سستا تیل، اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری، سعودیہ نے خزانے کا منہ کھول دیا

معاشی دباؤ، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام کی ضرورت اور بیرونی ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے درمیان پاکستان نے اپنے دیرینہ اقتصادی شراکت دار سعودی عرب کے ساتھ ایک نئے مالی تعاون کے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں نہ صرف پاکستان کے پاس موجود پانچ ارب ڈالر کے سعودی ڈیپازٹ کو براہِ راست سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے بلکہ مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت دوبارہ بحال کرنے اور اس کی مدت ایک سال سے بڑھا کر دو سال کرنے کی درخواست بھی زیر غور ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس کی معاشی ٹیم اور سعودی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کو حالیہ برسوں کے اہم ترین اقتصادی مذاکرات قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کو نہ صرف قلیل مدتی مالی سہارا ملے گا بلکہ طویل المدتی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور بیرونی ادائیگیوں کے بحران سے نکلنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پانچ ارب ڈالر پہلے ہی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ ہیں اور ان کی رول اوور مدت 2028 تک بڑھانے پر دونوں ممالک اصولی اتفاق کر چکے ہیں۔ اب اسلام آباد کی کوشش ہے کہ اس رقم کو محض ایک قرض یا ڈیپازٹ کے بجائے براہ راست سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جائے تاکہ اس سے معیشت میں مستقل بنیادوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور صنعتی و انفراسٹرکچر منصوبوں کو تقویت ملے۔ اسی کے ساتھ پاکستان نے سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت بھی دوبارہ بحال کرنے کی درخواست کی ہے۔ گزشتہ معاہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد حکومت چاہتی ہے کہ یہ سہولت دوبارہ شروع کی جائے اور ادائیگی کا دورانیہ ایک سال کے بجائے کم از کم دو سال تک بڑھایا جائے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ اس اقدام سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی، زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ کم ہوگا اور مالی استحکام حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کے مطابق اگر سعودی عرب پاکستان کی یہ درخواست منظور کر لیتا ہے تو مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اضافی تیل سہولت حاصل ہو سکتی ہے، جو درآمدی بل اور بیلنس آف پیمنٹ کے لیے ایک بڑا ریلیف ثابت ہوگی۔مذاکرات صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ سعودی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی تجاویز پر تبادلہ خیال جاری ہے، جن میں توانائی، معدنیات، بنیادی ڈھانچے، صنعت، زراعت اور دیگر اقتصادی شعبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ مالی تعاون کو اب محض قرضوں کے بجائے سرمایہ کاری پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے مذاکرات کے دوران پاکستان میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، کاروباری ماحول کی بہتری، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور پائیدار اقتصادی استحکام کو سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ سعودی وفد نے حکومت کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے شفافیت، پالیسیوں کا تسلسل اور نجی شعبے کو سہولت فراہم کرنا ناگزیر ہوگا۔ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے پاکستان کے سامنے ایک طویل المدتی اقتصادی روڈ میپ بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت 2035 تک پاکستان کی برآمدات کو تقریباً 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد صرف برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ بیلنس آف پیمنٹ کے مستقل مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنا بھی ہے تاکہ معیشت بیرونی قرضوں پر انحصار کم کر سکے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کو سرمایہ کاری میں تبدیل کر دیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہوگا کیونکہ اس سے قرضوں میں اضافہ کیے بغیر ملکی معیشت میں براہ راست سرمایہ آئے گا۔ اسی طرح مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کی بحالی سے درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہیں گے اور حکومت کو مالی گنجائش ملے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مذاکرات اس بات کی بھی علامت ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے روایتی مالی تعاون کو اب طویل المدتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جس میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور برآمدات کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو پاکستان کی معاشی بحالی، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اور مالی استحکام کی راہ مزید ہموار ہو سکتی ہے۔

Back to top button