ایشیا کے امیر ترین امبانی خاندان کی طاقتور شخصیت کون ہیں؟

ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نہ صرف انڈیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے بلکہ اس کا شمار دنیا کی 100 بڑی کمپینیوں میں ہوتا ہے، ریلائنس توانائی، تیل، ٹیلی کمیونیکیشن، میڈیا، ٹیکسٹائل اور دوسری کئی سروسز کا کاروبار کرتی ہے، ریلائنس کو 1958 میں دھیروبھائی امبانی نے قائم کیا، دھیرو بھائی 2002 میں بغیر وصیت چھوڑے فوت ہوگئے تو ان کے بیٹوں مکیش امبانی اور انیل امبانی میں وراثت کا جھگڑا شروع ہوگیا، آخرکار 2005 میں ان کی والدہ کوکلابین نے صلح صفائی کروائی اور کمپنی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ریلائنس شروع میں یہ چھوٹی سی کمپنی مصالحوں اور پولیسٹر کے دھاگوں کا کاروبار کرتی تھی، مگر دھیرے دھیرے یہ پھیل کر بین الاقوامی کمپنی بن گئی۔ دھیرو بھائی کے دو بیٹوں مکیش امبانی اور انیل امبانی میں وراثت کا جھگڑا شروع ہو گیا اور کئی برس تک چلتا رہا، آخر 2005 میں ان دونوں کی والدہ کوکلابین دھیرو بھائی امبانی نے بیچ میں پڑ کر صلح صفائی کروائی اور کمپنی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔مکیش کو تیل گیس کا کاروبار ملا، جب کہ انیل کو بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن اور فنانشل سروسز لیکن ایک کے بعد ایک غلط کاروباری فیصلوں کی وجہ سے انیل دیوالیہ ہوگئے جبکہ مکیش دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے رہے اور آج 116 ارب ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ دنیا کے 10ویں مالدار ترین شخص ہیں۔مکیش کی اہلیہ نیتا ہیں جو سابق رقاصہ ہیں، وہ فلاحی ادارے ریلائنس فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ہیں۔ ان کی شادی 1985 میں ہوئی تھی۔ شادی کے چھ سال بعد اس جوڑے کے جڑواں بچے پیدا ہوئے، آکاش اور ایشا امبانی جبکہ چار سال بعد سب سے چھوٹا بیٹا اننت پیدا ہوا، ان تینوں نے امریکہ کی آئیوی لیگ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی اور اب وہ اپنے والد کے کاروبار کی مختلف شاخیں چلا رہے ہیں۔یہ دونوں بھائی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے اہم عہدوں پر فائز ہیں، براؤن یونیورسٹی سے اکنامکس میں گریجویشن کرنے والے آکاش امبانی ریلائنس جیو انفوکام میں چیف آف سٹریٹجی ہیں، ایشا امبانی، جو ییل یونیورسٹی سے نفسیات میں گریجویٹ ہیں، اب ریلائنس جیو انفوکام اور ریلائنس ریٹیل میں ڈائریکٹر ہیں۔سب سے چھوٹے بھائی اننت امبانی، جن کی اسی ہفتے قبل از شادی تقریبات جام نگر میں منعقد ہوئیں، نے بھی براؤن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے اور ریلائنس کے انرجی کے کاروبار میں ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔اننت کی ماں نے 2017 میں ٹائمز آف انڈیا کو بتایا تھا کہ بڑے ہوتے ہوئے، اننت دمے کے مرض میں مبتلا تھے، اس لیے انہیں بہت سارے سٹیرائڈ لینے پڑے جن کی وجہ سے ان کا وزن بڑھ گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مکیش، نیتا، اور تینوں بچوں کے ریلائنس لمیٹڈ کے 0.12 فیصد شیئر ہیں۔ہم نے بتایا تھا کہ انیل کے حصے میں ٹیلی کام کا بزنس آیا تھا لیکن انیل نے جو مختلف معاہدے کیے ان میں نقصان ہی نقصان ہوتا رہا، حتیٰ کہ ایک موقعے پر مکیش کو اپنے بھائی کو جیل جانے سے بچانے کے لیے سویڈش کمپنی ایرکسن کو آٹھ کروڑ ڈالر ادا کرنا پڑے لیکن انیل کے حصے میں جو چھ کمپنیاں آئیں، وہ سب کی سب گھاٹے میں جانے لگیں۔ انیل نے جو قرض لیے تھے، ان پر بھی مقدمے قائم ہوگئے حتیٰ کہ وہ دن آیا جب پچھلے مہینے انہوں نے لندن کی ایک عدالت کو بتایا کہ ان کے کل اثاثوں کی مالیت صفر ہے۔
