریم جوڈیشل کونسل میں الگ الگ درخواستیں دائر کریں گے، جو کہ کی گئیں۔ اور اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ 40-50کروڑ کا پلاٹ 12 کروڑ میں خریدا گیا، تو اب نیب کو اس میں کارروائی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک معمولی سرکاری ملازم وہ اے ایس آئی ہو یا پٹواری، اس کو جب برطرف کیا جاتا ہے تو اس کے پنشن سے متعلق مالی مفادات ختم ہو جاتے ہیں، تو ججوں کے معاملے میں یہ تضاد کیوں ہے کہ کسی جج کے خلاف جب ریفرنس دائر ہوتا ہے یا شروع ہوتا ہے تو وہ استعفیٰ دے دیتا ہے اور اس کے بعد سارے مالی مفادات سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور خود کو ریٹائرڈ جج بھی لکھ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک عام سرکاری ملاز م پر برطرفی کے بعد بھی جرم کے حوالے سے ذمے داری رہتی ہے تو بطور ایک عام شہری بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ ججوں کے معاملے میں ایسا کیوں نہیں ہے؟
حسن رضا پاشا نے کہا کہ آرٹیکل 209 جس کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا احتساب ہوتا ہے، اس میں کہیں نہیں لکھا کہ استعفے کی صورت میں کارروائی ختم کر دی جائےگی۔ اس لئے مظاہر نقوی کا بھی مکمل احتساب ہونا چاہیے۔

Back to top button