بھارت کے "مون پاور” بننے پر پاکستانی افسردہ کیوں؟۔

بھارت نے 23اگست2023 کو کامیابی سے اپنی چاند گاڑی ( چندریان3) چاند کی سطح پر اُتار دی ہے۔ بھارتی سائنسدانوں کی اِس کامیابی کی یہ خبر ہم سب پاکستانیوں نے بیٹھے اور افسردہ دل کے ساتھ سُنی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ’’چندریان 3‘‘کی کامیابی کی خبر کو خاص لفٹ نہیں کروائی گئی۔ پچیس برس قبل بھارت کے مقابلے میں ہم نے بھی ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کے برابر کھڑا ہوکر خود کو سرخرو کر لیا تھا لیکن اب ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ’’چندریان تھری‘‘ کا مقابلہ ہم کیسے اور کیونکر کریں؟ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار تنویر قیصر شاہد نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ انیس سو اٹھانوے میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو تین دن بعد پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکے کر ڈالے ۔ اور یوں وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستان جوہری اسلحہ کے حوالے سے بھارت کے ہم پلّہ ہو گیا۔ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے پاکستان اور بھارت میں ایٹمی مقابلہ برابر کا ہو گیا تھا۔ لاریب پاکستان کی یہ عظیم کامیابی تھی ۔ اِس کا کریڈٹ اگر نواز شریف اور نون لیگ لیتی ہے تو بجا لیتی ہے۔ جس وقت پاکستان نے نواز شریف کی قیادت میں ایٹمی دھماکے کرکے ساری دُنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا، پاکستانیوں کی مسرت کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ تنویر قیصر شاہد لکھتے ہیں کہ ویسے ’’چندریان3‘‘کے کامیابی کے ساتھ چاند کی سطح پر اُترنے کے موقع پر ہم نے بھی اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھا ہے ۔وہاں بھارت کے خلاف حسد کے سوا کچھ نہیں ملا ۔ بھارت کو ’’مُون پاور ‘‘ بننے پر مجھے احساسِ کمتری نے بھی آ گھیرا ہے اور اپنے پپیچھے رہ جانے کے خیال نے بھی ۔حیرت کی بات ہے کہ جس وقت بھارت کی چاند گاڑی، چندریان 3، کامیابی کے ساتھ چاند کی سطح پر اپنے پاؤں جما رہی تھی ، تقریباً اُنہی لمحات میں رُوس کی چاند گاڑی (Luna 25) چاند کی سطح سے ٹکرا کر پاش پاش ہو رہی تھی ۔ رُوس کے اِس خلائی مشن کی شدید ناکامی پر رُوس کو اس لیے بھی خفت اور ندامت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ رُوس نے تو امریکا سے بھی پہلے اپنی ایک چاند گاڑی ، کُتیا سمیت،خلا میں بھیج دی تھی۔ بھارت نے اِس سے قبل بھی چاند پر اپنا خلائی مشن اُتارنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی تھی ۔ بھارتی خلائی سائنسدانوں نے مگر ہمت نہ ہاری ۔ وہ اِس مشن سے جُٹے رہے ۔ بالآخر کامیابی نے اُن کے قدم چومے ہیں ۔ فطرت کا بھی یہی قانون ہے کہ جو کوئی محنت ، لگن اور کمٹمنٹ سے کام کرے گا، کامیابیوں کے پھل سمیٹے گا۔’’چندریان 3‘‘کی شکل میں بھارت نے چاند کے جنوبی حصے میں اپنی خلائی گاڑی کامیابی سے اُتار کو یوں دُنیا میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے کہ اِس سے قبل چاند کے اِس بنجر، ویران اور اونچے نیچے حصے میں اُن تین خوش قسمت عالمی قوتوں کو بھی اُترنے کا موقع نہیں ملا ہے جو بھارت سے قبل چاند کی سطح پر اپنے اپنے خلائی مشن اُتار چکے ہیں ۔ تنویر قیصر شاہد کہتے ہیں کہ چاند کو فتح کرنے والا بھارت اب چوتھا طاقتور ملک بن گیا ہے ۔ اِس غیر معمولی کامیابی پر ساری دُنیا سے بھارت کو مبارکبادیں اور شاباشیں مل رہی ہیں۔ ملنی بھی چاہئیں۔ پاکستان کی طرف سے بھارت کو مبارکباد نہیں دی گئی ہے۔شاید اس لیے بھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آجکل پھر تلخیاں شروع ہو چکی ہیں۔
چندریان تھری اگلے دو ہفتوں تک چاند پر رہے گا۔ اِس دوران وہ چاند کی مٹی کا تجزیہ بھی کرے گا، چاند پر پائی جانے والی نایاب اور قیمتی معدنیات بھی اکٹھی کرے گا اور یہ کھوج لگانے کی بھی کوشش کرے گا کہ آیا چاند کے ساؤتھ پول پر پانی یا برف کے آثار پائے جاتے ہیں. بھارتی چاند گاڑی کو چاند پر کامیابی سے پہنچانے کے لیے بھارت نے600کروڑ روپے سے زائد اخراجات کیے ہیں ۔ بھارت مگر مطمئن اور خوش ہے کہ اتنے اخراجات کرکے وہ کامیاب ہو چکا ہے ۔ بھارت کا وہ ادارہ جو ’’چندریان 3‘‘ کو چاند پر پہنچانے کا ذمے دار ہے ، ISRO کہلاتا ہے۔ اِس کا بجٹ75ملین ڈالر ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ پاکستان کا خلائی پروگرام بھارت سے پہلے آج سے63سال قبل شروع ہُوا تھا مگر ہمیں بد قسمتی سے وہ کامیابیاں نہیں مل سکی ہیں جو بھارت کے حصے میں آئی ہیں ۔ مبینہ طور پر پاکستان کا اِس شعبے میں بجٹ25ملین ڈالر ہے ۔ اتنے بھاری بجٹ کے باوجود کامیابیوں کی شرح کیا ہے، وہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ وطنِ عزیز کے ایک معروف دانشور اور مصنف نے ’’چندریان تھری‘‘ کی کامیابی کے موقع پر پاکستانی خلائی پروگرام کے پہلے چیئرمین کی فوٹو( معہ پاکستان کے پہلے راکٹ کی فوٹو) لگا کر ٹوئٹر پر یوں نوحہ لکھا ہے :’’جب اِس نامور پاکستانی سائنسدان کی توہین کی گئی اور اُنہیں ملک سے باہر بھاگنا پڑا تو پھر خلائی پروگرام کے حوالے سے ہمارے نصیب میں محرومیاں ہی لکھی جانی تھیں۔‘‘

Back to top button