بھارت سے نمٹنے کیلئے چار جہتی حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت سے نمٹنے کےلیے حکومت کی چار نکاتی حکمت عملی کی وضاحت کی اور اس بات پر زور دیا کہ بدلتی دنیا میں بین الاقوامی تنظیموں کی طرف دیکھنے کی بجائے قومی طاقت پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا۔
اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ(آئی پی آئی) کے زیر اہتمام ’مقبوضہ جموں و کشمیر کا ضمیمہ: علاقائی سلامتی کےلیے اسباق‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک ویبنار میں شریک وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک نئی دنیا ہے جو بہادر یا قبر ہے، اس کا انحصار ہم پر ہے جس کا ہمیں مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا زیادہ غیر یقینی، کم گوئی اور ان وجوہات کی بنا پر شاید زیادہ غیر فعال ہے۔ شاہ محمود قریشی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیموں کے بین الاقوامی قانون کے معاون نظام توقعات پر پورا نہیں اتر سکے لہٰذا ان ممالک کو ان تنظیموں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی طاقتوں پر انحصار کرنا ہوگا۔
ہندوستان کے توسیع پسندانہ ڈیزائنوں سے نمٹنے کےلیے حکومت کی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت چار جہتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، اس میں نئی دہلی کے ارادوں کا مقابلہ کرنا، اس کے ارادوں کو بے نقاب کرتے ہوئے پیچھے دھکیلنا، فوجی تیاری کے ذریعے مزاحمت کرنا، تنازعات کے حل اور اعتماد سازی کی فضا قائم کرنا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری، شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم میں شرکت کے ذریعے ہندوستان کے اقدامات سے اپنی توجہ نہ ہٹاتے ہوئے علاقائی اتحاد کے منصوبے جاری رکھنا، وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیائی علاقائی ممالک کی ایسوسی ایشن کی بحالی کےلیے کوششیں جاری ہیں۔
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ان شعبوں کی فہرست بتائی جہاں ان کے خیال میں سفارتکاری کا فقدان ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے مسئلہ کشمیر سے نمٹنے کے معاملے پر دفتر خارجہ کے خلاف احتجاج کیا تھا، ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ایک وسیع پیمانے پر معاملت کو دیکھنے کو کے بجائے سیاسی حرکیات پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے، انہوں نے تجویز دی کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچوں کے دکھوں کو جارحانہ انداز میں اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے اپنے موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے کشمیری خواتین کی حالت زار پر خواتین کی تنظیموں سے خاطرخواہ اپیل نہیں کی۔ ڈاکٹر مزاری نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت اشتعال انگیزی بڑھا رہا ہے اور کشمیر میں اس طرح کے اقدامات کر رہا ہے جو نسل کشی کے مترادف ہیں اور اس وجہ سے جنگ کا خطرہ اور زیادہ بڑھ رہا ہے، انہوں نے متنبہ کیا کہ اس تنازع کے اثرات محدود نہیں رہیں گے اور غیرارادی نتائج کے سبب اس کے اثرات محدود نہیں ہوں گے اور پڑوسی ممالک کو بھی متاثر کریں گے۔ انہوں نے کشمیر کے تنازع کے حل کےلیے 1998 میں ہوئے ’گڈ فرائیڈے ایگریمنٹ‘ کے ماڈل کی پیروی کی تجویز پیش کی جس میں شمالی آئرلینڈ کے تنازع کے تمام فریقین نے شرکت کی تھی اور دہائیوں سے جاری تشدد کا خاتمہ ہوا تھا۔
ویبنار میں پاکستانیوں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر، چین، ایران، ترکی، بنگلہ دیش اور نیپال کے علما کرام اور تھنک ٹینک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
