بلوچستان میں حملہ: ٹی ٹی پی اور بی ایل اے نے ہاتھ ملا لیے

بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملائے جانے کے بعد سے بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں صوبے بھر میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دفاعی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اپنی کارروائیوں کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بلوچستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے عسکری اور حکومتی حلقوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مختلف شدت پسند تنظیموں کے درمیان عملی تعاون یا روابط میں اضافہ ہوا ہے تو اس سے عسکری کارروائیوں کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں کوئٹہ کے نواحی علاقوں ببری اور معروف سیاحتی مقام ہنہ اوڑک کے قریب ہونے والے حالیہ حملے کو بلوچستان کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں سینکڑوں مسلح افراد نے کئی گھنٹوں تک علاقے میں موجود رہ کر حملے کیے، متعدد افراد کو نشانہ بنایا، شہریوں کو اغوا کیا اور سکیورٹی اداروں کو کھلا چیلنج دیا۔ صوبائی حکومت کے مطابق حملے میں دو تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سے تقریباً 20 پولیس اہلکار لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق درجنوں مسلح افراد نے کوئٹہ سے شمال مشرق میں تقریباً 70 کلومیٹر دور ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مانگی ڈیم پراجیکٹ کے فیز تھری کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے اچانک یلغار کرتے ہوئے پولیس چوکی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں نو اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
ان واقعات نے نہ صرف بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ شدت پسند تنظیموں کی بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق حملہ آوروں کی منصوبہ بندی، نقل و حرکت اور کئی گھنٹے تک علاقے میں موجود رہنے کی صلاحیت غیرمعمولی نوعیت کی ہے۔
مبصرین کے مطابق کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ببری اور ہنہ اوڑک کے علاقوں میں ہونے والا حملہ اس لیے بھی غیرمعمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ صوبائی دارالحکومت سے محض 15 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ اس قربت نے شہریوں میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مقامی آبادی، جس کی اکثریت کا تعلق کاکڑ قبیلے سے بتایا جاتا ہے، کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے مشکوک مسلح افراد کی نقل و حرکت، دھمکیوں اور دباؤ کے بارے میں متعلقہ اداروں کو مسلسل آگاہ کر رہی تھی، مگر مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث صورتحال ایک بڑے حملے کی صورت اختیار کر گئی۔
احتجاجی تحریک کے رہنما مفتی محمد اعظم کاکڑ کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تقریباً 300 تھی اور ان کے پاس جدید خودکار ہتھیاروں کے علاوہ دو سے تین ڈرون کیمرے بھی موجود تھے جنہیں نگرانی اور رابطے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کے بقول حملہ آور کئی گھنٹے تک علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت کرتے رہے جبکہ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت مزاحمت کی۔ ان کے مطابق حملے میں چار شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ حملہ آور رات دس بجے تک علاقے میں موجود رہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے بروقت اور مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث حملہ آور اپنے منصوبے میں کامیاب رہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب علاقے میں مسلح افراد دیکھے گئے ہوں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران نامعلوم مسلح گروہ لوگوں سے خوراک، رہائش اور دیگر سہولیات کا مطالبہ کرتے رہے جبکہ انکار کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار احتجاج بھی کیا لیکن عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
بلوچستان حکومت نے اس حملے کا ذمہ دار تحریک طالبان پاکستان کو قرار دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق حملہ آور زرغون غر کے علاقے سے آئے تھے اور ان کا مقصد کوئٹہ اور گردونواح میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ حکومت کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کے مطابق آپریشن کے دوران تین شدت پسند مارے گئے جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے۔ دوسری جانب انسداد دہشت گردی فورس کے چار اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اغوا ہونے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے بھی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ احتجاج کرنے والے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملہ آور 13 افراد کو اپنے ساتھ لے گئے جبکہ حکومت نے سات افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اسی معاملے پر مشتعل شہریوں نے کوئٹہ ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا دے کر مغویوں کی فوری بازیابی اور شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دفاعی اور سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی دارالحکومت کے اتنے قریب شدت پسند گروہ منظم انداز میں کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں تو یہ بلوچستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ چند روز میں تحقیقات، جاری آپریشن، لاپتہ اہلکاروں اور اغوا شدگان کی بازیابی سے ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ حملے کے اصل محرکات کیا تھے، ذمہ دار کون تھے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کن نئے اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
