بوٹ پالش: ن لیگ خاقان اور خواجہ دھڑوں میں بٹ گئی

آرمی ترمیمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت پر نون لیگ کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد پارٹی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بوٹ کو عزت دینے والے اینٹی اسٹیبلشمنٹ دھڑے کے قائد سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہیں جبکہ بوٹ پالش کرنے والے اسٹیبلشمنٹ نواز دھڑے کی قیادت ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کے درمیان اختلافات کی خلیج ہر گزرتے دن کے ساتھ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ شاید خاقان عباسی، پرویز رشید، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ نے آرمی ترمیمی ایکٹ کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی گروپ کو یہ گلہ ہے کہ شریف برادران نے ان کو اعتماد میں لیے بغیر ایسا فیصلہ کر لیا جس نے پوری نون لیگ کے چہرے پر کالک مل دی ہے۔
تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ نیب حراست میں موجود شاہد خاقان عباسی نے خواجہ آصف کے ساتھ اختلافات میں کمی لانے کے مریم نواز کے پیغام پر عمل کرنے سے بھی معذرت کر لی ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ انھوں نے کبھی مفادات کیلئے سودے بازی نہیں کی، آرمی ایکٹ کی غیرمشروط حمایت سے پارٹی کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اور قیادت کی جانب سے بوٹ پالش کرنے کے فیصلے سے قبل اعتماد میں نہ لینے پر ان کے تحفظات برقرار ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی نظریں جہاں اقتدار پر ہیں، وہیں پارٹی میں اندرونی اختلافات بھی گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے رائے ونڈ میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سے ملاقات کی جسکے دوران مجموعی سیاسی صورتحال اور پارٹی امور کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران مریم نواز نے مفتاح اسماعیل کو ہدایت کی کہ وہ شاہد خاقان عباسی کو اپنے مؤقف میں نرمی لانے کے حوالے سے میرا پیغام پہنچائیں اور انھیں کہیں کہ حالیہ صورتحال میں پارٹی رہنماوں کے باہمی اختلافات کسی بھی صورت پارٹی کے مفاد میں نہیں اس لئے اپنی رنجشوں کو پس پشت ڈال کر پارٹی کو مضبوط بنانے کیلئے ملکر کوشش کریں۔
شاہد خاقان عباسی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم آرمی ایکٹ کی حمایت پر اعتماد میں نہ لینے پر سخت نالاں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف بوٹ چاٹ مہم کے سرخیل ہیں جنہوں نے یہ فیصلے کروانے میں اہم کر دار ادا کیا۔ اس لئے وہ خواجہ آصف سے صلح کے حوالے سے کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔
پارلیمنٹ ذرائع کے مطابق 14 جنوری کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنما رانا تنویر اور ایاز صادق خواجہ آصف کے ساتھ علیحدہ کمرے میں بیٹھے رہے جبکہ شاہد خاقان عباسی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے دفتر میں موجود رہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف نے ساتھیوں سے کہا کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت میں ان کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں تھا انھوں نے صرف پارٹی قیادت کے حکم کی بجا آوری کی، ان کی شاہد خاقان عباسی سے کوئی ذاتی رنجش نہیں۔ تاہم خواجہ آصف سے ملاقات کے بعد جب رانا تنویر اور سردار ایاز صادق اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں خاقان عباسی سے ملاقت کیلئے پہنچے تو شاہد خاقان عباسی نے یہ کہہ کر انہیں واپس کر دیا کہ وہ مفتاح اسماعیل اور مصدق ملک کے ساتھ اہم اجلاس میں مصروف ہیں۔
سابق وزیر اعظم کے طرز عمل سے پتا چلتا ہے کہ وہ خواجہ آصف سے کس حد تک نالاں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت سے تنقید کا نشانہ بننے والی لیگی قیادت ووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دینے کے فیصلے کا کیسے دفاع کرتی ہے خصوصاجب وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے ٹی وی پر بوٹ لہرا کر پوری نون لیگ کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button