بالآخر کپتان بابر اعظم گرل فرینڈ کے الزامات پر بول پڑے


بالآخر قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اپنی مبینہ گرل فرینڈ کی جانب سے لگائے گے جنسی زیادتی کے الزامات کا جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بابر نے خاتون کے طرف سے اپنے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست پر جواب دینے کا کام اپنی لیگل ٹیم کو سونپ دیا ہے۔ 4 دسمبر کو لاہور کی سیشن کورٹ میں کپتان بابر اعظم کے خلاف اندارج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی جہاں بیرسٹر حارث عظمت کی زیر سربراہی بابر اعظم کی لیگل ٹیم نے وکالت نامہ سیشن کورٹ میں جمع کرا دیا۔ بابر اعظم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ گزشتہ روز پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے لیکن نہ تو اکزام۔کگانے والی خاتون آئیں اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی وکیل پیش ہوا۔
بابر کی مبینہ گرل فرینڈ حامزہ مختار کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ توقیر چوہدری عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ فاضل جج کی رخصت کے باعث سماعت ملتوی کی گئی تھی جب کہ پولیس نے گزشتہ روز رات گئے رابطہ کیا جس کے باعث ان کی موکللہ پیش نہ ہو سکیں۔ پولیس نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار خاتون سے کہا جائے کہ وہ حاضر ہو کر اپنا مؤقف پیش کرے تاکہ فریقین کی بالمشافہ گفتگو کرا کر حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جا سکے۔
نیوزی لینڈ میں سیریز کےلیے موجود بابر اعظم نے مقدمہ لڑنے کےلیے اپنے بھائی سفیر اعظم کو اختیار دے دیا ہے اور اب وہ اس سلسلے میں پاور آف اٹارنی کے منتظر ہیں۔ بابر اعظم کی وکلا ٹیم کی جانب سے وکالت نامہ جمع کروائے جانے کے بعد عدالت نے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے پولیس کو مکمل رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے والی ان کی مبینہ گرل فرینڈ حامزہ مختار نے اندراج مقدمہ کےلیے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ حامزہ مختار نے سی سی پی او لاہور کو درخواست میں فریق بناتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم بابر نے انہیں شادی کے بہانے 2012 سے مستقل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران وہ حاملہ بھی ہوئیں اور بعدازاں انہوں نے ملزم کے دباو پر اسقاط حمل بھی کروایا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اس سلسلے میں کوئی شکایت درج نہ کی۔ درخواست میں تھانہ نصیر آباد پولیس کو بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس درخواست سے قبل انہوں نے گزشتہ ہفتے پریس کانفرنس کے دوران پہلی مرتبہ سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ حامزہ نے مؤقف اپنایا تھا کہ 2010 میں بابر اعظم نے انہیں پروپوز کیا جسے انہوں نے قبول کر لیا، ہم شادی کا فیصلہ کرچکے تھے لہٰذا ہم نے اپنے خاندانوں کو آگاہ کیا لیکن دونوں کے بڑوں نے صاف انکار کر دیا جس کے بعد بابر ور میں نے کورٹ میرج کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2011 میں بابر اعظم مجھے کورٹ میرج کا کہہ کر میرے گھر سے بھگا کر لے گیا اور ہم مختلف مقامات پر کرائے کے مکانوں میں قیام پذیر رہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اصرار کے باوجود بابر اعظم نے ان سے نکاح نہیں کیا اور دعویٰ کیا کہ 2014 سے پہلے نوکری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا سیلون کھولا جس سے وہ کرکٹرز کے اخراجات برداشت کرتی رہیں۔ حامزہ نے دعویٰ کیا تھا کہ 2014 میں جب بابر اعظم کا نام پاکستانی کرکٹ ٹیم میں آیا تو ان کا رویہ آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا تھا، میں 2016 میں حاملہ ہوگئی تھی جب میں نے بابر اعظم کو بتایا تو سن کر ان کا رویہ بہت عجیب ہوگیا، مجھے مارا پیٹا اور میں ان کے اصرار پر اسقاط حمل پر مجبور ہو گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بالآخر تنگ آکر 2017 میں، میں نے بابر اعظم کے خلاف پولیس رپورٹ کی اور شکایت دیکھنے والے افسر نے بابر اعظم کو پیش کرنے کا کہا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے لیکن اسی رات بابر اعظم نے اس افسر کے سامنے ہمارے مشروط صلح نامے پر دستخط کروائے تھے، جس میں شرط یہ طے کی گئی تھی کہ بابر مجھ سے شادی کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 10 روز قبل میں نے ان کے خلاف دوبارہ شکایت درج کروائی، 20 نومبر کو بابراعظم نے بیرون ملک جانے سے قبل مجھے فون کرکے کہا تھا کہ اگر تم پولیس کے پاس گئی یا اب شادی کا مطالبہ کیا تو تم جان سے جاؤ گی اور تمہیں یہ بھی نہیں پتا کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا۔ حامزہ کا کہنا تھا کہ 10 سال تک حد سے زیادہ زیادتی کے بعد اب میں یہاں انصاف کےلیے آئی ہوں اور مجھے انصاف بغیر کسی دباو کے دیا جائے۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button