پاکستانی کوہ پیماؤں کیلئے عالمی تربیت کیوں ضروری ہے؟

پاکستانی کوہ پیمائوں اور پورٹرز کو جدید تقاضوں کے ہم آہنگ بنانا ضروری ہے تاکہ وہ کوہ پیمائی کے دوران نہ صرف اپنے سفر کو بآسانی مکمل کر سکیں بلکہ راستے میں کسی کو ریسکیو کرنا پڑ جائے تو پیچھے نہیں ہٹیں۔پاکستان کے نوجوان کوہ پیما ساجد سدپارہ کہتے ہیں کہ وہ اس روز بیس کیمپ کے پاس ہی تھے جب انہیں ان کی ٹیم سے پتہ لگا کہ اوپر کسی پاکستانی پورٹر کی ہلاکت ہوگئی ہے۔ اس پورے واقعے کے بارے میں جان کر اور اس واقعے کی ایک وائرل ویڈیو دیکھنے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ یہ انسانیت سوز ہے کہ کوہ پیما کسی دم توڑتے شخص کے اوپر سے گزرکر جا رہے ہیں حالانکہ رسی فکسڈ ہونے کی وجہ سے ٹریکنگ اتنی دقت طلب نہیں رہتی کسی حسن کے جسم کو پھلانگے بغیر آگے سفر ناگزیر ہو۔انہوں نے کہا کہ محمد حسن نامی پورٹر کے ساتھ ان کے اپنے دو دوستوں کے علاوہ ناروے سے تعلق رکھنے والی کرسٹین ہاریلا کے فوٹوگرافر گیبرئیل رکے تھے۔ انہوں نے ہی انہیں راستے سے ہٹایا، پانی پلانے اور جانبر کرنے کی کوششیں کیں لیکن حسن نہیں بچ پائے۔ ساجد نے کہا جس مقام پر یہ حادثہ پیش آیا وہاں سے کسی کو زندہ یا مردہ نیچے لانا بھی آسان نہیں۔ بوٹل نیک کے نیچے کلائمبرز کی طویل قطارتھی جبکہ موسم بھی اچھا نہیں تھا۔ستائیس جولائی کو نصف شب کے بعد جب کرسٹین اپنی ٹیم کے ساتھ ریکارڈ قائم کرنے کے لئے اپنی آخری چوٹی کےٹو سر کر رہی تھیں ان کی اگلی ٹیم میں پاکستانی پورٹر محمد حسن، جو کہ پہاڑ پر رسی فکس کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے، کسی نا معلوم وجہ سے گر گئے اور بہت دیر سر کے بل لٹکے رہے۔ کرسٹین پر کئی کلائمبرز کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ حسن کو بچانے کے بجائے اپنے ریکارڈ کی فکر میں آگے روانہ ہوگئیں۔ وائرل وڈیو میں کئی کوہ پیماؤں کو حسن کے جسم کو پھلانگتے ہوئے چوٹی کی جانب بڑھتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔سال دو ہزار اکیس کے ونٹر سیزن میں اپنے والد محمد علی سدپارہ کو کےٹو کی مہم جوئی کے دوران کھونے والےساجد سد پارہ کہتے ہیں کہ پہاڑوں پر کسی کی مدد نا کرنے پر کسی کو مورد الزام بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا یہاں آنے والے ہر کلائمبر کا ایک مقصد ہوتا ہے، وہ اتنی دور تک بڑی محنت اور رقم خرچ کرکے پہنچے ہوتے ہیں جہاں کوہ پیمائی کے کام سے منسلک کمپنیز اپنے کلائنٹس کو ایک سے بڑھ کر ایک سہولتیں اور آسانیاں فراہم کرنے کی دوڑ میں ہیں وہیں کوہ پیما بھی نت نئے ریکارڈز کی تگ و دو میں نظر آتے ہیں۔پہاڑوں پر رہنے والے لو اور ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز کے لئے بھی عام طور پر موسم گرما ہی کمائی کا سیزن ہوتا ہے۔ کم اجرت پر دوسروں کا سامان ڈھونے والے اکثر پورٹرز بغیر کسی تکنیکی ٹریننگ اور ٹریکنگ گئیر کے ہی اپنی جان خطرے میں ڈالے ہوئے ہوتے ہیں اگر پاکستان میں بھی پرائیوٹ ہیلی سروس، سیزن کے دوران موجود ہو جو کہ سستی بھی ہو تو ریسکیو کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے پہنچ آسان ہوجاتی ہے۔ساجد سدپارہ نے پورٹرز کی تربیت اور ٹریننگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ یہ کام ایلپائن کلب آف پاکستان کا ہے کہ وہ بین الاقوامی کلائمبنگ فیڈیریشنز کے ساتھ باہمی تعاون سے پورٹرز کے لئے تربیت ممکن بنائے اگر پاکستان کے لوگ باہر سے تربیت لیکر اپنے ملک میں ماؤنٹین گائیڈز ایسوسی ایشن بنائیں تو وہ اپنے لئے اور پورٹرز کے لئے بہتر معاوضے، انشورنس اور دیگر مسائل پر قابو پانے کے لئے معاملات طے کرنے پر با اختیار ہونگے۔ساجد سدپارہ کے حوصلے گزرتے وقت کے ساتھ والد کے خواب کو پورا کرنے کے لئے مزید بلند ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق گو کہ ان کی والدہ منع کرتی ہیں مگر وہ والدہ کو سمجھاتے ہیں کہ موسم گرما میں کوہ پیمائی زیادہ خطرناک نہیں ہوتی۔ساجد سدپارہ نے اس سال کے آغاز میں اپنے والد کے نام پر بنائے گئے فلاحی ادارے علی سدپارہ فاؤنڈیشن کے تحت کےٹو کی صفائی مہم کا بھی اعلان کیا تھا۔ یہ صفائی مہم علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ کے دوست اور نیپالی ایکسپیڈیشن کمپنی سیون سمٹ ٹریکس کی معاونت سے انجام دی گئی۔ساجد سدپارہ کے مطابق اس سامان کو پیچھے چھوڑنے پر کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کے مطابق اتنی اونچائی پر کلائمبرکی جسمانی کنڈیشن اور موسمی صورتحال کچھ ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی ترجیح ان کی بحفاظت واپسی ہوتی ہے نا کہ سامان اور کچرا سمیٹ کر واپس لانا۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں دیگر بلند چوٹیوں کی صفائی کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

Back to top button