لیاری گینگ وار کے شرپسند دوبارہ کراچی میں سرگرم

۔کراچی میں لیاری گینگ وار کے 35 گروپس دوبارہ سرگرم ہو گئے ہیں۔ جن کو کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں سمیت بلوچستان اور بیرون ملک سے بھی چلایا جا رہا ہے۔ روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق عام انتخابات کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ بعض سیاسی پارٹیوں کی سرپرستی رکھنے والے گینگ وار کارندے علاقوں میں واپس آ رہے ہیں۔ لیاری، پاک کالونی اور ملیر سمیت دو درجن سے زائد بلوچ آبادیوں میں نیٹ ورک چل رہے ہیں۔ جبکہ شہر میں جرائم کی شرح بڑھنے کی اہم وجوہات میں گینگ وار گروپوں کا سرگرم ہونا شامل ہے۔گینگ وار کےمتحرک ہونے والے 35 گروپوں میں شکیل بادشاہ، ملاعتیق، جبران ، شاکر عرف ناکا، اویسں، جمیل چھانگا، رمضان عرف رمضانی، رضوان پینڈو، شفیع پٹھان، شیراز زری، سکندر عرف سکو، سہیل ملا، تاجو استاد، وصی لاکھو، شاکر افشانی، زاہد شوٹر، زائد لاڈلہ، یعقوب ماہا، اسماعیل پٹنی، فیصل پٹھان، فاروق مایا، بلال راشد، بہادر پی ایم ٹی (PMT)، ایاز زہری، ارسلان، احمد علی مگسی ، آغا شوکت ، آغا شریف، سلیم چاکلیٹی، سردار ماجد، سلام عرف سلیم، ساجد، سمنیہ عرف بلو اور فواد مادی شامل ہیں۔ جبکہ ایرانی تیل، منشیات، گٹکے کے نیٹ ورک کے علاوہ جواسٹہ، لوٹ مار، اسٹریٹ کرائمز ، بھتہ خوری اور اجرتی قاتلوں کے نیٹ ورک بھی ان گروپوں میں شامل ہیں۔ کالعدم داعش، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ کے علاوہ کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں سے رابطے بھی چل رہے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی اداروں نے بھارتی جاسوس اور اس کے سہولت کار کی گرفتاری کے بعد گینگ وار کے نیٹ ورک کی نگرانی اور چھان بین تیز کر دی ہے۔

واضح رہے کہ پاک کالونی کے علاقے جہان آباد کے رہنے والے حاجی لالو کے بعد اس کے بیٹے ارشد پپو کا دور بھی ختم ہوا تو رحمان ڈکیت کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد اس کا بیٹا جبران جرائم پر پیشہ گروپ چلانے لگا جو گرفتار ہو چکا ہے۔ جبکہ لیاری کے عزیر بلوچ ، غفارز کری، بابالاڈلہ کے دور میں درجنوں کارندے کمانڈ کرتے رہے تھے۔ سیکورٹی اور تحقیقاتی اداروں کی دن رات کاوشوں اور قربانیوں کے بعد لیاری گینگ وار کا خاتمہ ہوا تھا۔ تاہم اب تحقیقاتی اداروں کے مطابق گینگ وار کے 35 گروپس کراچی میں پھر سرگرم ہیں۔ تاہم چھوٹے بڑے گروپوں میں سے بعض گروپس کے کمانڈر یا تو سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں مارے گئے یا بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں۔ تاہم اب ان کے گروپس چل رہے ہیں۔ کراچی کے اندر بالخصوص ابراہیم حیدری کے ساحلی علاقوں میں سیاسی حیثیت رکھنے والے ساحلی وڈیروں کی پناہ گاہوں میں موجود رہ کر کام کر رہے ہیں۔ بعض بلوچستان یا سندھ کے شہروں ٹنڈوالہ یار، کوٹری، حیدر آباد، قاسم آباد، میر پور خاص، والکرٹ کالونی سمیت دیگر جگہوں پر موجود رہ کر نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ جبکہ کچھ شرپسند بیرونی ملکوں کے اندر خاص طور پر ملائیشیا، مسقط، ایران ، دبئی اور جنوبی افریقہ میں بیٹھ کر نیٹ ورک آپریٹ کر رہے ہیں۔ کراچی میں لیاری اور پاک کالونی کے علاقوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔جہاں پر گینگ وار کے نیٹ ورک کام کر رہے ہیں۔وہاں جوا، سٹہ، منشیات، گٹکے کے کاروبار کے علاوہ اجرت پر قتل کی وارداتیں کرنے ، اسٹریٹ کرائم اور لوٹ مار، بھتہ خوری اور ایرانی تیل کا کام عروج پر ہے۔ سیکورٹی ادارے ٹارگٹیڈ، سرچ ، کومبنگ آپریشن کر رہے ہیں ۔

خیال رہے کہ لیاری میں چند سال قبل بھی سندھ اور بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ کالعدم داعش اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ رہا تھا۔ جبکہ بی ایل اے، بی ایل ایف ایس آراے، سندھ پیپلز آرمی کے سلیپرز سیل میں دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے چھان بین کی جا رہی ہے۔

Back to top button