بلوچستان: ضلع مستونگ میں کالعدم تنظیم کا ‘کمانڈر’ ہلاک

صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک کالعدم تنظیم کے مبینہ ‘کمانڈر’ کو ہلاک کردیا گیا۔ ملزم کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رہنما نوابزادہ سراج رئیسانی کے خود کش دھماکے میں قتل اور دیگر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ترجمان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سی ٹی ڈی نے ضلع مستونگ کے علاقہ پیرنگ آباد میں مشترکہ آپریشن کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کمانڈر کے ٹھکانے کا گھیراؤ کیا تو اس کے ساتھیوں نے فائرنگ شروع کردی، جس پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی جوابی فائرنگ کی گئی اور مسلسل فائرنگ کے تبادلے کے دوران کالعدم تنظیم کے کمانڈر کو موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ ‘کالعدم تنظیم کا کمانڈر نواب زادہ سراج رئیسانی کی انتخابی ریلی پر خود خش حملہ کرنے اور دیگر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا’۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود سمیت دھماکا خیز مواد بھی ٹھکانے سے برآمد ہوا۔ سی ٹی ڈی ترجمان نے مرنے والے کی شناخت محمد نواز عرف سندھی کے نام سے کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ فرد داعش عراق اور شام گروپ کا کمانڈر تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں 2 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ‘مقابلے’ میں ہلاک کردیا تھا۔
ترجمان رینجرز نے بتایا تھا کہ پیرا ملٹری فورس نے پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی اور ‘مقابلے میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد’ ہلاک کردیا۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ‘یہ (دہشت گرد) بم دھماکوں، بینک ڈکیتیوں، فرقہ وارانہ قتل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگوں کے قتل میں ملوث تھے’۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ رینجرز انٹیلی جنس اور سی ٹی ڈی کو خفیہ معلومات موصول ہوئی تھیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے استاد اسلم گروپ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند بلدیہ ٹاؤن کے رئیس یار محمد گوٹھ میں موجود ہیں، جس پر رینجرز کے شاہین گروپ اور سی ٹی ڈی پولیس نے گوٹھ کا محاصرہ کیا تھا۔
ترجمان کے مطابق ‘دونوں ملزمان حال ہی میں افغانستان سے کراچی آئے تھے اور وہ دہشت گردی کی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے’۔
