برطانیہ نے جولین اسانج کو امریکہ حوالگی کی اجازت دیدی
برطانیہ نے وکی لیکس کے بانی کو امریکہ کے حوالے کرنے کی اجازت دیدی ، لندن میں ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ امریکا کی یقین دہانی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اسانج کے ساتھ انسانی بنیاد پر برتاؤ کیا جائے۔
عدالت کی جانب سے ماتحت عدالت کے جج کو حکم دیا کہ وہ حوالگی کی درخواست سیکریٹری داخلہ کو بھیج دے جو برطانیہ میں قانون کے نفاذ کے امور دیکھتا ہے اور وہی جولیان اسانج کو امریکا بے دخل کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔ اپیلیٹ کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر اپیل کرنے کا امکان موجود ہے۔
ڈسٹرکٹ جج نے اسانج کو صحت مسائل کے باعث بے دخل کرنے کی درخواست مسترد کی اور کہا کہ اگر اسانج کو امریکا میں سختی کیساتھ جیل میں رکھا گیا تو وہ خودکشی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات میں ڈیڈ لاک: طالبان کا حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
امریکا نے اسانج کی صحت کی خراب حالت کی بنیاد پر دیئے گئے فیصلے کے خلاف اپیل کی ، وکیل جیمز لیوس نے موقف اپنایا کہ اسانج کی ذہنی حالت خراب ہونے کی ماضی میں کوئی شکایت نہیں ملی اور وہ شدید علیل بھی نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ نومبر 2010 میں سویڈن نے جولین اسانج کے عالمی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ، اس سے قبل ان سے جنسی ہراساں اور ریپ کے الزامات پر سوالات کیے گئے تھے تاہم انہوں نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیئے تھے۔
