بالآخرعمران کو اڑتے تیر بغل میں لینے کا شوق مہنگا پڑ گیا

معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ ہمیشہ اڑتے تیر بغل میں لینے والے عمران خان کو یہ شوق مہنگا پڑ گیا ہے کیونکہ اب انہیں سیاسی طور پر دفنانے کا عمل عروج پر پہنچ چکا ہے۔ عمران خان کی سیاسی تدفین کا عمل شروع تو سست روی سے ہوا تھا مگر دو واقعات نے خان کو تیزی سے ایک تر نوالہ بنا دیا۔ پہلا واقعہ ہیلی کاپٹر کریش پر تحریک انصاف کے ٹرول بریگیڈ کا شہیدوں کے خلاف مجرمانہ اور سنگدلانہ مہم چلانا تھا جبکہ دوسرا واقعہ خان کا ایک جلسہ عام میں خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکیاں دینا تھا۔ صرف ان دو واقعات نے مہینوں کا کام ہفتوں میں کر ڈالا اور اب اگلے چند ہفتوں میں عمران اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ہمیشہ سے پاکستان میں تین سیاسی حقیقتیں رہی ہیں: یعنی حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اپوزیشن کے ذریعے حکومت کو ٹھکانے لگانے کے بعد مملکت کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لینے اور پھر دونوں فریقین میں سے اپنی مرضی کے بندے چُن کر ایک نیا سیاسی سیٹ اپ تشکیل دینے کا عمل مسلسل دہرایا جاتا رہا ہے اور آج بھی جاری ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے پاس ایک سہولت یہ ہے کہ وہ اپنی منشا اور فائدے کے لئے حکومت یا اپوزیشن جس کو بھی اور جب چاہے استعمال کرے اور جسے چاہے تل دے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے جب بھی کسی کو استعمال کر کے پھینکا، وہ کپڑے جھاڑ کر اس کے خلاف کھڑا ضرور ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ مجھے کیوں نکالا؟ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت بیانیہ ہمیشہ سیاستدان کو مضبوط کرتا ہے، اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے والے کو رفعتیں ملتی ہیں۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں منتخب وزیراعظم کا شکار ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کا مرغوب مشغلہ رہا ہے۔ سابق گورنر شاہد حامد اپنی کتاب میں اپنے والد بریگیڈئیر حامد کے حوالے سے ملک کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی برخاستی کا دلچسپ واقعہ لکھتے ہیں، "گورنر جنرل غلام محمد وزیر اعظم کو طلب کرتے ہیں، انکے پہلو میں کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان اور سیکرٹری دفاع جنرل اسکندر مرزا موجود ہیں، پھر خواجہ ناظم الدین سے استعفیٰ طلب کیا جاتا ہے۔ انہیں مخاطب ہو کر کہا جاتا ہے کہ خواجہ صاحب! آپ کی حکومت نا اہل اور کرپٹ ہے، چل نہیں پا رہی، آپ مستعفی ہوجائیں‘‘۔ خواجہ صاحب جواب میں پوچھتے ہیں کہ ’’کیوں؟ آپ کون ہوتے ہیں یہ مطالبہ کرنے والے؟ میں کسی صورت استعفیٰ نہیں دوں گا‘‘۔ اس پر گورنر جنرل کہتے ہیں کہ ’’تو پھر میں آپ کو برخاست کرتا ہوں‘‘۔ حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ نتیجتاً خواجہ صاحب کو گھر جانا پڑا۔ اس سے پہلے لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی ایک ناکام سازش ہوئی، جو 10مارچ 1951 کو ناکام بنائی گئی تھی۔ دورانِ ٹرائل جج صاحب نے سازش کے سرغنہ میجر جنرل اکبر خان سے پوچھا ’’آپ حکومت کا تختہ کیوں اُلٹنا چاہتے تھے؟‘‘ دوسری جانب سے ہکا بکا کر دینے والا جواب آیا کہ "لیاقت علی خان نااہل ہیں اور انڈیا کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں‘‘۔
خواجہ ناظم الدین کی جبری برخاستی کے بعد تو جیسے یہ سلسلہ چل نکلا۔ محمد علی بوگرا، چوہدری محمد علی، حسین شہید سہروردی، ابراہیم چندریگر، ملک فیروز نون، ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، بینظیر بھٹو، نواز شریف، ظفراللہ جمالی، یوسف رضا گیلانی اور پھر عمران خان۔ حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ بھلا اس کریڈٹ سے اسٹیبلشمنٹ کو کیسے محروم رکھا جا سکتا ہے۔ بلی چوہے کا کھیل لمحہ بہ لمحہ ،ایک تسلسل کیساتھ آج تک جاری ہے۔ اس ساری کارروائی میں جب بھی کوئی سیاسی پارٹی مضروب ہوتی ہے، تو اسکا مشتعل ہونا تو بنتا ہے۔جب کسی سیاسی جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا، اسے مقبولیت ملی۔ مگر بدقسمتی کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لینے کے باوجود سیاستدانوں نے اندر خانے دل جمعی سے فوج کے سیاسی کردار کی مخالفت کو اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا۔ اس دو عملی نے اسٹیبلشمنٹ کو ہر پریشانی سے محفوظ رکھا۔
جب اسیاسٹیبلشمنٹ کا آخری معرکہ ’’پروجیکٹ عمران‘‘ الیکشن 2018 کے نتیجے میں بھر پور کامیابی سے ہمکنار ہوا تو چند ہفتوں تک اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں یہ تاثر ضرور رہا کہ معاملہ کم از کم اگلے پندرہ سا ل کے لئے حل ہوگیا۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے اتحاد میں چند ماہ کے اندر ہی دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ نے خود کو دہرانا تھا۔شومئی قسمت کہ آج عمران اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایک صفحے کے پرزے ہوا میں اُڑ رہے ہیں اور سیاسی ماحول پراگندہ کر رہے ہیں۔ عمران خان سے پہلے بھٹو صاحب اور نواز شریف کو بھی یہ زعم تھا کہ ٹھاٹھیں مارتا عوام کا سمندر ان کے پیچھے ہے، لیکن جب وقت آیا تو معاملہ الٹا نکلا۔ ایک کو جسمانی طور پر مٹا دیا گیا اور دوسرے کو سیاست سے باہر کردیا گیا۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ کا دید لحاظ کرنا بنتا ہے۔ گیم پلان آج بھی وہی ہے، عمران خان کو اُس کی اوقات میں رکھنے کا بندوبست نہ کیا جائے، ایسا ممکن نہیں تھا۔ آج عمران کا سیاسی مستقبل مخدوش ہو چکا ہے۔ عمران کی ٹکراؤ اور تصادم کی سیاست اور بیانیہ عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کا حربہ ہے۔ دوسری جانب موجودہ حکومت کی شیلف لائن بھی پوری ہو چکی ہے۔ عمران کے ساتھ اس کی بھی چھٹی منظور ہو چکی ہے اور چند اتحادی پارٹیاں اشارہ ابرو کی منتظر ہیں۔ اِدھر اشارہ ہونا ہے اور اُدھر حکومت نے آرام سے اور دھڑام سے نیچے آ گرنا ہے۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ موجودہ حکومت بھی لڑ کر مرے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کا عزم اور ارادے اٹل ہیں، نگراں حکومت کا بندوبست ستمبر کے اختتام سے پہلے ہو جائے گا۔
