امریکا کا ایران پر حملہ، 80 سے زائد اہداف نشانہ، تیل رعایت بھی ختم

امریکا نے ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے 80 سے زائد اہداف کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت کے لیے دی گئی عارضی رعایت بھی ختم کر دی گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران بھر میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کو سمندری حملوں کی مبینہ سرگرمیوں پر بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنا اور اس کی بحری صلاحیت کو نقصان پہنچانا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے 60 سے زائد چھوٹے جنگی بحری جہاز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، جن میں خارگ آئل ٹرمینل، جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک شامل ہیں، میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک تجارتی گھاٹ پر میزائل کے ٹکڑے گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ بعض ماہی گیروں کی کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی۔ تاہم فوری طور پر کسی شہری ہلاکت کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

خارگ آئل ٹرمینل، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں، وہاں بھی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم امریکی فوج نے اپنے بیان میں اس تنصیب کو براہِ راست نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں کی۔

 

پاکستان اور بھارت کو ایک پلڑے میں نہیں تولا جا سکتا،خواجہ سعدرفیق

ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

 

Back to top button