پاکستانی پرائیویٹ چینلز پر صحافتی اقدار کا جنازہ کیسے نکلا؟

پاکستان میں میڈیا اپنے ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے۔ ان میں اب بھی پختگی کی کمی پائی جاتی ہے۔ ملکی میڈیا انڈسٹری تقسیم کا شکار ہے،ایسے میں ایک طرف اینکر تو بھاری مراعات پا رہے ہیں مگر دوسری طرف ورکنگ کلاس صحافیوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اسی معاشی ناہمواری نے کرپشن کو فروغ دینے میں اہم کردارادا کیا۔ نواز شريف کے دوسرے دور حکومت ميں الیکٹرانک ميڈيا کے آنے کے بعد حکومت اورپرنٹ ميڈيا کے درميان فاصلے بڑھ گئے۔ ایک واضح خليج اس وقت نماياں ہوئی، جب جنرل پر ويز مشرف کے دور ميں ٹی وی چينلز کی ‘مشروم گروتھ‘ ہوئی اور پھر شام کے اوقات ميں ہر ٹی وی چينل کی اسکرين پر جھگڑوں، چيخ و پکار اور طوفان بدتميزی سے بھرپور پوليٹيکل ٹاک شوز کا آغاز ہو گيا۔

پاکستان کے سب سے زیادہ طاقتور اور با اثر وفاقی سیکرٹری اطلاعات سمجھے جانے والے انورمحمود بہت سے رازوں کے امین ہیں۔ مشرف دورمیں نئے ٹی وی چینلز کے آغاز اور کراس میڈیا اونرشپ ان ہی کے دور میں ہوئی۔ سابق سیکرٹری اطلاعات انورمحمود نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافت میں کرپشن کا آغاز الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد نہیں بلکہ نوے کی دہائی میں پرنٹ میڈیا سے ہوچکا تھا۔انہوں نے کہا، ’’ لفافہ اورپلاٹ کا کلچر اسی دورمیں متعارف ہوچکا تھا ، بعد میں جنرل مشرف کے دورمیں جب وہ سیکرٹری اطلاعات تھے تو اُس وقت پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلز لانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم اس سابق اعلی بیورو کریٹ کے مطابق، ’’اس وقت کے وزیراطلاعات شیخ رشید نے کراس میڈیا اونرشپ کی اجازت دے دی، یوں ٹیلی ویژن چینلز کی مشروم گروتھ شروع ہوگئی۔ اسی وجہ سے ناتجربہ کاراور کم تعلیم یافتہ لوگوں نے الیکٹرانک میڈیا کا رخ شروع کردیا، دیگر کاروباری بھی صحافت کے میدان میں کود گئے، ان کے اپنے مقاصد تھے اور پھرصحافت گم ہوگئی کمرشل ازم زیادہ ہوگیا ۔‘‘ اس کے ساتھ پھرکرپشن کوکوئی نہیں روک سکتا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

میڈیا کے ابتدائی دورسے ہی کچھ اينکرز کو فوجی اسٹبلشمنٹ نے گود لے ليا، باقی جو بچے انہيں مسلم ليگ ن، پيپلز پارٹی، اور تحريک انصاف نے اپنے اپنے مفاد ميں جمہوريت کے نام پر خوب استعمال کيا، يوں ٹی وی اينکرز کو يہ گمان ہوگيا کہ وہ حکومتيں گرانے اور بنانے ميں اہم کر دار ادا کر سکتے ہيں۔ اس سوچ کی بنيادی وجہ يہ تھی کہ ان اينکرز ميں صحافی کم اورحادثاتی طور پر الکٹرانک ميڈيا سے وابستہ ہونے والوں ميں، ڈاکٹرز، انجينيئر، نرسز،مڈوائف، گيسٹ ريليشن آفيسرز، ايئرہوسٹس ، بيو ٹيشن ، سابق سفارتکار، سب اينکر پرسن بن کر ميڈيا انڈسٹری میں کود پڑے، جس کی وجہ سے صحافتی اقدار کا جنازہ نکل گیا،،

سینیئرصحافی اورتجزیہ کارمظہرعباس کا کہنا ہے کہ ماضی کی نسبت اب صحافیوں اورصحافت کو قدرکی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا،پھرصحافیوں کا معیاربھی وقت کے ساتھ گراوٹ کا شکارہے۔ اخبارات میں ایڈیٹرکا ادارہ ختم ہوگیا ہے مالکان خود ایڈیٹربنے ہوئے ہیں یا کمزورشخصیت کو ایڈیٹربناکرکام چلارہے ہیں۔ ساٹھ یا ستر کے عشرے میں صحافت کا جو معیارتھا وہ آج نظرنہیں آتا۔ میڈیا میں کرپشن بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہےاورلوگ اس پر اعتبارکرنے کو تیارنہیں۔ مظہر عباس نے کہا کہ ٹیلی ویژن چینلز کی مشروم گروتھ کی وجہ سے کئی ایسے لوگ صحافت کے شعبے میں آگئے، جن کا پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کا پس منظرنہیں تھا ۔ صرف اپنے مقاصد،طاقت کے حصول اوراعلیٰ سیاسی حلقوں میں اثرورسوخ قائم کرنے کے لے میڈیا ہاؤسزقائم کئے ،نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

معروف اینکرپرسن عاصمہ شیرازی کے خیال میں الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد میڈیا میں کرپشن میں اضافہ نہیں ہوابلکہ پرنٹ کے زمانے سے یہ سلسلہ جاری ہے تاہم الیکٹرانک میڈیا کے آنے پرپرنٹ میڈیا میں کام کرنے والوں بہترمواقع میسرآئے،صحافی معاشی طور پرمستحکم ہوئے کیونکہ پرنٹ میڈیا کی نسبت الیکٹرانک میڈیا میں معاوضہ بہترتھا۔ لہٰذا ان کے خیال میں میڈیا میں کرپشن میں کمی واقع ہوئی،انکاکہنا ہے کہ میڈیاکے کچھ لوگوں پرالزام ہے کہ وہ مبینہ طورپرمالی کرپشن میں ملوث ہیں مگر یہ محض الزام ہے، ثبوت نہیں ہیں۔اسٹیبلشمنٹ کی میڈیا میں مداخلت پرعاصمہ شیرازی نے کہا کہ مداخلت ضرورہے کیونکہ یہ عناصربعض غیرصحافی شخصیات کو ٹیلی ویژن اسکرین پربٹھاکرمالی فوائد پہنچاکرمیڈیا کی طاقت کا بے جااستعمال کرتے ہیں،جس کی وجہ سے جہاں میڈیا کامعیارکم ہواوہیں عام آدمی میڈیا پراعتماد نہیں کرتااوریہ ایک بڑانقصان ہے۔

Back to top button